گلگت بلتستان بارےسپریم کورٹ کے فیصلےپرجی بی حکومت اورسیاسی جماعتوں کاموقف سامنےآگیا

رپورٹ :خواجہ کاشف میر
سٹیٹ ویوز:اسلام آباد

سپریم کورٹ آف پاکستان نےگلگت بلستان کی آئینی مستقبل بارے دائر درخواستوں پر تاریخی فیصلہ سنا یا جس کے مطابق جموں کشمیر کے تنازعے کے حل تک گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بن سکتا جبکہ گلگلت بلتستان کے عوام کو تمام بنیادی آئینی حقوق دئیے جانے کی ہدایت کی گئی ہے، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئےکہاکہ گلگت بلتستان کی عدالتیں جی بی آرڈیننس کے ساتھ آئین پاکستان کی بھی تابع ہوں گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی ریٹائرمنٹ کے دن اہم کیس کا فیصلہ سنایا، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ کشمیر پر رائے شماری تک جی بی کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں،فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی مقامی عدالتیں جی بی آرڈیننس کے ساتھ آئین پاکستان کی بھی تابع ہوں گی، ان عدالتوں کا دائرہ اختیار صرف گلگت بلتستان تک ہی محدود ہوگا۔جی بی سپریم اپیلٹ کورٹ کا پاکستان کے دیگر حصوں میں اختیار ہوگا نہ اپیلٹ کورٹ صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دے سکے گی، تاہم گلگت بلتستان کے عوام چاہیں تو سپریم کورٹ میں قانون کو چیلنج کرسکتے ہیں۔


سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہو گی،گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2018 کے آرٹیکل 61 میں سپریم ایلیٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں ججوں کو بھرتی کرنے کے طریقہ کار کو واضح کیا گیا ہے کہ ان دو عدالتوں میں ججز تقرریاں جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جائیں گی اور سپریم اپیلیٹ کورٹ کے ججز کو تعینات کرنے کیلئے قائم جوڈیشنل کمیشن میں چیف جج سپریم اپیلنٹ کورٹ اس کے چیئرمین ہوں گے جبکہ وفاقی سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان اس کے ممبر ہوں گےجبکہ سپریم کورٹ کا کوئی بھی ریٹائرڈ جج جس کو چیف جسٹس پاکستان نامزد کریں گے دو سال کیلئے اس جوڈیشل کمیشن کا ممبر ہو گابار کونسل کی طرف سے نامزد ایک سئنیر وکیل بھی ممبر ہو گا جبکہ ویزر قانون گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹڑی بھی اس جوڈیشل کمیشن کے ممبر اور جوائینٹ سیکرٹری کشمیر و گلگت بلتستان افیئرز اس جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری ہوں گے۔ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر گلگت بلتستان کونسل جج کی تقرری کی سمری چیئرمین گلگت بلتستان کونسل (وزیر اعظم پاکستان ) کو بھیجے گی اور وہ اس کی منظوری دیں گے ۔ اور سپریم اپیلنٹ کورٹ کی تقرری لانا مقصود ہو تو سیکرٹری کشمیر افیئرز اس کمیشن کا سربراہ ہو گا ۔ گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ ایک چف جج اور دو ججوں پر مشتمل ہو گی تاہم وفاقی حکومت ان ججز کی تعداد کو بڑھا سکتی ہے۔

سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جج لگنے کیلئےاہلیت یہ رکھی گئی ہے کہ وہ فرد سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج رہا ہو یا بننے کی اہلیت رکھتا ہویا چیف کورٹ میں کم از کم پانچ سال جج رہا ہو یا پندرہ سال تک ہائی کورٹ میں وکالت کی ہواور یہ ججز 65 سال کی عمر پوری ہونے تک اپنے عہدے پر رہ سکیں گے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جج رہنے والے فرد کو اگر چیف سپریم اپلیٹ جج لگایا جاتا ہے تو وہ 70 سال کی عمر تک اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے گا۔ ان ججز کی تنخواہیں اور مراعات وہی ہوں گی جو سپریم کورٹ کے ججز کو حاصل ہیں جبکہ جی بی کونسل کیلئے ان عدالتوں کو فنڈنگ دی جائے گی۔ چیف کورٹ کے ججز کی بھرتی کیلئے 40 فیصد کوٹا ججز کا اور 60 فیصد کوٹہ وکلا کیلئے مقرر کیا گیا ہے ۔ چیف کورٹ میں ججز کی تعداد سات ہو گی اور 45 سال سے کم عمر کا فرد چیف کورٹ کا جج نہیں بن سکتا جبکہ چیف کورٹ کے ججز 62 سال کی عمر تک اپنے فرائض انجام دے سکیں گے اور چیف کورٹ کے ججز کی تنخواہیں وہی ہوں گی جو صوبوں میں ہائیکورٹ کے ججز کو حاصل ہیں۔

گلگت بلستان حکومت نے وزیر ڈاکٹر اقبال نے اس فیصلے پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کشمیری لابی کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان کے خلاف گہری سازش کی ہےانہوں نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنے مستقل کیلئے تفرقہ بازی سے بالاتر ہوکو حقوق کے حصول کیلئے یکجا ہو جائیں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والےممبر اسمبلی جاوید حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت تسلیم کر لی ہے اب وفاقی حکومت اپنے آئینی اداروں کسٹم کلکٹریٹ، ڈرائی پورٹ اور قومی احتساب بیورو کے دفاتر بند کرتے ہوئے ان کا بوریا بستر یہاں سے گول کر دے اور وفاقی حکومت فوری طور پر گلگت بلتستان میں متنازعہ علاقوں کے قوانین بحال کرے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول سمیت تمام سبسڈیز کو بحال کیا جائے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شہزاد حسین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں وفاقی حکومت کے افسران کا کوٹہ برقرا رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی افسران میں تشویش پائی جاتی ہےکیونکہ نئے ریفارمز کے تحت گریڈ 17 کے افسران کا 25 فیصد کوٹہ، گریڈ 18 کا 20 فیصد کوٹہ، گریڈ 20 کا 60 فیصد کوٹہ اور گریڈ 21 کا 65 فیصد کوٹہ وفاقی ملازمین کیلئے مختص کیا گیا ہے

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے رد عمل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس فیصلے سے مقامی حکومت بے اختیار جبکہ بیوروکریسی کو بااختیار بنا دیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ ، گورنر اور عوامی نمائندوں سے اختیارات لے لیے گئے ہیں ۔ پیپلزپارٹی جی بی کے صدر امجد حسین، جمیل احمد ، سعدیہ دانش اور دیگر نے کہا کہ عوام کا مطالبہ تھا کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق با اختیار سیٹ اپ دیا جاتا لیکن اس فیصلے سے مایوسی ہوئی۔ رہنماوں نے کہا کہ اپنے وسائل اپنے ہاتھ میں لینے اور حق ملکیت کی تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق بارے آزادکشمیر حکومت اور سیاسی قیادت کا موقف رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنائے بغیر تمام حقوق دیئے جائیں ۔ کشمیری قیادت کا موقف رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان، ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس علاقے کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے سے تنازعہ کشمیر پر منفی اثر پڑے گا جبکہ کشمیریوں نے تجزیر دی تھی کہ گلگت بلتستان کو آزادکشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جائے جس میں ان کا اپنا وزیر اعظم ، صدر، سپریم کورٹ اور تمام ادارے شامل ہوں۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تاحال وزیر اعظم گلگت بلتستان یا وزیر اعظم آزادکشمیر کی طرف سے موقف سامنے نہیں آیا ہے جبکہ گلگت بلتستان کے بارے میں فیصلہ آنے کے بعدسپیکر اسمبلی نے 4 فروری کو گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کے مندرجات بارے تفصیلی بحث کی جائے گی۔