تحریر:انجینئر عرفان بنگش
تحریر:انجینئر عرفان بنگش

ملک میں جعلی ادویات کا راج

ایک طرف تو فاٹا پاراچنار قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمیشہ خطرے کی زد میں ہی رہا جبکہ انسان دشمن دھماکوں، بندوقوں، خنجروں کا سہارا لے کر اپنے انتقام کی پیاس بجھاتا ہے تو دوسری طرف اس سے بھی بھیانک کردار ادا کرنیوالے کئی لوگ جو محب وطن کے دعوے بھی کرتے ہیں وہ سماج سدھار کی چادر اوڑھے ہیں بے دریغ جعلی ادویات کا دھندہ کرکے معصوم لوگوں کی زندگیوں سے سرعام کھیلتے ہوئے انہیں سسک سسک کر مرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

پورے فاٹا میں جعلی ادویات سے مارکیٹ بھرے پڑے ہیں اور مارکیٹوں میں غیر معیاری ادویات کا راج برسوں سے چلتا آرہا ہے۔۔ جعلی ادویات کے دھندہ اور گروہ در گروہ کی ضلع کرم اور اس سے ملحقہ اضلاع میں جڑیں اتنی مضبو طی سے پھیل چکی ہیں کہ ملوث افراد قانون کی پکڑ میں آنے کے بجائے ہمیشہ باآسانی بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

بد قسمتی سے ضلع کرم پاراچنار میں زیادہ تر جتنے بھی میڈیکل ریپ کے آتے ہیں دوسرے شہروں سے۔ ان میں اکثریت ایسے ادویات لے کر آتے ہیں سمپل میں کہ وہ معیار پہ پورا اترتی ہیں لیکن آڈر کے بعد بہت سے ادویات ری فلنگ کرواکے اسی بوتل میں ڈالی جاتی ہیں جن میں پہلے استعمال ہو چکی ھو۔۔۔ علاقے کے مین سٹی بازار میں زیادہ طر ادویات لوکل فیکٹری میں بنائی جاتی ہیں جن میں کوہاٹ کا میں بازار، پشاور کارخانوں مارکیٹ اور راولپنڈی میں راجہ بازار کی تنگ گلیوں میں بنا کر بھیجی جاتی ہیں۔۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کچھ بے ضمیر لوگ کیوں ضمیر کا سودا کرکے انسانوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔۔۔؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے کا ایک معزز تعلیم یافتہ ڈاکٹرز طبقہ بھی اس جرم میں ملوث ہے ڈاکٹرز میڈیکل ریپ کی کمیشن کی خاطر حقائق اور آنکھیں بند کرکے عوام کے ساتھ ظلم شروع کرتے ہیں چونکہ ڈاکٹرز شفیق ہوتے ہے ڈاکٹر کسی مسیحا سے کم نہیں ہوتا۔۔ لالچ کی خاطر ڈاکٹر بغیر کسی وجہ کے عوام سے دشمنی پر اُتر جاتے ہیں۔۔

ہسپتالوں میں بستروں پر پڑے پچاس فیصد مریض جعلی اور غیر معیاری ادویات کی تخلیق کردہ ناقابل تشخیص بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ادویات میں ملاوٹ کے مرتکب عناصر کا شمار بھی بلاشبہ انسانیت کے بڑے دشمنوں میں ہوتا ہے لیکن جعلی اور غیر معیاری ادویات بنانے والے عطائی ڈاکٹرز اور جرائم پیشہ فارماسسٹ تو انسانیت کے قاتل ہیں۔

