مرتد سعودی لڑکی کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا،کنیڈااورسعودی عرب آمنے سامنے آگئے

اسلام آباد(راجہ ارشد محمود/سٹیٹ ویوز) مرتد ہونیوالی سعودی لڑکی ریحاف کو مہاجر کا درجہ ملنے کے بعد اسے بین الاقوامی تحفظ دے دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی اپیل پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے ریحاف کو سیاسی پناہ دے دی ہے جس کے بعد کنیڈا اورسعودی عرب کے سرمہری کا شکار تعلقات میں مزید کشیدگی آسکتی ہے ۔

اس حوالے سے کنیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ریحاف کو مسکراتے چہرے کے ساتھ بحفاظت کینیڈا پہنچایا جائے اس سے قبل ریحاف جب بنکاک ایئر پورٹ پر پہنچی تو تھائی حکام نے اسے کویت ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی لیکن ریحاف نے خود کو ایئرپورٹ کے کمرے میں بند کر لیا۔۔

تھائی حکام کے مطابق ریحاف کے خاندان نے اس کے الزامات کی تردید کی ہے یہ امر واضح ہو کہ ترکی میں سعودی صحافی جمال خشوگجی کے قتل پر کینیڈا نے شدید رد عمل کا مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے کینیڈا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق جسٹسن ٹروڈو کا ریحاف کے معاملے پر فوری رد عمل بھی دونوں ممالک کے مابین رہے سہے سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے تا ہم ابھی تک اس ضمن میں سعودی حکام کا کوئی بھی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

مرتد ہونے والی 18 سالہ سعودی لڑکی کو کینیڈا میں پناہ مل گئی ۔اس سے قبل اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے آسٹریلیا اور کینیڈا کے حکام سے سعودی لڑکی ریحاف محمد القونان کو مہاجر کا درجہ دیتے ہوئے پناہ دینے کی درخواست دی تھی جس کے بعد کینیڈین وزیر اعظم نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ریحاف کو پناہ دینے کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یو این ایچ سی آر کے حکام نے تھائی لینڈ کے اعلیٰ حکام سے ریحاف کی حفاظت کے لئے فوری طور پر اقدام اٹھائے جانے کا کہا تھا سعودی عرب کی رہائشی ریحاف القانون اپنی فیملی کے ہمراہ کویت میں تعطیلات کے لئے موجود تھی اس دوران وہ جہاز میں سوار ہو کر بنکاک ایئرپورٹ پہنچی اور تھائی حکام سے پناہ طلب کر لی ۔۔

اس کا موقف یہ تھا کہ وہ اسلام کو ترک کر چکی ہے اور اب اس کے خاندان والے یا سعودی حکام شرعی قوانین کے تحت جان سے مار ڈالیں گے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارےUNHCRکی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بین الاقوامی قوانین کے تحت جان کی حفاظت طلب کرنے والوں کو ان کے اپنے ملک میں واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔۔

مطالبہ کیا کہ جب تک انے اقوام متحدہ کے کسی ذمہ دار افسر سے نہیں ملایا جاتا وہ کمرے سے باہر نہیں نکلے گی تھائی حکام نے پاسپورٹ سمیت اس کے سفری کاغذات قبضے میں لے رکھے تھے بالآخر اڑتالیس گھنٹے کے بعد اس کی ملاقات UNHCRکے حکام سے کرائی گئی

جنھوں نے اسے بین الاقوامی حفاظتی تحویل میں لے لیا دوسری جانب ریحاف کا کہنا تھا کہ چونکہ اس نے دین اسلام کو ترک کر دیا ہے لہٰذا اب اسے اپنے خاندان کے علاوہ سعودی شرعی قوانین سے بھی جان سے خطرہ ہے۔۔