اسلا م ترک کرنیوالی سعودی خاتون رہف محمد القنون کو پناہ گزین کا درجہ مل گیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے اسلام ترک کرنیوالی 18 سالہ سعودی خاتون کو ’پناہ گزین‘ کا درجہ دے دیا ہے جس نے اپنے اہلخانہ کے پاس واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے خود کو تھائی لینڈ میں ایک ہوٹل میں بند کر لیا تھا۔

رہف محمد القنون نے پیر کو بینکاک سے کویت کی پرواز پر سوار ہونے سے انکار کرتے ہوئے خود کو ہوائی اڈے کے قریب واقع ہوٹل کے کمرے میں بند کر لیا تھا۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اسلام ترک کر چکی ہیں، اور انھیں ڈر ہے کہ اگر انھیں زبردستی سعودی عرب واپس بھیج دیا گیا تو ان کا خاندان انھیں قتل کر دے گا۔ سعودی عرب میں ارتدادِ اسلام کی سزا موت ہے۔

رہف کے والد اور بھائی ان سے ملاقات کے لیے تھائی لینڈ پہنچے تھے تاہم انھوں نے ان سے بھی ملنے سے انکار کر دیا تھا اور بعدازاں تھائی لینڈ کی امیگریشن پولیس نے بتایا تھا کہ وہ ‘اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں کی نگرانی میں ہوٹل سے چلی گئی ہیں’۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں نے رہف کا معاملہ اب آسٹریلوی حکام کے سپرد کیا ہے تاکہ انھیں ممکنہ طور پر وہاں بسایا جا سکے۔آسٹریلیا کے امورِ داخلہ کے محکمے نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ اس درخواست کا عام انداز میں جائزہ لے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرے گی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے بھی مزید بیان سے گریز کیا ہے۔

تاہم آسٹریلوی حکام نے اس بات کے اشارے دیتے رہے ہیں کہ رہف کی درخواست قبول کی جا سکتی ہے۔آسٹریلوی وزیرِ صحت گریگ ہنٹ نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر انھیں پناہ گزین کا درجہ مل جاتا ہے تو ہم انھیں انسانی بنیادوں پر ویزا دینے کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے غور کریں گے۔

‘رہف کی کہانی اس وقت منظر عام پر آئی جب انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی تصویر اور نام شائع کرتے ہوئے لکھا کہ ’میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں اور اب میں اپنا اصل نام اور تمام معلومات عام کر رہی ہوں۔‘رہف القنون کے والد سعودی عرب کے شمالی صوبے حائل کے السلیمی شہر کے گورنر ہیں۔

اہل خانہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے اور وہ صرف نوجوان لڑکی کی سلامتی کے بارے میں متفکر ہیں۔

اسی دوران ٹوئٹر پر ’سیو رہف‘( saverahaf #) کے نام سے ایک ٹرینڈ بھی شروع ہو گیا جس میں دنیا بھر سے لوگ رہف کی مدد کی اپیل کرتے رہے۔ابتدا میں تھائی حکام انھیں کویت بھیجنے پر مصر رہے تاہم پھر تھائی لینڈ کی امیگریشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ جان کو خطرے کے دعووں کے پیش نظر انھیں ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔

اس سے پہلے 2017 میں بھی ایک ایسا ہی کیس سامنے آیا تھا جب ایک سعودی خاتون نے فلپائن کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش کی تھی

اس سے پہلے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے تھائی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بنکاک ائیرپورٹ پر پھنسی سعودی خاتون کی طے شدہ منصوبے کے تحت سعودی عرب واپسی روک دیں۔رہف نے روئٹرز کو بتایامیرے بھائی، خاندان اور سعودی سفارت خانہ کویت میں میرا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ میری زندگی خطرے میں ہے۔ میرا خاندان معمولی باتوں پر بھی مجھے قتل کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔

رہف نے کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان سے الگ ہو کر آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں لیکن تھائی لینڈ میں سعودی حکام نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جو کہ اب انھیں واپس مل چکا ہے۔رہف کے مطابق وہ اپنے خاندان کے ساتھ کویت گئی تھیں جہاں سے وہ دو دن پہلے اکیلی جہاز پر سوار ہو گئیں۔ وہ بنکاک سے آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں جہاں ان کا ارادہ پناہ لینے کا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج نے ایک بیان میں کہا کہ اپنے خاندان کو چھوڑنے والی سعودی خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر واپس بھجوایا گیا تو وہ اپنے رشتے داروں کی جانب سے شدید تشدد، آزادی سے محرومی اور دیگر شدید نوعیت کے نقصان کا سامنا کر سکتی ہیں۔

رہف نے کہا کہ ’میں نے اپنی معلومات اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں اور میرے والد اس وجہ سے بہت غصے میں ہیں۔۔۔ میں اپنے ملک میں کام نہیں کر سکتی، پڑھ نہیں سکتی، اس لیے میں آزادی چاہتی ہوں اور اپنی مرضی سے پڑھنا اور کام کرنا چاہتی ہوں۔‘

یہ پہلا واقعہ نہیں
اس سے پہلے 2017 میں بھی ایک ایسا ہی کیس سامنے آیا تھا جب ایک سعودی خاتون نے فلپائن کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش کی تھی۔24 سالہ دینا علی بھی کویت سے روانہ ہوئی تھیں لیکن ان کے خاندان والے انھیں منیلا ایئرپورٹ سے واپس سعودی عرب لے گئے تھے۔ دینا نے ایک آسٹریلوی سیاح کے فون کے ذریعے ٹوئٹر پر ایک پیغام اور وڈیو جاری کی تھی کہ ان کے گھر والے انہیں قتل کر دیں گے۔دینا علی کے ساتھ سعودی عرب پہنچ کر کیا ہوا یہ پھر معلوم نہیں ہوسکا تھا۔