سردار حسن ابراہیم خان نے حلف برداری کے بعد اجتماع سے خطاب میں مستقبل کا لائحہ عمل واضح کر دیا

مظفرآباد (سٹیٹ ویوز) جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن حسن ابراہیم خان کی قانون ساز اسمبلی میں تقریب حلف برداری میں پونچھ اور اسلام آباد سے ہزاروں افراد نے حسن ابراہیم خان کو ریلی کی شکل میں قانون ساز اسمبلی لایا۔

اسمبلی گیٹ پر سینکڑوں مشتعل کارکنان اور پولیس میں تصادم اور شدید نعرے بازی، مظاہرین نے اسمبلی میں جانے کی کوشش کی۔ ڈپٹی کمشنر بدر منیر نے مذاکرات کے ذریعے مزید تصادم کو روکا۔جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے کارکنان نے سپریم کورٹ کے سامنے عدلیہ مخالف نعرے بازی کی۔

تقریب حلف برداری کے بعد اجتماع میں ممبر اسمبلی صغیر چغتائی، جسٹس(ر) نواز خان، شیخ فضل کریم۔، سابق ممبر اسمبلی حنیف اعوان، نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ ، نشاط کاظمی، سابق ممبر کشمیر کونسل سردار سوار خان ، آصف گیلانی، خواجہ سجاد سمیت اہم افراد نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان نے کہا ہیکہ سردار خالد ابراہیم خان کی تحریک کو آگے بڑھانے کیلیے اسمبلی کے اندر اور باہر آواز اٹھایں گے، پارلیمنٹ کو بتانا پڑے گا کہ عدلیہ میں تقرریوں بارے سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کے بعد آئین کی خلاف ورزی کس نے اور کیوں کی، پارلیمنٹ ہمیں مطمئن نہ کر سکی تو اسمبلی کے باہر عوامی جدوجہد تیز کر دیں گے۔

ممبر اسمبلی سردار صغیر چغتائی نے اپنے خطاب میں کہا ہیکہ دارلحکومت کے اہم اداروں میں میرٹ کی بحالی اور انصاف کیلیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔کسی بھی آئینی ادارے کو حدود سے باہر نہیں نکلنے دیں گے۔سردار خالد ابراہیم کی موت کی وجوہات جاننے کیلیے پارلیمانی کمشن بنایا جائے۔

جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی رہنما نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ راولاکوٹ کے غیور لوگوں نے حسن ابراہیم خان کو ووٹ کے ذریعے کامیاب کراکے سردار ابراہیم کی سیاست کا ساتھ دیا ہے۔اداروں میں میرٹ لانے کیلئے ایوان کے اندر اور باہر جدوجہد جاری رکھیں گے۔اصولوں کی بنیاد پر خالد ابراہیم خان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔

تقریب سے سردار سوار خان، ۔سردار نواز خان، جاوید نثار ایڈووکیٹ، سمیت جے کے پی پی کے کئی رہنماوں نے خطاب کیا۔
جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے بانی سربراہ و ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان کی وفات کی وجہ سے راولاکوٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن ہوئے اور حسن ابراہیم خان الیکشن جیتے تھے۔سردار خالد ابراہیم خان کی وفات سے قبل سپریم کورٹ نے انکو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے سمیت گرفتاری کے وارنٹ جاری بھی کر رکھے تھے۔سردار خالدابراہیم خان نے ایوان میں خطاب کے دوران عدالت عالیہ میں 5 جحز کی تقرری کے طریقہ کار پر تنقید کی تھی۔