پہلا ہندوستانی جس نے 21برس بعد قتل عام کا انتقام لیا

اسلام آباد(رپورٹ:سٹیٹ ویوز)مارچ 1919 میں برطانوی حکومت کی جانب سے رولٹ ایکٹ کی منظوری کے بعد پورے ہندوستان میں وسیع پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس ایکٹ کے تحت برطانوی حکام کسی بھی ہندوستانی باشندے کو محض شک و شبہ کی بنیاد پر جیل میں ڈال سکتے تھے اور کسی کو بھی بغیر عدالتی کارروائی کے گرفتار کیا جا سکتا تھا۔

اپریل 1919 کے دوران عوامی احتجاج ہندوستان میں مقیم غیر ملکیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی صورت اختیار کر گیا۔ اس بنیاد پر برطانوی حکومت نے بالخصوص پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کر دی تا کہ احتجاج کو مظاہروں کے واسطے اکٹھا ہونے سے روکا جا سکے۔

اسی دوران 13 اپریل 1919 کو ہزاروں سکھ امرتسر شہر کے جلیاں والا باغ میں بیساکھی میلہ منانے کے لیے جمع ہو گئے۔ اس موقع پر متعدد مسلمان اور ہندو بھی سکھوں کے ساتھ میلے میں شامل ہو گئے اور یہ میلہ مجمع اکٹھا نہ کرنے کے حوالے سے برطانوی حکام کے فیصلے کے لیے لیے واضح چیلنج بن گیا۔

اس دوران برطانوی جنرل ریجینالڈ ڈائر کی قیادت میں سیکڑوں فوجیوں پر مشتمل ٹیم وہاں پہنچ گئی۔ جنرل ڈائر کو ہندوستانیوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر مزاحمتی تحریک بھڑک جانے کا اندیشہ ہوا جس پر اس نے مجمع پر گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ اس اندھا دھند کارروائی کے نتیجے میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک ہزار کے قریب زخمی ہو گئے۔

اس واقعے پر زیادہ تر ممالک نے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز نے جنرل ڈائر کو سراہتے ہوئے باور کرایا کہ اس کا فعل قانون کی بالادستی کے واسطے تھا۔ اسی طرح برطانوی پنجاب کے گورنر مائیکل اوڈویر نے اس قتل عام کا دفاع کرتے ہوئے ہندوستانی احتجاج کنندگان کو شدید سزا کی دھمکی دی۔

امرتسر کے اس واقعے کے زخمیوں میں ایک 20 سالہ سکھ نوجوان اُدھم سنگھ بھی شامل تھا۔ اس نے اپنے دل میں پنجاب کے گورنر مائیکل اوڈویر سے انتقام لینے کی ٹھان لی۔

سال 1924 میں ادھم سنگھ ہندوستان سے کوچ کر کے کچھ عرصے کے لیے امریکا میں قیام پذیر ہو گیا۔ وہاں اس نے غدر پارٹی کے کئی بڑے رہ نماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ یہ پارٹی ہندوستان سے برطانوی سامراج کو نکالنے کے لیے اپنی سرگرمیوں اور کوششوں کے باعث جانی جاتی تھی۔

تین برس بعد ادھم سنگھ ہندوستان واپس لوٹا تو اپنے قبضے میں آتشی ہتھیار رکھنے کے سبب برطانی حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔ سال 1931 میں وہ جیل سے رہا ہوا اور کشمیر کی جانب منتقل ہو گیا۔ بعد ازاں 1934 میں ادھم سنگھ برطانوی دارالحکومت لندن پہنچ گیا۔ ہاں اس نے ایک پستول خریدا اور پھر لندن میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم میں شامل ہو کر اپنے منصوبے پر عمل درامد کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا۔


آخرکار 13 مارچ 1940 کو ادھم سنگھ نے Caxton Hall میں مائیکل اوڈویر کی موجودگی سے فائدہ اٹھا لیا۔ اوڈویر East India Association and the Central Asian Society کی ایک تقریب میں شریک تھا۔ ادھم سنگھ نے موقع پاتے ہی اپنے شکار کو دو گولیاں مار دیں جس کے نتیجے میں مائیکل اوڈویر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ برطانوی پولیس نے فوری طور پر ادھم سنگھ کو گرفتار کر لیا جب کہ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔
شکریہ: العربیہ ڈاٹ کام