شامی سیکیورٹی فورسز کی کاروائی داعش سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانی دہشت گرد گرفتار

اسلام آباد (شبیر حسین طوری ،سٹیٹ ویوز) تفصیلات کے مطابق شام میں برسرپیکار امریکا کی حمایت یافتہ فورس ’شامی جمہوری فورسز‘ نے شام کے صوبے دیر الزور سے 5 داعش دہشت گردوں کو حراست میں لیا ہے۔ یہ دہشت گرد 30 دسمبر کو ایک کارروائی کے دوران جھڑپ کے بعد گرفتار ہوئے۔

شامی جمہوری فورسز کے ترجمان بلال بالی کی جانب سے جاری بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں میں سے 2 کا تعلق امریکا سے ہے جبکہ 2 پاکستانی اور ایک آئرش شہری ہے۔ بیان کے ساتھ جنگجوؤں کی تصاویر بھی منظر عام پر لائی گئی ہیں۔

گرفتار ہونے والے 34 سالہ امریکی شہری کا نام وارن کرسٹوفر کلارک المعروف ’ امریکی ابو محمد‘ ہے جو ہیوسٹن کا رہائشی ہے جب کہ دوسرا امریکی شہری عرب نژاد زید عبدالحامد ہے اور وہ ’امریکی ابو زید‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

شامی جمہوریہ فورسز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے دو دہشت گرد پاکستان کے شہری ہیں جن میں سے ایک نام فضل الرحمان کاد عرف أبو انام المہاجر عمر 48 سال اور لاہور کا رہائشی ہے جبکہ دوسرے کا نام عبدالعظیم راجپوت عرف أبو أما الباكستانی عمر 19 سال اور سیالکوٹ کا رہائشی ہے

گرفتار کیے گئے 5 دہشت گردوں میں سے ایک آئرش شہری ہے۔ ڈبلن کے رہائشی کا نام الیگزینڈر روزمانووچ بیک مرزائیف ہے۔ یہ پانچوں دہشت گرد دریائے فرات پر شامی شہریوں پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2015 میں لاہور میں سی ٹی ڈی نے اس وقت کارروائی کی جب شام میں پاکستانی دہشت گرد گرفتار ہوئے اور محمکہ انسداد دہشت گردی اور دیگر حساس اداروں نے لاہور اور سیالکوٹ میں کارروائیاں شروع کی ۔ جس کے نتیجے میں داعش کے متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے تھے-

کارروائیوں کے دوران سیالکوٹ میں داعش کے ایک گروپ کو گرفتار کیا گیا تھا جنہوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ اُنھوں نے 2015 میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے وفاداری کا حلف لیا تھا-

جبکہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ تین خواتین بچوں سمیت شام پہنچ گئی ہیں۔ شام پہنچنے والے افراد میں ٹاون شپ کے رہائشی بشری بی بی اور اسکے بچے شامل تھے جو کہ ایک دینی مدارس کی پرنسپل تھیں۔

علاوہ ازیں جون دو ہزار سترہ میں پاکستانی فوج نے اپنے ایک تین روزہ مسلح آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسیٹ‘ یا داعش کا بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ایک بڑا منظم ٹھکانہ بنانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا۔

پاک فوج کے آپریشن کے دوران داعش کے 11کمانڈر ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دہشت گردوں کو گرفتارکیا گیا تھا جبکہ اس آپریشن کے دوران لیفٹیننٹ کرنل ساجد ، میجر فہیم اور میجر عاصم سمیت 12سے زائد جوان زخمی بھی ہوئے تھے-

جبکہ 13 جولائی 2018 کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک خوفناک خود کش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہمناء سراج رئیسانی سمیت 170 سے زائد افراد شہید جبکہ 150 کے قریب زخمی ہوئے تھے-

اس واقعے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی–اس کے علاوہ بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں داعش مساجد اور مزاروں کو بھی اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کو نشانہ بنا چکی ہے-