بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کیساتھ سیکیورٹی کےفرائض سر انجام دینے والےشخص کےبا بائے قوم کے شب و روز بارے حیران کن انکشافات

گفتگو: حفیظ عثمانی
سٹیٹ ویوز:میانوالی

رشوت آج کی بیماری نہیں ہے بلکہ جب اُنیس سو اکتالیس میں پولیس میں بھرتی ہوا تو ضلعی ہیڈکوارٹر میانوالی سے تاریخ پیدائش کا ریکارڈحاصل کرنے کیلئے مجھے بھی دوروپے کی بھاری رشوت دینا پڑی۔ قائد اعظم کی دوماہ تک بطور سیکورٹی گارڈ ڈیوٹی کو اپنی زندگی کا نایاب سرمایہ سمجھتاہوں۔

یہ باتیں 1941میں آئی جی پولیس اور قائداعظم محمد علی جناح کی لاہورمیں اور1971 میں شیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری کے دوران بطورِ سیکورٹی گارڈ ڈیوٹی سرانجام دینے والے فاروق آباد (پکی شاہمردان۔ دائودخیل) کے رہائشی ننانوے سالہ سب انسپکٹر(ر) ملک شیرمحمد اعوان نے  اپنی یادوں کا تبادلہ خیال کرتے ہوئے بیان کیں۔

انہوں نے بتایاکہ انیس سو اکتالیس میں آئی جی بینٹ شکار کھیلنے کیلئے سابق گورنر نواب آف کالاباغ امیرمحمدخان کے پاس آئے تو انہوں نے ہم نوجوانوں کو دیکھا تو نواب صاحب سے ہمیں پولیس میں بھرتی کرنے کا مطالبہ کردیا۔ والٹن سنٹر لاہور میں نوماہ کی رنگروٹی کے بعد آئی جی پنجاب بینٹ نے مجھے اپنااسپیشل سیکورٹی گارڈ مقرر کردیا۔قیام پاکستان سے قبل ایک دفعہ قائداعظم ، نہرو اور گاندھی لاہور سے براستہ اٹک ، پشاور اور پھر افغانستان کے دورے پرآرہے تھے تو آئی جی نے سیکورٹی پر مجھے بھی معمور کیا۔ جب افغانستان کا دورہ کرکے تینوں راہنما واپس ہوئے تو ہم نے افغانستان کے بارڈرپر دوبارہ سیکورٹی مہیاکی۔

پشاور سے نکل کرراستے پر ویران جگہ پر چند چرواہے بچے قائدین کی کاروںکے قافلے کودیکھ کر سڑک کے قریب آکرہاتھ ہلانے لگے تو قائداعظم نے گاڑیاں رکوا دیں ۔ جب تینوں لیڈر نیچے اُترے تو بچوں نے انہیں دیکھ کر ،، بن کے رہے گا پاکستان،، کے نعرے فضا میں بلند کردیئے ۔اس موقع پر قائداعظم نے نہرو اورگاندھی کو متوجہ کیاکہ دیکھو پاکستان اب بچے بچے اورچپے چپے کی آواز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب پاکستان بن گیا تو آئی جی نے منٹوپارک میں الوداعی تقریب میں تمام پولیس ملازمین کو خطاب کیا اورجاتے جاتے مجھے بطور حوالدار ترقی بھی دے دی۔

قائداعظم قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی دیکھ بھال اور ان کے منتقل کرنے کے انتظامات دیکھنے کیلئے دوماہ تک لاہور میں رہے۔اس دوران بطورِسیکورٹی گارڈ میری بھی ڈیوٹی قائد کے ساتھ لگائی گئی۔ قائد اعظم کے ساتھ ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح بھی تھیں۔فجر کی نماز کے ساتھ آپ اپنے دن کا آغاز کرتے اور مہاجرین کی ڈھارس بندھانے کیلئے کیمپ جاکر انہیں حوصلہ دیتے۔ قائداعظم محمدعلی جناح کے چہرے کی طمانیت اورسکون اور نور ایک سچے اور مخلص مسلمان کی یاد تازہ کرتا اور دیکھنے والے کے دِلوں کو بدل کے رکھ دیتا تھا، قائداعظم اُردو نہ سمجھنے اور نہ بولنے کے باوجود اپنی بات دوسروں تک پہنچا تے اور دوسرے کی بات کو سُن سمجھ کے ہی دَم لیتے تھے، ہمیں بھی یہ عشق کی حد تک شوق ہوتا تھا کہ قائد کیا فرما رہے ہیں تو اُن مترجم مدد کردیتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سنا کہ امرتسر، جالندھر، لدھیانہ اور فیروزپور پاکستان میں شامل ہوںگے لیکن بعد میں پتہ نہیں کیوں نہ ہوئے۔سب انسپکٹر (ر) ملک شیرمحمد اعوان نے مزید بتایاکہ انیس سو اکہتر میں جب حالات خراب ہوگئے تو بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کرکے کراچی لائے تو ہم انہیں کراچی سے لینے گئے۔پہلے منٹگمری لائے اور بعدازاں فیصل آبادجیل میں منتقل کردیاگیا۔شیخ مجیب الرحمن کو جیل میںرکھنے کیلئے جیل باقی قیدیوں سے خالی کرالی گئی۔

