اظہار خیال/فیصل یاسین راجہ

دو روٹیاں

وہ ایک مجذوب شخص تھا جو دنیا و مافیا سے بے غم و بے نیاز بھرے بازار میں سے گزر رہا تھا۔ پھٹے پُرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا ، ایک پاؤں میں جوتا اور دوسرا پاؤں محروم جوتاتھا ، داڑھی لمبی اور بے ترتیب تھی ، بال کھلے اور بکھرے ہوئے تھے ، گلے میں سے تسبیح لٹک رہی تھی اور منہ ہی منہ میں کچھ ادا کر رہا تھا۔

سب لوگوں کی نگاہیں اُس کی جانب اُٹھ رہی تھیں جس کی وجہ اس کا لباس اور حلیہ نہیں تھا بلکہ ایک تندوری روٹی تھی جو اُس نے سر پر رکھی ہوئی تھی۔ عجیب نرالا انداز تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو پہلے عجیب سا محسوس ہوا لیکن جب اس کی روشن اور چمکتی آنکھوں سے آنکھیں ملائیں تو میرے ذہن کے گوشوں میں بے شمار اسرار وروموز کھلنے لگے۔ سوچا کہ قارئین سے شیئر کرتا جاؤں ۔

اول، اس کے سر پر تندوری روٹی سے اہل ِ بازار کے لئے یہ واضح پیغام تھا کہ یہاں سب اسی روٹی کے حصول کے لئے سرگرداں ہیں اور جس کے لئے وہ کیا کیا جتن اور پاپڑ نہیں بیلتے ۔ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ، ناپ تول میں کمی ، ذخیرہ اندوزی ، غلط بیانی ، سودی کاروبار ، جھوٹ اور دھوکے کے سہارے سے مال کی خرید و فروخت ، الغرض بے شمار غلط حربے استعمال میں لا کر ہم اس روٹی کا حصول کرتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ اپنی آخرت کی بربادی کا سامان کررہے ہیں۔ بس ہماری عقل کو دو وقت کی روٹیوں کے بھوت نے اپنی مضبوط گرفت میں لیا ہوتا ہے۔
بقول نظیر اکبر آبادی۔
دیوانہ آدمی کو بناتی ہیں روٹیاں
خود ناچتی ہیں سب کو نچاتی ہیں روٹیاں

دوم ، اس کا لباس ، حلیہ اور سر پر روٹی یہ پیغام دے رہی تھی کہ دنیاوی لذتوں سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے ۔ اگر عمدہ و شائستہ لباس سے رزق ملتا تو آج وہ اس تندوری روٹی سے محروم ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک فقیر بادشاہ کی دعوت میں شرکت کے لئے گیا۔ دربان نے جب اُس کا پھٹا پُرانا لباس دیکھا تو اندر جانے کی اجازت نہ دی۔ فقیر واپس چلا گیا اور کچھ دیر بعد عمدہ اور خوب صورت لباس پہن کر حاضر ہوا۔ اس مرتبہ دربان نے اجازت دے دی۔ کھانا شروع ہوا تو فقیر نے کھانا کھانے کی بجائے کپڑوں پر گرانا شروع کر دیا ۔ بادشاہ نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اس کی اس حرکت پر استفسار کیا تو فقیر نے ساراواقعہ سنا دیا۔ پس ہم نے بھی ظاہری شکل و صورت اورحلیہ و لباس کے ساتھ رزق کا ناطہ جوڑلیا ہے۔

سوم ، مجذوب کی سر پر روٹی رکھنے سے مراد یہ بھی ہوسکتی تھی کی کہ رزق دینے والی ذات اعلیٰ و ارفع ہے جس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔

چہارم ، جو رزق انسان کے مقدر میں لکھا گیا ہوتا ہے وہ انسان کو مل کر ہی رہتا ہے۔ کہنے کو تو انسان رزق کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ رزق خود انسان کو تلاش کرتا پھرتا ہے۔ فرمان ایزدی ہے ۔ ’’ اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق اﷲ کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے ، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں لکھا ہوا ہے ‘‘۔

پنجم ، دنیا کی مثال ایک سرائے کی مانند ہے۔ جہاں بیٹھنے کی جگہ ملے گی وہیں بیٹھ کے روٹی کھا لینی ہے اور آگے بڑھ جانا ہے ۔ جتنا میں اُس مجذوب کو دیکھ رہا تھا اتنا میری ذہن کی گرہیں کھل رہی تھیں۔

ششم ، رزق امیر و غریب سب کو ملتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے رزق کا وعدہ سب سے کیا ہوا ہے لیکن بخشش کا وعدہ سب سے نہیں کیا۔ پھر بھی نادان انسان رزق کے لئے پریشان ہے اور مغفرت سے بے فکر ہے۔

ہفتم ، اپنی دنیا ، یعنی خواہشات کو محدود رکھیں۔زندگی پُر سکون ہو جائے گی اور سارے گلے شکوے دور ہو جائیں گے۔

زمانہ طالب علمی میں ہمارے ایک پرنسپل فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم طالب علم تھے تو دو روٹیاں ملا کرتی تھیں ، لیکچرر بنے پھر بھی دو روٹیاں ملتی رہیں ، چیئرمین بورڈ تعینات ہوئے ‘ وہی دو روٹیاں اور اَب پرنسپل بنے ‘ وہی دوروٹیاں مل رہی ہیں۔آج اس مجذوب نے اپنے عملی مظاہرے سے پرنسپل کی بات ذہن کے خانوں میں ڈالی ۔

نظیر اکبر آبادی نے بالکل ٹھیک ہی فرمایا ہے کہ یہی روٹیاں انسان کو دن بھر ، مہینہ بھر ، سال بھر ، الغرض عمر بھر نچاتی رہتی ہیں۔

کالم کے بارے میں اپنی تجاویز اور آراء سے آگاہ کرنے کے لیےفیصل یاسین راجہ کوای میل کریں: faisalraja809@gmail.com.