Naveed Abbasi
نقطہ نظر/نوید عباسی

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پر تشدد ویڈیو کی اندرونی کہانی

آج سوشل میڈیا پرایک ویڈیو دیکھی جس میں کچھ لوگ ایک درمیانی عمر کے شخص کو گھیرے میں لے کر اسے مرغا بنا کر تشدد کر رہے ہیں۔اسے بہیودہ گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو پاکستان کے زیرانتظام آزادکشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ کی یونین کونسل مکھیالہ کے نواحی گاؤں تمروٹہ سے متعلق ہے ۔ اس واقعہ کو وقوع پذیر ہوئے کچھ ماہ ہو چکے ہیں مگر یہ ویڈیو آج ہی منظرعام پر آئی- اب دونوں فریقین کے درمیان اس بات کو لیکر سننے میں‌آ رہا ہے معاملات طےہو چکے تھے یا ہونے کے قریب تھے –

یہ ویڈیو تو دیکھ کر ہر شخص کا جذباتی ہونا فطری بات ہے- کسی شخص پر کوئی اس طرح ظلم کرے تو دیکھنے والا جہاں کا بھی ہو اسے دکھ ضرور پہنچتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں -کہتے ہیں کہ ہر ردعمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی عمل ضرور چھپا ہوتا ہے- کوئی شخص بلاوجہ اپنے ہی گاؤں یا محلے کے شخص پر تشدد نہیں کرتا۔ کچھ تو ایسا ہوتا ہے جو لوگوں کو ایساکرنے پر مجبور کر دیتا ہے -ہمارے سامنے ویڈیو میں تو تشدد سہنے والا شخص بظاہر بہت ہی مظلوم دکھائی دیتا ہے اور ظلم کرنے والے لوگ انتہائی ظالم لیکن ہم لوگ ہمیشہ تصویر کا ایک ہی رخ دیکھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

ہم اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے ہیں کہ اس تشدد کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں؟ ہمارے ہاں آجکل جعلی پیری فقیری کا دھندہ عروج پر ہے اور اس دھندے کے ذریعے لوگوں کے ہنستے بستے گھر برباد کیے جا رہے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں جو با آسانی جال میں پھنس جاتی ہیں۔ آجکل شادی شدہ لڑکیاں اچانک سے گھرسے بھاگ جاتی ہیں- ہنسی خوشی زندگی گزارنے والے جوڑوں میں اچانک طلاق ہو جاتی ہے- نکاح کی کوئی حثییت باقی نہیں رہی ہے-جادو ٹونہ کے ذریعے غیر شادی شدہ لڑکیوں کو ماں باپ کی مرضی کے برعکس شادی کرنے پر مجبور کر دیا حاتا ہے اور بعض دفعہ ان کی عزت تار تار کر دیجاتی ہے –

شادی شدہ عورتوں کو نشانہ بنا کر پہلے انکے گھروں میں جھگڑے اور غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں اور پھر انہیں بلیک میل کر کے انکی زندگی برباد کر دی جاتی ہے-اس ویڈیو کی حقیقت جاننے پر جو بات سامنے آئی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ مذ کورہ شخص کا نام شیح مجید ہے- یہ جعلی پیری فقیری کا دھندہ کرتا ہے اور اس دھندے کی آڑ میں جادو ٹونہ بھی کرتا تھا- اسی جادو ٹونہ کے ذریعے ہنستے بستے گھر بھی تباہ کرا چکا تھا- اس شخص کو پہلے بھی اس کام سے باز آنے رہنے کیلئے وارننگ دی گئی مگر سننے میں آیا ہے کہ اس نے اس کام سے توبہ کرنے کے بجائے محلے کے مزید گھروں میں پنجے گاڑھنے کی کوشش کی- جب متاثرہ فیملی کے مردوں کو اس بات کا علم ہوا تو پھر انہوں نے از خود کاروائی کی جسکی ویڈیو بھی بنائی گئ-خود سوچیے جو لوگ جعلی پیری فقیری کے ذریعے جادو ٹونہ کرکے معاشرے کا سکون برباد کر رہے ہیں- لوگوں کی زندگیوں سے سکون چھین رہے ہیں دوسروں کی عورتوں پر بری نظر ڈالتے ہیں – لوگوں کو بلاوجہ پریشان کرتے ہیں- ایسے لوگ جب پکڑے جائیں تو انکے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟

اس شخص کوثبوتوں کیساتھ پولیس کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ہمارے ہاں ایسا کونسا قانون موجود نہیں ہے جس کے ذریعے ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزادی جائے- پولیس ایک تو با اختیار نہیں دوسری بات ایسے واقعات میں انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔پہلے ہر گاؤں میں برادری سسٹم ہوتا تھا۔ کوئی شخص کسی گھناؤنے جرم میں ملوث ہوتا تو برادری کےذمہ دار لوگ اسے سخت سزا دیتے تھے- اب نہ برادری سسٹم رہا اورنہ حق و انصاف کی بات کرنے والے لوگ رہے-

تبھی لوگ ایسے موقعوں پر قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں-ہمارے ہاں برادریوں ،قبیلوں کے تنازعات اکثر چلتے رہتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کی تاڑ میں رہتے ہیں -جب کبھی کوئی موقع ملتاہے تو اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے- یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہونے کے پیچھے بھی ایسی ہی کہانی ہے -ویڈیو بنانے والے شخص کے موبائل سے ویڈیو لے کر کسی دوسرے نے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی -یہ زلزلے بار بار ہماری زمین کو جنجھوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ زمین والو شیطانی کاموں سے باز آجاؤ مگر ہم لوگ دن بدن گمراہی کی طرف جا رہے ہیں –

آئیے سب ملکر اپنے معاشرے کو تباہ ہونے سے بچائیں جو لوگ کسی قسم کے شیطانی کاموں کے ذریعے لوگوں کے درمیان نفرتیں اور عداوتیں پیدا کر رہے ہیں انکو بے نقاب کرکے انکے خلاف قانونی۔سماجی اور معاشرتی کاروائی کرکے اپنے معاشرے کو تباہی سے بچائیں۔