وہاں ہمیں اوپرسے حکم ملاکہ یہاں شیخ مجیب الرحمن کو رکھنا سیکورٹی کے حوالے سے مناسب نہیں کیونکہ انڈیا کی طرف سے شیخ مجیب الرحمن کو اغوا کرلینے کی دھمکی اندرونِ خانہ گردش کررہی تھی۔ ہم نے اچانک دیئے گئے حکم پر رات کی تاریکی میں شیخ مجیب الرحمن کو میانوالی جیل لے آئے۔لیکن یہاں بھی مسئلہ پیداہوگیا۔ جیل میں بند اُس وقت کا جرائم کی دُنیا کا بادشاہ چراغ بالی نے ہمیں مطلع کیاکہ تمام قیدیوں نے حلف اُٹھایاہے کہ وہ آج شیخ مجیب الرحمن کو ماردیںگے کیونکہ یہی ملک کو دوٹکڑے کرنے کاذمہ دارہے۔ہم رات کی تاریکی میں شیخ مجیب الرحمن کو میانوالی جیل سے چشمہ ریسٹ ہائوس لے گئے۔ایک کار میں ہم (سب انسپکٹر شیرمحمداور ایک ایس پی ) شیخ مجیب الرحمن کو لے کرگئے۔ راستے میں شیخ مجیب الرحمن نے کہا:شیرمحمد رات کی تاریکی میں مجھے کہاں لے کے جارہے ہو ۔آپ نے مجھے پھانسی تو دینی ہی ہے ۔میں نے انہیں حوصلہ دیاکہ ایسی کوئی بات نہیں آپ پریشان نہ ہوں لیکن وہ پھر بھی چشمہ ریسٹ ہائوس میں ساری رات سو نہ سکے۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید جلد انہیں پھانسی دی جانے والی ہے۔

سب انسپکٹر (ر)شیرمحمد اعوان نے نواب آف کالاباغ ملک امیرمحمد خان کے متعلق اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ نواب صاحب دوران ِ گورنری اخلاقی حدود کی بہت پاسداری کرتے تھے۔اور اصولوں پہ عمل کرنے کا ایک نمونہ تھے۔گورنری سے استعفیٰ کے بعد ایک ملاقات کے دوران نواب صاحب نے مجھے کہاکہ شیرمحمد میں نے حکومت کی نوکری کرکے کوئی اچھا نہیں کیا۔نوکری اور نوابی کا کوئی جوڑنہیں۔ لیکن میں نے نواب صاحب سے عرض کی کہ گورنری کیلئے آپ اللہ کاانتخاب تھے۔ آپ نے ایک روپیہ تنخواہ کے مد میں نہ لیا۔ دوران جنگ آپ نے عوام کوکسی قسم کے بحران میں مبتلا نہ ہونے دیا۔انہوں نے کہاکہ واقعی نواب آف کالاباغ کی گورنری اللہ کا انعام تھا۔جس کی آج تک مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ آج بھی نواب آف کالاباغ کا خاندان مجھے عزت دیتا ہے لیکن بی بی سمیرا ملک اور بی بی عائلہ ملک کے والد محترم نوابزادہ ملک اللہ یار(مرحوم) میرا خصوصی خیال رکھتے تھے۔

سب انسپکٹر(ر) ملک شیرمحمد اعوان اپنی پیدائش انیس سو گیارہ بتاتے ہیں۔تقریباََ ننانوے سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اوراس عمرمیں بھی صحت مند اور پوری طرح حاضر دماغ ہیں۔نمازِتہجد سے اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں۔ اور اپنے بیٹے ، بیٹیوں اور پوتے پوتیوں اوردیگر اہلِ خانہ کے ساتھ خوش وخرم زندگی گزار رہے ہیں۔قائداعظم محمدعلی جناح کے ساتھ گزارے گئے دو ماہ کی بطور سیکورٹی گارڈ ڈیوٹی کو اپنی زندگی کا ایک نایاب اثاثہ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اللہ کے حضور قیامت کے روز ایک ہی بات کہنے کیلئے موجود ہوگی کہ میں نے بانی پاکستان قائداعظم کی دوماہ نوکری کی ہے۔ قیام ِ پاکستان سے پہلے ہندو اور مسلمان ہم سب مل کرنوکری کرتے اور کوئی خاص نفرت کی فضا نہیں تھی البتہ پاکستان بننے کی خوشی ہر مسلمان کے چہرے سے عیاں تھی۔ انہوں نے آخر پہ کہاکہ ملک کی حالت تبدیل کرنے کیلئے حکمران کا دیانتدار ہونا ضروری ہے۔ چاہے وہ آصف زرداری ہوں، یوسف گیلانی یا نواز شریف یا کوئی اور۔۔۔۔۔