لندن میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کی تیاریاں اوربھارت کی ناکام کوشش

لندن (تجزیہ شیراز خان+ سٹیٹ ویوز)لندن برطانوی ہائوس آف کامنز میں آج ہونے والی انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس آل پارٹیز پالیمنٹری گروپ فار پاکستان کے چیئرمین رحمن چشتی ایم پی نے منعقد کی ۔ وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی مہمان خصوصی ہونگے سینیٹر مشاہد حسین سید، آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان، آزا کشمیر کے سابق وزرائے اعظم سردار عتیق احمد خان، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، آزاکشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چودھری یاسین، سنیئر وزیر چوھدری طارق فاروق بھی لندن میں ہیں جن کی شرکت یقینی دکھائی دیتی ہے لیکن حتمی طور پر اس موقع پر کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔۔

پنجاب اسمبلی کے میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازشریف بھی لندن میں ہیں یہ کنفرم نہیں ہوسکا کہ رحمن چشتی نے انہیں بھی شرکت کی دعوت دی ہے یا نہیں البتہ اگر حمزہ شہباز کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ اپنے لئے نیک نامی ہی کمائیں گئے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کے بعد آج شام پاکستان ہائی کمیشن لندن میں پریس کانفرنس بھی کریں گے۔کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی حکومت نے برطانوی حکومت پر دبائو ڈالا ہے کہ پارلیمنٹ میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کو منسوخ کیا جائے۔لیکن برطانوی حکومت نے اس سے انکار کردیا ہے یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ہندوستان کی حکومت نے کس پلیٹ فارم پر انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کو ملتوی کرانے کی کوششیں کیں۔

دوسری جانب یہ ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممبران آف پارلیمنٹ کی شرکت کو یقینی بنایا جائے اور دیسی لیڈروں کی تقریریں کم کروائی جائیں چونکہ ممبران پارلیمنٹ کے پاس وقت کم ہوتا ہے ہمارے پاکستان کی طرح نہ تقریریں یہاں کی جاتی ہیں نہ سنی جاتی ہیں ۔شاہ محمود قریشی نے لندن پہنچنے پر درست موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کشمیر پر ہندوستان سے بامعنی دو ٹوک مزاکرات کے لئے تیار ہے یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق جو رپورٹ منظر عام پر آئی تھی بدقسمتی سے اس کا ہم فالواپ نہیں کر سکے دنیا کے سامنے یہ رپورٹ رکھی جانی چاہیے تھی۔ لیکن اس کا پاکستان نے فائدہ نہیں اٹھایا۔

اب شاہ محمود قریشی نے ایک بہت بولڈ قدم اٹھایا ہے اور اسی رپورٹ کو بنیاد بنا کر دنیا کے دراحکومتوں میں اس کی تشریح کرنے کی ا ٹھانی ہے جو راست اقدام ہے۔ برطانوی ہاوس اف لارڈز کے رکن لارڈ قربان حسین نے انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کو نہایت مثبت پیش رفت قرار دیا ہے ۔پاک یوکے بزنس فورم اور پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین چوہدری عبدالعزیز اور پروفیسر نزیراحمد شال نے بھی کشمیر کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی پیشنگوئی کی ہے۔ بھارت کو مزاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان کی جانب سے اسے دبائو بڑھانے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے

دوسری جانب پاکستان کے نئے ہائی کمشنر نفیس ذکریا اور ہائی کمیشن کا عملہ کشمیر کانفرنس اور یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ہونے والے تمام پروگراموں کو موثر بنانے کے لئے بھرپور اقدامات کررہا ہےاوسلو ناروے سے متحرک کشمیری رہنما سردار علی شاہنواز بھی ناروے کے سابق وزیراعظم کے ہمراہ لندن پہنچے ہیں جو کشمیر کانفرنس میں شرکت کریں گے