ایکسپریس گروپ کی طرف سےملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئیں

رپورٹ:خواجہ کاشف میر
سٹیٹ ویوز:اسلام آباد
پاکستان میں میڈیا کے سب سے بڑے ادارے جنگ جیو گروپ کی طرف سے سینکڑوں میڈیا ورکرز کی برطرفیوں کے بعد اب ملک کے ایک اور معروف میڈیا گروپ ایکسپریس نے اپنے اخبار کے اسلام آباد دفتر سے 31 ملازمین کو برطرف کردیا ہے۔ان ملازمین سے اظہار یکجہتی کرنے اور ان کے حقوق کیلئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ، نیشنل پریس کلب اسلام آباد سمیت تمام صحافی تنظیمیں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں جبکہ حکومت اور حزب اختلاف کے اہم رہنما بھی ان احتجاجوں میں شریک ہو کر برطرف ملازمین کے ساتھ یکجہتی کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔

قبل ازیں ملک کے ایک نامور میڈیا گروپ نوائے وقت نے اپنا ٹی وی چینل وقت نیوز بھی بند کردیا تھا جس کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل سچ نیوز نے یکم اکتوبر 2018 کو 40 کے قریب ملازمین کو بھی برطرف کردیا تھا۔ ان میڈیا گروپس کے علاوہ کئی دیگر اخبارات ، ٹی وی چینلز کے مالکان نے بھی اپنے ملازمین کی معقول چھانتی کر لی یا ان کی تنخواہوں میں واضح کٹوتیاں کردی گئیں۔

پاکستان میں میڈیا انڈسٹری اس قدر زوال پذیر ہو رہی ہے کہ جڑواں شہروں کے علاوہ بھی ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں ملازمین کی چھانٹیاں جاری ہیں۔ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون ، جیو ٹیلی ویثرن نے پشاورکے دفاتر سے اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا ہے۔ جی این این ، بول ٹی وی نے بھی سینکڑوں ملازمین کو نوکریوں سے نکالا ہے۔ اسی طرح کی اطلاعات فیصل آباد، کوئیٹہ، لاہور، کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں سے مسلسل آ رہی ہیں کہ وہاں سے بھی میڈیا ورکرز کی چھانٹیاں تیزی سے جاری ہیں۔

برطرفی کا نوٹی فکیشن

ایکسپریس اخبار کے اسلام آباد دفتر سے برطرف کیے گئے ایک سینئر کارکن نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر ہمارے جن 31 ملازمین کو نوکریوں سے نکالا گیا ان میں اس دفتر کے انچارج سینئر نیوز ایڈیٹر عمران یعقوب سمیت نیوز روم سے 14 ملازمین، پروڈیکشن سے 14ملازمین اور میگزین سیکشن سے ت لوگوں کو اچانک فارغ کردیا گیا جبکہ ہمیں کہا گیا کہ رواں ماہ جتنے دن آپ لوگ ملازمت پر آئے ہیں اتنے دن کی تنخواہ لیں اور رخصت ہو جائیں جبکہ ہم تمام ملازمین ان برطرفیوں کو غیر قانونی قرار دیکر احتجاج کر رہے ہیں۔


پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کو ایک سازش کے تحت ختم کیا جا رہا ہے اور وہ قوتیں میڈیا کا گلہ گھونٹنے کیلئے مالکان کے کندھے استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام ساتھی سخت موسمی حالات کے باوجود دن اور رات ایکسپریس اخبار کے باہر کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں اور ہمارا یہ عزم ہے کہ ان ملازمین کو حقوق ملنے تک ہم ہر فورم پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔


نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شکیل قرار نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ ملک کے بڑے میڈیا ہاوسز نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں میڈیا ورکرز کی برطرفیوں کا جو سلسلہ تیز کیا ہے یہ اس شعبہ کیلئے انتہائی خوفناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اور انکی تنظمیں ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئیں کہ ہم ایسی صورتحال کا سامنا نہ کر سکیں۔ ہم حکومت اور سیاسی تنظیمیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان برطرف ورکرز کے ساتھ احتجاج میں ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو جائز حقوق دلانے تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

قبل ازیں 22 جنوری کو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی اجلاس سے احتجاجا واک آوٹ کر دیا تھا جہاں وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان اور وزیر مواصلات مراد سعید منانے کے لئے پریس لاونج پہنچے تھے تو صحافی تنظیموں کے نمائندگان نے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر قلم اور کیمرے کے مزدور کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری رہی تو پارلیمنٹ کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا جا سکتا ہے ۔اس موقع پر وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں کے حقوق کے لئے انکے ساتھ ہیں- صحافیوں سے کسی قسم کی زیادتی کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی، اس معاملے کو تمام ذمہ داران تک پہنچا کر تحفظات دور کریں گے لیکنحکومتی وزرا کی یقین دہانیوں کے باوجود ابھی تک ان ملازمین کے مطالبات پورے نہیں کیے جا سکے ہیں۔

آبپارہ میں واقع ایکسپریس نیوز کے دفتر کے باہر صحافیوں کے احتجاجی کیمپ میں گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے 2 حکومتی وزیر علی زیدی، زرتاج گل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیٹر بھی تشریف لائے اور برطرف ملازمین سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ معاملے کے حل کے لیے اپنی خدمات کی یقین دہانی کروائی تھی۔


23 جنوری کی رات پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف بھی صحافیوں کے اس احتجاجی کیمپ میں پہنچے جہاں انہوں نے موجودہ حکومت کی پالسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔خواجہ محمد آصف نے پی ایف یو جے صدر افضل بٹ اور دیگر میڈیا ورکز کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان برطرف کارکنان کے حق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ ورکرز صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکومتی وزرا اور حزب اختلاف کے رہنما ہمارے میڈیا ورکرز کے ساتھ واقعی میں یکجہتی کرتے ہیں تو یہ ایکسپریس میڈیا گروپ کے پروگرامات کے بائیکاٹ کا اعلان کریں تب شاید ان مالکان پر کچھ اثر پڑے.

خیال رہے کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران ملک بھر کے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے سینکڑوں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو جبری طور پر برطرف کیا گیا ہے۔ صحافتی اداروں کے مالکان یہ الزام لگاتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے میڈیا ہاوسز کو کمزور کرنے کے لیے ان کے اشتہارات بند کر دیے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مالی خسارے کا سامنا ہے دوسری طرف صحافتی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ان میڈیا ہاوسز کا آڈٹ کرایا جائے.