جاتے دسمبرکی زخم خوردہ یادیں

  تحریر:رابعہ رزاق

پشاور کا دسمبر اوراس کی سترہویں اداس صبح کا تصورکریں تو

جیسے آنکھوں سے آنسو نہیں لہو بہہ نکلے ۔

جیسے کوئی دل کو چیر کر رکھ دے۔

جیسے کوئی وحشی درندہ گلا بوں کے باغ کو روند ڈالے اور ان کی خوشبولہو لہان مٹی کو معطر کر رہی ہو 

بس ایک لمحے کو اس نمناک دلخراش صبح کا تصور کریں تو دل پوری شدت کے ساتھ روتا ہے ۔

 سولہ دسمبر کی روشن اجلی صبح سے سترہ دسمبر کی زخم خوردہ صبح تک کتنا کچھ بدل گیا تھا وہ سارے گھر جہاں کل تک زندگی مسکرا تی تھی آج غم کے گہرے بادلوں کی لپیٹ میں تھے کیونکہ آج نہ کسی شیر شاہ کا ناشتہ بنا نا تھا نہ کسی مبین شاہ کی مسکرا ہٹوں کی نظر اتارنا تھی نہ کسی فہد کو جلدی گھرآنے کی تاکید کرناتھی اور نہ ہی کسی پری خولہ کا اسکول بیگ تیار کر نا تھا۔

کل کسی کے کپڑے دھلنے کو رکھے تھے ۔

تو کسی کے جوتے پا لش ہو نے کو ریک سے اٹھائے تھے ۔
توکہیں سفید شرٹ کا بٹن لگانا رہ گیا تھا ۔ کل کام تھے کہ ختم ہی نہیں ہو رہے تھے اور آج بس ایک ہی کام کرنے کو رہ گیا تھا اپنے جواں سال بچوں کی موت کا ُپرسہ لینا جو سولہ دسمبر کی صبح دعا ؤں کے حصا ر میں اسکول کے لیے رخصت ہوئے تھے لیکن رخصت کے لمحے دعا کا جو حصار بدنصیب ماؤں نے اپنے بچوں کے گرد باندھا تھاوہ اسکول پہنچ کر ٹوٹ گیا تھا۔

ایک لمحے کو تصور کریں جب وہ حصا رٹوٹا ہو گا تو قیامت سے پہلے قیا مت آ گئی ہو گی ۔

ہر جاتی سانس کے ساتھ ان معصوموں نے اپنے پیاروں کو یاد کیا ہوگابہن بھائی ماں باپ دوست یار سارے ایک ایک کر کے آنکھوں میں اتر آئے ہوں گے موت کو سامنے دیکھ کر اپنے مہربان استادوں کی ڈانٹ بھی زندگی جیسی لگی ہو گی ۔

باپ کا غصہ پیار بن کر یاد آ یا ہو گا بے ساختہ آ واز دی ہو گی بابا بچا لو ایک بار بچا لواب ساری باتیں مانوں گا کوئی ان سنی نہیں کروں گا ۔ ماں کو صدا لگا ئی ہو گی ۔

چیخ کر پکارا ہو گاکہ ماں پر تو سارے حق ہو تے ہیں پھر گلہ بھی کیا ہو گا رو کر۔۔ کہا تھا آج اسکول مت بھیجو اب بھیجا ہے تو سن لو واپس کبھی ماں نہیں کہہ پا ؤں گا ۔

ماں کو دیکھنے کی آخری آ رزومیں کسی ظالم کو اس کی ماں کا واسطہ بھی دیا ہو گا ۔ مگر ظالموں کے سینے میں دل نہیں ہو تا نہ ماں کا نہ اولاد کا ۔

ان کے سینے میں انتقام ہو تا ہے یا پھر بدلے کی آگ ہوتی ہے او ر یہ بدلے کی آگ پہلے تو صرف پشاور کے بازاروں مسجدوں پارکوں میں بم دھماکوں کی صورت بڑھکا کرتی تھی لیکن اس صبح اے پی ایس کے نو نہال ان دہشت گردو ں کے نشانے پر تھے ۔

