ن لیگ اورپی ٹی آئی آمنے سامنے،گالم گلوچ،آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی

مظفرآباد ( سردار نعیم چغتائی+سٹیٹ ویوز) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی۔پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے ممبر اسمبلی ماجد خان اور فاروق طاہر وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میں گالم گلوچ ، نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔

وزیر اعظم اور دیگر ممبران اسمبلی بچ بچاؤ کرواتے رہے۔ وقفہ سوالات میں ماجد خان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فاروق طاہر نے ماجد خان کو جواب دیتے ہوئے ماجد خان کے والد کا ذکر کیا جس کے بعد دونوں جانب سے گالیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔

دونوں ممبران اسمبلی دست و گریباں ہو گئے۔۔اسپیکر اسمبلی نے اجلاس دس منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو دونوں ممبران نے اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معاملہ ختم کر دیا۔ یاد رہے “فاروق طاہر” نے گزشتہ ہفتے کشمیر ہاؤس میں بھی ایک ملازم کو تھپٹر مار دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق لڑائی دوران بعض ارکان اسمبلی خاموش تماشائی بنے رہے اورکچھ نے ارکان اسمبلی کے درمیان لڑائی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق آزادکشمیرقانون سازاسمبلی کے اجلاس میں کسی معمولی سی بات پروزیرقانون سردارفاروق طاہراورپی ٹی آئی کے ممبراسمبلی ماجدخان کے درمیان گرمی شروع ہوگئی اورگرمی کی انتہاہاتھاپائی اورگالم گلوچ تک جاپہنچی۔جس پردیگرممبران اسمبلی نے دونوں لڑائی جھگڑے کو روکوانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

اس موقع پربعض ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کااسمبلی اجلاس کومچھلی منڈی بناناانتہائی شرمناک فعل ہے۔ایساکرنے سے اُس پاربہت ہی منفی پیغام جائے گا۔اپنی بات منوانے کیلئے گالم گلوچ اورہاتھاپائی شرفاء کافعل نہیں ہونا چاہیے۔