وفاقی کابینہ کا اجلاس،شیخ رشید کی مخالفت پر گلگت بلتستان عبوری صوبہ بنانے کا معاملہ پھر موخر

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں چھ اہم صنعتوں کو گیس سپلائی بحال کرنے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی منظوری دی گئی، اجلاس میں گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب سٹیٹ ویوز کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے مسلم کانفرنس اور کشمیری لیڈرشپ کی تحریک پر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی تجویز پر نظرثانی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں جب یہ معاملہ پیش کیا گیا تو شیخ رشید نے اس کی پرزور مخالفت کی اورکہا کہ کشمیری لیڈرشپ اور حریت کانفرنس سمیت اس کے بہت سارےاسٹیک ہولڈرز ہیں ان کو اعتماد میں لئے بغیر ایسا فیصلہ نہیںہر گز نہیں کیا جاسکتا۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس فیصلے سے قومی اور بین الاقوامی طورپر کشمیر کاز پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور وزیراعظم نے بھی ان کی تائید کی۔
وزیرریلوے شیخ رشیداحمد نے اس سے قبل وزیراعظم سے بھی ملاقات کرکے صورتحال کی حساسیت سے آگاہ کیا تھا ۔ مسلم کانفرنس، حریت کانفرنس اور کشمیری لیڈرشپ نے سردار عبدالرازق ایڈوکیٹ کے ذریعے شیخ رشید تک اپنا موقف پہنچایا تھا۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں ترجمان وزیراعظم افتخار درانی نے بتایا کہ کابینہ کے اب تک ہونے والے پندرہ اجلاسوں کے بیشتر فیصلوں پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے کہا ہے کہ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لئے بڑا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مالی خسارے میں 7 ارب ڈالرز تک کمی لانے کے لیے بھی حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ نے 6 اہم صنعتوں کو گیس سپلائی بحال کرنے، چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی کے تقرر، کینیڈا کے ساتھ انسداد منشیات فورس کے معاہدے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ممبران کے تقرر، کابینہ کی دستاویزات کی رازداری سے متعلق اقدامات اور عالمی انسداد کرپشن دن کے موقع پر 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