نگہت عتیق

ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کیلئے سیاسی جدوجہد

تحریر: نگہت عتیق
خاتون رہنما جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی

ہم جس سرزمین کے باشندے ہیں اس کا نام جموں کشمیر و اقصائے تبتہا (لداخ، گلگت و بلتستان) ہے، یہ اس ریاست کا سرکاری نام ہے جسے عمومی طور پر ریاست جموں و کشمیر کہا جاتا تھا ۔ہمارا ملک جسے 16 مارچ 1846 کے معائدہ امرتسر کے ذریعے مہاراجہ گلاب سنگھ جی نے قائم کیا تھا، ہمارے ملک پر 22 اکتوبر 1947 کے فوجی و قبائلی حملے کے ذریعے تقسیم کر دیا گیا۔ تب سے ہمارے ملک کو تحلیل کرنے کا کھیل جاری ہے اور اس کے وجود اور مستقبل کا تعین آج بھی خِطے کی تین ایٹمی طاقتوں کے مابین ایک جاری تنازعہ ہے ۔

سال 1947 سے لیکر اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ معصوم ریاستی شہری اس تنازعے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، ہندوستان نے جموں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے ہندوستانی فوج لاکھوں کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔ کشمیری شہدا مین بچوں ، خواتین سمیت ہر عمر کے افراد شامل ہیں جو آزادی کے حصول کیلئے گزشتہ 7 دہائیوں سے کوشاں ہیں۔ منقسم کشمیر کا وہ علاقہ جس پر ہندوستان نے طاقت کے زور پر قبضہ کر رکھا ہے اس علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہی سلب نہیں ہو رہیں بلکہ وہاں آئے روز ظلم کے جو پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ان کی جیسی بدترین مثال شاید ہی تاریخ انسانیت میں ملتی ہو۔

ہمارے ملک پر بحیثیتِ کُل یا اس کے مختلف حصوں پر متحارب فریقین کی طرف سے ملکیت کا دعوی’ کیا جاتا ہے مگر تاحال کسی بھی دعوے کو حتمی طور پر طے نہیں کیا جا سکا ۔ عالمی قوانین، سیاسی اخلاقیات، شہریت کے اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق کے معیار کی بنیاد پر ریاست کے شہری اس تنازعے کے سب سے اہم اور بنیادی فریق ہیں اور درحقیقت ملک کے مالک اور وارث ہیں، مگر اس حقیقت کے باوجود کہ ریاستی شہریوں کی زندگیوں، ان کے معاشی، سیاسی، ثقافتی، لسانی اور سماجی حقوق اور ان کی آئیندہ نسلوں کی بقاء کا انحصار اور دارومدار اس تنازعے کے حل کی نوعیت میں مضمر ہے، عملی طور پر ریاستی شہری اس تنازعے کی سب سے کمزور اور ناتواں پارٹی ہیں۔ آج تک عوام کی نمائندگی کا دعوی’ کرنے والی کسی بھی سیاسی جماعت نے ملک کی سالمیت و یکجہتی، عوام کے مسائل، مصائب، مشکلات، مطالبات، خواہشات و ترجیحات اور خِطے میں مستقل قیام کی ضرورت کا نہ ہی ادراک کیا ہے اور نہ ہی اس جانب کوئی عملی قدم اٹھایا ہے ۔ اس جاری تنازعے نے نہ صرف یہ کہ ریاست کے لوگوں کو لاکھوں کی تعداد میں اپنے پیاروں کی وحشت ناک موت کا صدمہ دیا ہے بلکہ انہیں لگ بھگ تمام بنیادی انسانی، سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق سے بھی مسلسل محروم کر رکھا ہے ۔

یہ ہے وہ صورتحال جس کا 1947 سے ہمارے ملک کے لوگ سامنا کرنے پر مجبور ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاستی شہریوں نے آج تک کبھی اپنا کوئی قومی ریاستی بیانیہ بنایا ہی نہیں اور وہ ہمیشہ شعوری یا لاشعوری طور پر قابض ممالک کے ریاستی بیانئیے ہی کو اپنا قومی بیانیہ سمجھ کر سیاسی جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔اس خطے کے اندر اور باہر کچھ ایسی قوتیں ہیں جو اس جاری تنازعے اور اس ابتر صورتحال کو بدلنے پر رضامند نہیں ۔ یہ قوتیں اپنے مذموم مقاصد کی خاطر اس تنازعے کو اسی طرح جاری رکھنا چاہتی ہیں اور ہر اس فکری و عملی کام کی مخالفت کرتی ہیں جو موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لئیے اٹھایا جاتا ہے ۔ اس تنازعے کے برقرار رہنے کا اور کسی کو کیا فائدہ ہے اس سے قطع نظر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس تنازعے کے جاری رہنے کا ریاستی عوام کو نہ صرف سیاسی اور معاشی نقصان ہو رہا ہے بلکہ رفتہ رفتہ ریاست اور اس کے عوام کی شناخت اور ان کا وجود بھی مٹتا جا رہا ہے۔

