استحکام پاکستان کیلئے صوفیانہ تعلیمات کا فروغ ناگزیر ہے،پیر علی رضا بخاری

برمنگھم (سٹیٹ ویوز) جامعہ قادریہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام پیغام پاکستان انٹر نیشنل صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت پیر طیب الرحمن قادری زیب آستانہ عالیہ بھیرہ شریف نے کی۔ ممبر اسمبلی ازادکشمیر ، سجادہ نشین درگاہ بساہاں شریف پیر علی رضا بخاری اور ممبر پارلیمنٹ یوکے خالد محمود مہمانان خصوصی تھے۔

مفتی اعظم برطانیہ گل رحمن قادری، مفتی اعظم ساؤتھ افریقہ مفتی محمد اکبر ،قونصل جنرل پاکستان ایمبیسی احمر اسماعیل ، مفتی فضل احمد قادری ، علامہ غلام ربانی افغانی ، مفتی فیض بخش ، علامہ خلیل الرحمن حقانی ، کونسلر محمد عظیم چوھدری ، کونسلر چوہدری محمد فاضل ، بیرسٹر رشید احمد مرزا، مفتی فیض رسول ، علامہ حافظ حنیف الحسینی، علامہ عبد الغفور چشتی ،قاری محمد شعیب ، صاحبزادہ حافظ سعید مکی، راجہ اشتیاق احمد ، صاحبزادہ حسنین رضا صدیقی ، حاجی محمد رمضان ، شہزاد احمد مغل ، حاجی عبد المجید، علامہ سید فرید شاہ ، قاری شبیر الحسن، محمد ناصر خان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے آئے ہوئے علما مشایخ، ممبران پارلیمنٹ ، کونسلرز و کمیونٹی راہنماؤں نے قومی بیانیہ پیغام پاکستان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صوفیا ئے کرام کی امن ، محبت کی تعلیمات کو اپنا کر دیر پا عالمی امن قائم ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے استحکام اور ہر قسم کی دہشتگردی و انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے پیغام پاکستان کی فکر کو عام کیا جائے گا، اس حوالہ سے علما ومشایخ نے اپیل کی کہ یوکے ویگر پورپین ممالک میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی 17 جنوری 2019سے “ہفتہ پیغام پاکستان “کے طور پر منایا جائے گا مختلف مقامات پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ صوفیانہ تعلیمات کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ عالمی امن کیلئے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ، قومی بیانیہ پیغام پاکستان کا اجرا تاریخ کارنامہ ہے جس کیلئے تمام مکاتب فکر کے علما اور مشائخ کا کردار مثالی ہے۔


یہ ایسی تاریخ دستاویز ہے جس کے سبب پوری قوم دہشتگردی و انتہا پسندی کیخلاف متحد ہو چکی ہے۔ پیغام پاکستان کی تائید پر پیر طیب الرحمن قادری ، مفتی گل رحمن قادری ، علامہ غلام ربانی افغانی سمیت برطانیہ و یورپ کے مشایخ و علما کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر خالد محمود نے کہا کہ پیغام پاکستان عالمی صوفی کانفرنس مثبت اقدام ہے، امید ہے کہ کانفرنس کی سفارشات گلوبل پیس کیلئے معاون ثابت ہوں گی۔ آج دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ انتہا پسندانہ سوچ کی نفی اور دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے صوفیانہ فکر کو اپنانا ضروری ہو گیا ۔

پر امن معاشرہ کی تشکیل کیلئے اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔ ہر قسم کی دہشتگردی قابل مذمت ہے پاکستان کے مذہبی طبقات کا پیغام پاکستان کے قومی بیانیہ پر اتفاق رائے قابل تحسین ہے۔

پیر علی رضا بخاری کی کاوشیں اس حوالہ سے قابل قدر ہیں آج کی کانفرنس کے انعقاد پر پیر طیب الرحمن اور ان کے رفقا مبارکباد کے مستحق ہیں۔

قادریہ ٹرسٹ برمنگھم کے صدر پیر طیب الرحمن قادری نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہا ر کیا کہ صوفیانہ پیغام امن ومحبت کو عام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا ۔

پیغام پاکستان درحقیقت پیغام اسلام ہے، پاکستان کی سالمیت کیلئے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں صوفیا کے پیروکار امن کی شمع کو فروزاں کئے رکھیں گے۔