جو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ انھیں کس قصور کی سزا مل رہی ہے ۔وہ کس پراکسی وار کا حصہ بن گئے ہیں ۔

وہ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانی صدیوں یاد رکھی جا ئے گی اور ان کے نام تاریخ کی کتابوں میں ننھے شہدا کے طور پر لکھے جا ئیں گے۔

اور پشاور کی سڑکوں کو اسکولوں کو ان کے ناموں سے منسوب کر دیاجائے گا۔ دہشت گردی کی جنگ میں جو نقصان پشاور کا ہوا جو زخم پختونوں کے سینے پر لگے ہیں ان پر پوری ایک تاریخ مرتب کی جا سکتی ہے اور اس تاریخ کا سب سے دردناک باب سولہ دسمبر کی وہ المناک صبح ہے جب اسکول مقتل گاہ بنا اور قاتلوں نے چن چن کر معصوم بچوں کے سروں پر گولیاں برسائیں ۔

والدین کا بس چلتا تو وہ اپنے بچوں کی اتنی بھیانک موت کے سامنے رب سے بھی جا الجھتے ۔ یہ کہنا بہت آ سان ہے ۔دہشت گردی کی جنگ میں قوم کے دیگر سپوتوں کی طرح نونہالوں نے بھی قربانی دی ہے۔لیکن یہ تصور کرنا بہت مشکل کہ غم کے بادل آج بھی ننھے شہیدوں کے گھر وں پر منڈلا رہے ہیں۔ آج بھی زخم خوردہ ما ئیں اپنی اجڑی گودوں کا ما تم کر رہی ہیں ۔

آج بھی غمزدہ والدین کے زخموں سے جدائی کا درد رستا ہے ۔ان والدین کا در د نہ حکمران سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی سیاستدان انھیں کوئی غرض نہیں کہ ان کے شہید شہزادے کے نام کوئی اسکول کر دیا گیا یا کسی سڑک کانام ان کے لاڈلے کے نام پر رکھ دیا گیا

یا پھرکسی تعزیتی اجلا س میں ان سے ہمدردی کے چار بول بولے گئے ہیں یا پھر کوئی کمیشن بنا کر ان کے درد کا مداوا کرنے کی کو شش کی گئی ہے یا کسی دہشت گرد کو پھانسی کے تختے تک پہنچا کر اس کرب کو کم کرنے کی کو شش کی گئی ہے جو پوری عمر انھوں نے جھیلنا ہے ۔

وہ تو بس یہ چاہتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوا وہ پھر کبھی کسی کے ساتھ نہ ہو۔وہ تو بس یہ چاہتے ہیں امن کی راہ میں جو قربانی ان کے بچوں سے مانگی گئی اس کے ثمرات آنے والی ساری نسلیں دیکھیں ۔

سفاکیت اور بربریت کی یہ مثال دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی جس کی ذمہ داری تحریک طالبا ن نے اپنے سر لے لی تھی ۔

آرمی پبلک اسکول میں ظالموں کی وحشت اور بربریت کے بعد یہ ادراک بھی ہوا کہ دہشت گردوں کا کوئی نام نہیں ہو تا وہ اچھے یا برے نہیں ہوتے۔

ایسی تحریکیں اور تنظیمیں صرف انسانیت کی دشمن ہو تی ہیں جن کا نظریہ اور سوچ انسان دوست کبھی نہیں ہوسکتی جو دہشت گرد معصوم بچوں کے سروں پر گولیاں برسا کر اپنے لیے جنت کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں وہ مسلمان تو کیاانسان کہلانے کے لائق بھی نہیں اور انھیں مسلمان ماننے والے اپنا قبلہ بھی درست کرلیں ورنہ روزمحشر حساب اس بات کا بھی ہو گا کہ ظالم کا ساتھ کیوں دیا تھا اور کس حد تک دیا تھا ۔ ـ