وزیراعظم آزادکشمیرنےتجارتی، کاروباری اورزرعی ماہرین کوکشمیرکی ترقی کارازبتا دیا

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز) وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ معاشی اور اقتصادی طور پر ایک فعال اور مستحکم پاکستان اہل پاکستان ہی نہیں کشمیریوں کے بھی بہترین مفاد میں ہے اور مملکت خداد پاکستان میں جس قدر بھی معاشی و اقتصادی اور زرعی طور پر استحکام اور ترقی ہوگی اور جس قدر امن ہو گا اس کے ملکی سیاست اور تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر پر زیادہ مثبت اوردورس اثرات مرتب ہونگے ۔ پاکستان اور کشمیریوں کے فطری رشتوں اور تعلقات کو زیادہ مضبوط بنانےمیں مدد ملے گی ۔

وہ مقامی ہوٹل میں فور برادرز گروپ آف پاکستان اور پاکستان انجینئر نگ کونسل کے تعاون سے منعقدہ ایک بڑی سالانہ بزنس کمپنیز کی چیف ایگزیکٹیو آفیسرزکانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس کانفرنس میں وزیراعظم آزادکشمیر کے علاوہ ان کی کابینہ کے ممبران وزیر تعلیم سکولز بیرسٹر افتخار گیلانی ، وزیرتعلیم ہائر ایجوکیشن کرنل وقار احمد ،وزیر ٹیوٹا ڈاکٹر مصطفی بشیر ، وزیرلوکل گورنمنٹ راجہ نصیر احمد خان ، سیکرٹری زراعت و امور حیوانات راجہ طارق مسعود ، سیکرٹری سروسز ڈاکٹر لیاقت حسین اور حکومت کے دیگر سیکرٹریز و سربراہان محکمہ جات اور انجینئر ز کے علاوہ پاکستان بھر کے ایگری بزنس کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو ز آفیسرز ، انجینئرنگ کونسل اور دیگر تجارتی و کاروباری اور زرعی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے زور دے کر کہا کہ ان کی دلی خواہش ہے اور وہ اکثر یہ سوچتے بھی رہتے ہیں کہ پاکستان کو اتنے زیادہ مالی وسائل میسر آسکیں کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ زرعی اور اقتصادی ترقی کیلئے منصوبہ بندی کر کے اس پر زیادہ سے زیادہ عمل درآمد کیلئے اقدامات کئے جاسکیں اور اہل پاکستان اور آزاد خطہ کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر کھیتی باڑی اور سبزیوں اور پھلوں کی زیادہ سے زیادہ کاشت کاری کیلئے راغب کیا جائے اور پاکستان کے تمام صوبوں اور آزاد کشمیر کے تمام علاقوں خاص کر ان دیہی اور زرخیز علاقوں جہاں کا موسم زیادہ ساز گار ہوتا ہے اور وہاں سبزیوں اور پھلوں کو اگانے کیلئے زیادہ بہتر موسمی حالات ہوتے ہیں اور پانی کی ضروریات بھی زیادہ بہتر انداز سے پوری کی جاسکتی ہیں وہاں حکومت اور متعلقہ حکومتی و سرکاری اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے زرعی ، معاشی اور اقتصادی ترقی کیلئے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ نہ صرف ہم سبزیوں اور پھلوں کی ملکی سطح پر اپنی زیادہ سے زیادہ ضروریات پوری کر سکیں بلکہ ان سے اپنے ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے بھی زیادہ بہتر انداز سے ان کی برآمدکریں ۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے زلزلے کے بعد لوگوں نے اپنے ہاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیا ہے خاص کر زرعی شعبوں میں ہمارے اس آزاد خطہ میں لوگوں کے کھیتی باڑی کے کام کرنے کی دلچپسی اب خاصی کم ہو گئی ہے اور بہتر موسمی حالات او رپانی کی بنیادی اور ضروری سہولیات میسر ہونے کے باوجود پاکستان کے کسانوں اور بزنس کمیونٹی کے تعاون سے آزادکشمیر میں زرعی ترقی کیلئے وہ کچھ نہیں کیا جارہا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ انہوں نے اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے شرکت کرنے والے ایگری بزنس ، انجینئر نگ کونسل اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے زرعی ماہرین اور دیگر کاروبای کمپنیوں کے نمائندوں اور دوسرے لوگوں پر زور دیا کہ وہ آزادکشمیر کی زرعی ترقی کیلئے حکومت آزادکشمیر اور اس کے متعلقہ شعبوں سے زیادہ سے زیادہ تعاون کریں ۔

انہوں نے سالانہ کانفرس کے مظفرآباد میں انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس سلسلے میں تقریب کے منتظم سلیم جاوید قریشی اور دیگر جملہ چیف ایگزیکٹو ز آفیسرزایگری بزنس کمپنیز کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ ان کی حکومت آزادکشمیر کی زرعی ترقی کے سلسلے میں ان سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور ان کی طرف سے مظفرآباد میں مطلوبہ اکیڈمی کے قیام سمیت دیگر ضروری تجاویز پر عمل درآمد کیلئے ان کی حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی اور فور برادرز یاانجینئرنگ کونسل سمیت دیگر کمپنیوں اور زرعی ماہرین کی آزاد خطہ میں ہر ممکن حوصلہ افزائی کریں گئے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد خطہ کے مختلف دور دراز علاقوں میں زرعی ترقی کیلئے بہت مواقع موجود ہیں اور آزاد خطہ میں موجود پوٹینشل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر کے اس علاقے کی زرعی اور معاشی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے آزاد خطہ کے لوگوں نے دیہی سبزیوں اور پھلوں کی بڑی محنت سے کاشت کر کے اور خود کھیتی باڑی کر کے سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ گندم ، چاول ، گنے اور دیگر زرعی اشیاء کی پیداوار کیلئے بہت کچھ کیا جس کا اب بدقسمتی سے لوگوں میں رجحان بہت کم ہو چکا ہے اور اس خطہ کے لوگوں کو اس طرف راغب کر کے موسمی حالات کو پیش نظر رکھ کر اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جائے تو اس کے ہماری معاشی اور اقتصادی ترقی پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کواس کانفرنس کی تقریب کے اختتام سے قبل پاکستان بھر سے آئے ہوئے ایگری بزنس اور دیگر کمپنیز کی طرف سے تعریفی شیلڈ بھی دی گئی اور حکومت آزاد کشمیر کے وہاں موجود وزراء ، سیکرٹریز سروسز، زراعت ، پی ۔ این۔ ڈی اور دیگر کے علاوہ کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو ز اور ان کے دیگر نمائندوں کو تعریفی شیلڈ زدیتے ہوئے ان کی معیاری اور مثالی کار کردگی پر ان کو شاباش بھی دی۔

اس سے قبل حکومت آزاد کشمیر کے سیکرٹری زارعت راجہ طارق مسعود نے سالانہ ایگری بزنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور دیگر زرعی ماہرین اور انجینئر ز کو سلائیڈز کی مدد سے آزادکشمیر میں زراعت اور امور حیوانات کے مختلف شعبوں سے متعلق امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

اس سے قبل تقریب کے منتظم جاوید سلیم قریشی کی طرف سے ان کے ساتھیوں اور نمائندوں نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان کر اس سلسلے میں گہری دلچسپی پر ان کا شکریہ ادار کرتے ہوئے آزادکشمیر میں زرعی ترقی کیلئے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور مظفرآباد میں زرعی اکیڈمی کے دفتر کے قیام سمیت دیگر اہم تجاویز بھی پیش کیں۔