انسانیت کے دشمنوں اور قاتلوں کیخلاف بلاامتیاز، شفاف اور بے رحمانہ کارروائی وقت کا تقاضا ہے۔ مہنگے داموں ادویات کا المیہ تو ایک طرف، یہاں تو شہریوں کو اس امر کی بھی کوئی یقینی ضمانت حاصل نہیں کہ وہ جو دوائی خرید رہے ہیں وہ خالص ہے یا نا خالص۔ پاکستانی شہریوں کے ساتھ دوہرا ظلم ہو رہا ہے۔ ایک تو مہنگے ڈاکٹروں نے ان سے علاج کا بنیادی حق چھین رکھا ہے اور دوسرے وہ مہنگی اور جعلی ادویات کے استعمال کے باعث بے وقت موت کا لقمہ بن رہے ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں قانون ہے لیکن اس پر عمل کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں میڈیکل سٹورز میں بیٹھے فارماسسٹ کے بجائے ناخواندہ لوگ بیٹھے ہیں جو کھلم کھلا جعلی ادویات کے دھندے میں مصروف ہیں۔ وقت کی حکومت کو چاہئیے کہ فوراً قانوں نافذ کریں اور میڈیکل سٹورز بغیر فارماسسٹ کے بند کریں۔ کیونکہ انسان کی زندگی میں تب سکون و خوشی آسکتی ہے جب وہ صحت مند ہو جیسا کہ تندرستی کے معنی ہیں جسم کا صحیح حالت میں ہونا تندرستی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔جس کا مقابلہ دنیا کی اور کوئی چیز نہیں کر سکتی۔انگلش میں ایک ضرب المثل ہے۔

(ھیلتھ از ویلتھ)یعنی تندرستی ھزار نعمت ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ تندرستی حقیقی نعمت ہے۔صحت کی قدر اس وقت آتی ہے۔جب انسان بیمار ہوتا ہے۔ اور ہمارے ہاں جعلی ادویات کی وجہ ایک چھوٹی بیمار بھی مہینوں مہینوں تک رہتی ہے۔بیمار اور صحت مند آدمی میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔صحت مند آدمی اپنے کام کاج میں مصرووف رہتا ہے۔اس کا چہرہ ہشاش بشاش اور دل شگفتہ رہتا ہے۔مگر جب ذرا سی طبیعت خراب ہو تو آدمی کا کسی کام میں دل نہیں لگتا ہے۔

اب لذیذ سے لذیذ کھانے بھی بے مزہ محسوس ہوتے ہیں۔غرض کہ بیمار آدمی دنیا بھر کی نعمتوں کو بے کار اوربے فضول سمجھتا ہے۔اور ہر وقت اچھی صحت کا طالب رہتا ہے۔جعلی ادویات کی وجہ صحت پر بہت منفی اثر پڑ رہا ہے اور اس کا بہت ہی پریشان کن پہلو یہ ہے کہ ملک میں دستیاب ادویات انسانی استعمال کے قطعی قابل نہیں بلکہ وہ کئی قسم کے بُرے اثرات کا باعث بنتی ہیں۔ اس امر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پوری ملک میں کتنی بڑی تعداد میں افراد ان سے کتنے زیادہ تعداد میں متاثر ہورہے ہیں اور ان ادویات کاحجم استعمال ہونے والی کل ادویات کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ اور یہ پاراچنار فاٹا بلکہ پورے ملک میں ہر فرد اور خاص طور پر بیمار افراد کیلئے لمحہ فکریہ ہے؟

ان ادویات میں بے حد مہنگی قیمت پر ملنے والی ادویات بھی شامل ہیں جو کہ شفا کی بجائے کئی نئی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔ یہ بلکل اور خالصاً مجرمانہ فعل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملاوٹ میں ملوث کون ہیں کیا یہ ادویات ساز ادارے ہیں یا صرف جعلی ادویات تیار کرنے والے قاتل ہیں اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ کام جعلی ادویات بنانے والے کررہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہسپتال کی انتظامیہ، پرائیوٹ کلینکز میں بیٹھے ڈاکٹرز اور مختلف میڈیکل سٹورز والے ان سے ادویات کیوں خریدتی ہیں کیا ان کا اپنا یعنی نفع زیادہ ہوتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نفع کی خاطر کتنے لوگوں کے زندگیوں سے کھیلتے ہے اس کے علاوہ اور کوئی منطق نظر نہیں آتی۔

اور اگر فرضِ محال یہ بد دیانتی ادویات بنانے والے ادارے کررہے ہیں تو پھر اس کی روک تھام کا کون ذمہ دار ہے؟ جواب صاف اور واضح ہے یہ حکومتی غفلت اور چشم پوشی ہے شاید متعلقہ افراد اور ادارے جن کو جعلی ادویات کی روک تھام کے لئے قائم کیا گیا ہے وہ بھی اس کام میں ملوث ہیں یعنی ان کو اپنا حصہ (حرام) مہیا کردیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت کے اولین فرائض میں شامل نہیں کہ جن افراد کے ووٹوں سے وہ برسر اقتدار آئے ہیں ان کی فلاح اور بہبود کو یقینی بنایا جائے۔

