ناراض اخترمینگل مان گئے،تحریک انصاف کی حکومت ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)تحریک انصاف کی حکومت کو سہارا دینے اور ٹوٹنے سے بچانے کیلئے سب سے اہم اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے اپوزیشن سے فاصلے بڑھنے جبکہ حکومت سے کم ہونے لگے ہیںاورحکومت نے مینگل گروپ کے مطالبات پر نہ صرف تین رکنی وزارتی کمیٹی بنادی ہے بلکہ آرمی چیف سے ملاقات کی یقین دہانی بھی کرادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو وزیر اعظم بننے کے لئے 172 چاہیے تھے جبکہ انہیں 176 ووٹ ملے تھے اضافی چار ووٹ بی این پی مینگل کے تھے یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے تسلسل کے لئے فیصلہ کن چار ووٹ اسی جماعت کے ہیں۔

چندر وز قبل تحریک انصاف نے بی این پی کے ساتھ سردمہری دکھائی تو سردار اختر مینگل نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنے ارکان اپوزیشن کے اجلاس میں بجھوادئے جس پر حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے سردار اختر مینگل سے رابطہ کیا اور ان کے مطالبات ماننے کی یقین دہانی کرائی ہے اس پر اختر مینگل نے ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، آغا حسن بلوچ اور ثنااللہ بلوچ پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جس نے جہانگیر ترین سے مذاکرات کےے اس دوران ان کا چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کا مطالبہ بھی مان لیا گیا ہے ۔

حکومت کی طرف سے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی ،وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اوروفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار پر مشتمل تین رکنی بھی بنا دی ہے اورتین رکنی حکومتی کمیٹی سردار اختر مینگل اور چیف آف آرمی سٹاف کی ملاقات کے لئے اعلی قیادت کے ساتھ وقت اور تاریخ طے کرے گی ۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی این پی مینگل کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن آغا حسن بلوچ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ چیف آف آرمی سٹاف ہی حل کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہمارے لئے بہت ہی اہم ہے ۔