بھارتی اوراسرائیلی خفیہ ایجنسیاں امریکہ،طالبان امن معاہدہ سبوتاژ،پاکستانی کردارختم کرنے کیلئے متحرک

لاہور (سٹیٹ ویوز )امریکہ،طالبان امن معاہدہ کس طرح سبوتاژ کیا جائے پاکستان کو اس معاہدے میں کردار ادا کرنے سے کس طرح روکا جائے ،را،این ڈی ایس ، موساد اور امریکی خفیہ ایجنسیاں نہ صرف اس حوالے سے متحرک ہو گئی ہیں بلکہ ان انکے پے رول پر کام کرنے والے مختلف گروہوں نے اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں،

قومی اخبار کے معروف تجزیہ نگار رانا عظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتیں مزید تیزکرنے اور افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملے او ر تاجروں کو ٹارگٹ کرنا پلان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے را اور دیگر غیر ملکی قوتوں نے گروپوں کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں، ان کے کئی اہم رابطوں کے حوالے سے بھی پاکستان کے اہم اداروں نے ثبوت حاصل کر لئے ۔

با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت، اسرائیل اور خود افغانستان کے اندر انکی خفیہ ایجنسیاں کسی صورت بھی ان مذکرات کے حق میں نہیں ہیں اور نہ کسی صورت وہاں سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء چاہتی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خود امریکی خفیہ ایجنسیاں بھی ٹرمپ کے اس اقدام سے نا خوش ہیں ۔کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ ، لورا لائی میں ڈی آ ئی جی آ فس میں دہشت گردی کی واردات بھی اسی کا شا خسانہ ہے ۔

فیصل آ باد اور گوجرانوالہ میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانیوالے دہشت گرد بھی انہی غیر ملکی قوتوں کے نہ صرف پے رول پر تھے بلکہ بڑی تباہی مچانا انکا ٹارگٹ بھی تھا ۔ چند روز قبل افغانستان میں جس خاتون نے پاکستانی قونصلیٹ پر حملہ کی کوشش کی تھی اس کا تعلق بھی انہی اداروں سے نکلا ۔

با وثو ق ذرائع کے مطابق افغانستان ، دہلی اور آ گرہ میں باقاعدہ اس پر کام کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے بی ایل اے ، داعش ، تحریک طالبان پاکستان اور ایم کیو ایم لندن سمیت تین کا لعدم تنظیموں کو اس حوالے سے باقاعدہ مکمل سپورٹ دی جا رہی ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان میں بھی پاکستانیوں کو نشانہ بنائیں اور پاکستان میں اس طرح کا ما حول پیدا کر دیں کہ پاکستان کی توجہ اس معاہدہ کو کامیاب کرانے کی بجائے اپنے حالات ٹھیک کرنے میں لگ جائے ۔

اسی وجہ سے پاکستان کی طرف سے بار بار کہنے کے باوجود بھی افغان بارڈر کے اوپر لگے ہوئے موبائل ٹاورز کو ہٹایا نہیں جا رہا اور انہی موبائل ٹاورز کی وجہ سے پاکستان میں افغان سمیں استعمال ہو رہی ہیں۔۔یہ غیر ملکی قوتیں اپنے تیار کردہ دہشت گردوں کے ساتھ افغان موبائل سموں کے ذریعے رابطے کرتی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اگر امریکہ افغان طالبان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو بی ایل اے ، داعش، ٹی ٹی پی کی بھی پاکستان کے خلاف کارروائیاں بری طرح متاثر ہو ں گی ۔