دراصل ہمارے سیاسی رہنما ان کو جوڑ توڑ اور مال و دولت سمیٹنے سے فرصت ملے تو وہ ان اور دیگر مسائل پر دھیان دیں۔ پاکستان کے قیام کا اصل مقصد یہی تھا کہ پاکستان میں بسنے والے بغیر کسی رنگ و نسل،مذہب اور بلا امتیاز سب سکون اور چین سے زندگی بسر کریں اور کسی کے بھی حقوق پامال نہ ہو۔ ہمارے ملک عزیز پاکستان میں بلخصوص پاراچنار میں انسان دوست لوگ سوشل ایکٹیوسٹ اور مختلف فلاحی ادارے بشمول لیڈ ویلفیئر ٹرسٹ جو علاقے کے بہتری کے لئے ہر قسم کے ممکن اقدامات کر رہے ہے فلاحی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت فاٹا میں دہشتگردی سے متاثر لوگوں میں تعلیم عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عوامی صحت کے تحفظ کے لئے پینے کے صاف پانی، خالص غذاووں، صحت دشمن ماحول کی بہتری،اور آلودگی سے پاک فضا اور بیماروں کو علاج معالجے کی معیاری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوششیں اور صلاحیتیں وقف کئے ہوئے ہیں تو دوسری طرف انسانوں کی شکل میں موجود کالے بھیڑیے ہوس زر میں مبتلا ادویات ساز کمپنیاں ناقص اور غیر معیاری دوائیں تیار کر کے ساری کوششوں پر پانی پھیر رہی ہیں۔

حکومت کو اس رپورٹ کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ لہذا اس برائی کو جاننے کے بعد کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے، مزید معصوم لوگوں کی زندگیوں سے نہیں کھیلنا چائیے۔۔اور نشاندہی ہوجانے والی ادویات کی فیکٹریوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے۔ یہ جرم قتل سے کم نہیں۔ عام آدمی بڑی مشکل سے اور ڈاکٹروں کو بھاری فیسیں دے کر نسخہ لکھواتا ہے لیکن غربت کے باوجود زیادہ پیسے خرچ کر کے جو دوائیں خریدتا ہے، وہ اسے شفایاب کرنے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بیمار کر دیتی ہیں۔

مریض، قسمت یا ڈاکٹر کو کوستا ہے، جبکہ خرابی کہیں اور ہوتی ہے۔ بہرحال اب چونکہ خرابی کے مراکز کی نشاندہی ہو گئی ہے،پس کارروائی، مو?اخذے اورتادیب میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری صوبائی محکمہ صحت کے متعلقہ شعبہ پر عائد ہو گی۔ اس آرٹیکل کی روشنی میں ضلع کرم کے علاوہ دوسرے اضلاع کو بھی اپنے ہاں ادویات ساز کمپنیوں کی مصنوعات کا جائزہ لینا چاہئے کیونکہ ہوس زر کا مرض کسی ایک ضلع یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ ملک گیر ہے۔

اگرچہ ادویات کے دوسروں ممالک سے درآمد کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ چونکہ برسوں سے جعلی ادویات کا بازار گرم ہے ملک گیر لاتعداد معصوموں کی زندگی سے یہ درندے کھیل چکے ہے۔ ہر بار حکومت وعدے پر وعدے کرتی رہتی ہے اور اپنا وقت نکل کر چلے جاتے ہے اب موجودہ سرکار سے عوام کی بے انتہا اُمیدیں وابستہ ہیں کیونکہ موجودہ حکومت نے تبدیلی کے نام پر اپنی حکومت قائم کی۔۔

ہم اپیل کرتے ہے کہ عوام سے کی گئی ہر وعدہ پورا کریں اور خصوصاً جعلی اور غیر معیاری ادویات بنانے والی فیکٹریوں پر جلد از جلد پابندی لگائے اور اس جرم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ہر ایک پاکستانی کے حقوق پامال نہ ہوسکے۔ آخر میں اللہ ہمارے ملک عزیز پاکستان کو ہمیشہ پُرامن اور حوشخال رکھے۔۔ آمین