مارچ اہم ،عمران خان کے اہم اتحادی اخترمینگل حکومت سے علیحدگی کیلئے تیار

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)اپوزیشن سے خوفزدہ عمران سرکار اس وقت حکومت مخالف پارلیمانی گروپوں کے اتحاد سے بھی خوفزدہ ہے کہ اپوزیشن نے آف دی ریکارڈبالواسطہ بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل سے رابطے کئے اور اگر مینگل کو آصف علی زرداری کی طرف سے سبز جھنڈی کا اشارہ ملتا ہے تو وہ کوئی دقیقہ فرو گزاشت کئے بغیر اپوزیشن سے ہاتھ ملا دیں گے۔

ذمہ دار اپوزیشن ذرائع نے بتایا ہے کہ ہمارےٴٴ نمبرز ایک ہاں کہنے سے پورے ہونے میں ہفتے یا دن نہیں بلکہ گھنٹے لگیں گے لیکن اپوزیشن کے سارے گروپ یہ چاہتے ہیں کہ تبدیلی ڈھانچہ اپنے وزن سے خود دھڑام سے گرے اس کا الزام اپوزیشن پر نہ لگے کہ ہم سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں اگر ایسانہ ہو سکا تو رمضان المبارک سے پہلے یہ نیک فریضہ ہم خود سر انجام دیں گے ۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد قائم ہو چکا ہے اس اتحاد کو عملی حیثیت دینے کے لئے زرداری نواز ملاقات کی ضرورت ہے آصف زرداری میاں نوازشریف کی ضمانت کا انتظار کر رہے ہیں اگر یہ ضمانت اگلے 15دن میں ہو جاتی ہے توٹھیک بصورت دیگر زرداری اور بلاول کوٹ لکھپت جیل خود جائیں گے اور وہ ان کی عیادت کریں گے اس سیاسی مزاج پرسی میںعمرانی سرکارٴٴکاتیاپانچہ کرنے کا اصولی فیصلہ ہوگا۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ اپوزیشن چیمبرمیں پیپلز پارٹی کی اہم شخصیت اورمیاں شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں اپوزیشن کے متوقع اقدام اتحاد کو مضبوط بنانے پارلیمنٹ میں حکمران اتحاد کو سکھ کا سانس نہ لینے دینے اور زرداری ، نواز ملاقات کروانے پر تبادلہ خیال کیا گیا اس ملاقات میں فیصلہ ہوا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو ایوان میں ٹف ٹائم دے گی ،روزانہ واک آئوٹ کیا جائے گا، فی الحال حکومت کو نہیں چھیڑا جائے گا تاکہ جمہوری نظام کو زک نہ پہنچے اور الزام حزب اختلاف پر نہ آئے…

یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ حکمران اتحاد کے اتحادیوں ایم کیوایم اور بی این پی مینگل سے رابطوں کاتسلسل برقراررکھا جائے گا اور مارچ میں جائزہ لیا جائے گا کہ حالات کس نہج پر پہنچے ہیں ، آیاکاری وار کا وقت آن پہنچا ہے یا رمضان المبارک کے بعد عیدکا گفٹ دیا جائے ۔