راولپنڈی سےبرآمدہونےوالی تشدد زدہ لاش گلگت کےطالب علم کی نکلی

گوجر خان(راجہ ارشد محمود/سٹیٹ ویوز) تھانہ گوجر خان کی حدود سے ملنے والی نامعلوم لاش استور کے رہائشی طالب علم کی نکلی مقتول اعجاز مورگاہ کے نجی تعلیمی ادارے میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم کا طالب علم نکلا.مقتول کی گردن اور جسم پر زخموں کے نشان پائے گئے مقتول کا قریبی دوست اور نجی سکول کا گارڈ بھی لاپتہ ہے.

تھانہ گوجر خان کی پولیس کو ایک ہفتہ قبل چکوال سوہاوہ روڈ پرشاہ کی لس نامی جگہ سے ایک نامعلوم لاش ملی جس کے بارے میں ابتدائی طور پر پولیس نے یہ موقف اختیار کیا کہ نوجوان کسی ڈکیت گینگ کا رکن لگتا ہے جسے دوران واردات کسی گاڑی نے ٹکر ماری اور جاں بحق ہونے کے باعث اس کے ساتھ لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں لیکن پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور ورثاء کے سامنے آجانے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ پراسرار طور پر قتل کئے جانے والے نوجوان کانام اعجاز علی ہے اور اس کا تعلق استور شمالی علاقہ جات سے ہے علی اعجاز پاک فوج کے ریٹائرڈ صوبیدار فقیر محمد کا بیٹا تھا اور مورگاہ راولپنڈی میں واقع ایک نجی تعلیمی ادارے میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا.

مقتول اعجاز کے قریبی رشتہ دار عباس علی نے بتایا ہیکہ اعجاز کی دوستی مورگاہ میں ہی واقع ایک دوسرے تعلیمی ادارے کے گارڈ سے تھی جو اس کے ساتھ ہی غائب ہوا ہے اور اس کا اتہ پتہ تاحال معلوم نہیں ہو سکا عباس علی کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع ملنے گورنر گلگت بلتستان اور وزیر اعلیٰ بلتستان نے آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ کیا ہے دوسری جانب اس ضمن میں ایس ایچ او تھانہ گوجر خان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش جدید سائنسی خطوط پر کی جا رہی ہے اور بہت جلد ہی اصل حقائق سامنے آنے کے ساتھ ملزمان بھی قانون کی گرفت میں ہوں گے.