اس تنازعے کو حل کرنے کے لئیے 1947 سے ریاستی عوام اور مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے جتنی بھی سیاسی یا غیرسیاسی کوششیں ہوئی ہیں وہ سب کی سب بُری طرح ناکام ہوئی ہیں اور اس ناکامی اور نامرادی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن سیاسی اصولوں اور جس ریاستی بیانئیے کی بنیاد پر یہ کوششیں کی گئی ہیں وہ ریاستی بیانیہ اور وہ سیاسی اصول سرے سے ہی غلط، ملک دشمن، عوامی مفادات کے منافی اور غیر حقیقی تھے ۔ان انتہائی مایوس کن حالات میں جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی نے ایک طویل عرصے تک ان ابتر ملکی حالات اور ریاستی عوام کی مسلسل ناکامیوں کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے اور پارٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ فکری اور نظری بنیادیں جن کے تحت 1947 سے ہمارے ملک کا مسئلہ حل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں سب کی سب غلط تھیں ۔

چنانچہ برسہا برس کے طویل غور و خوض کے بعد ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کے تنازعے کے پرامن، سیاسی، منصفانہ اور جمہوری حل کے لئیے، ایک آزاد، خودمختار اور خوشحال ملک تعمیر کرنے کے لئیے اور عوام کو فلاحِ عامہ اور سماجی تحفظ کی بنیادوں پر ایک ایسا پُرامن مستقبل دینے کی خاطر جس میں کامل سیکولر بنیادوں پر ملک کے عوام پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق پیار، محبت، اخوت اور بھائی چارے کے ساتھ اپنا اور اپنی آئیندہ نسلوں کا مستقبل یقینی بنا سکیں اور جہاں نہ صرف عوام کے جان، مال، عزت آبرو، مذہب، سماجی روایات، طرزِ معاشرت، تاریخ اور لسانی و تہذیبی ورثے کی بقاء، تحفظ اور ترویج کی ریاست آئینی طور پر پابند ہو بلکہ عوام کو صلاحیت و اہلیت کے مطابق روزگار کی دستیابی اور ضرورت کے مطابق وسائل کی فراہمی ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری بھی ہو؛ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی نے ملکی سیاسی جدوجہد کی مسلسل ناکامیوں کے بعد ایک نیا قومی ریاستی بیانیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی امید کرتی ہے کہ جو لوگ اس قومی ریاستی بیانئیے اور پارٹی کی اس نظریاتی و فکری اساس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں وہ باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہو کر پارٹی آئین و ضوابط کے مطابق اپنے ملک اور قوم کا نصیب بدلنے کے لئیے پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کریں گے ۔

ہمارے ملک کی صورتحال یہ ہے کہ تازہ پانیوں، گھنے جنگلات، قیمتی معدنیات، انواع و اقسام کے پھلوں، اناج اور سخت گیر و محنتی افرادی قوت کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود آج اس اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک میں مجموعی طور پر تعلیم، صحت، روزگار، ذرائع نقل و حمل اور رسل و رسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، ریاست بنیادی طور پرعوامی امنگوں کے مطابق ببنے والے آئینی ڈھانچے سے محروم ہے اوردونوں ممالک کے ملکی آئین ریاست پر نافذ کر دیے گئے ہیں جس کا سبب ملک کی تقسیم اور اس کے مستقبل کے تعین کا تنازعہ ہے اور اس تقسیم اور تنازعے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ریاست کے عوام بنیادی انسانی، سیاسی، قانونی، معاشی، ثقافتی اور آئینی حقوق سے محروم ہیں ۔ ریاست کے وسائل کو بے دریغ طریقے سے لوٹا جا رہا ہے اور ریاستی عوام ان وسائل کی آمدن اور فوائد سے محروم ہیں ۔ہماری سوچ کے مطابق ریاست میں بنیادی انسانی حاجات، تعلیم، صحت اور روزگار سمیت کسی قسم کا کوئی بنیادی سماجی، عدالتی، آئینی، سیاسی و اقتصادی ڈھانچہ موجود نہیں اور عوام دنیا بھر کے بدترین و بد دیانت سیاسی نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اکیسویں صدی میں عوام کی اس حالت زار کا واحد سبب وہ جھوٹا ریاستی بیانیہ ہے جو 1947 سے عوام کو پڑھایا اور سکھایا جا رہا ہے ۔
جموں کشمیر نیپ سمجھتی ہے کہ جب تک عوام اس جھوٹ اور فریب پر مشتمل ان ممالک کے ریاستی بیانئیے کو مسترد نہیں کرتے ان کی تقدیر نہیں بدلے گی ۔بظاہر ریاستی عوام کا سیاسی سفر 1947 سے جاری ہے مگر تاحال یہ سفر دائروں میں ہی جاری ہے اور اس سفر کی کسی منزل کا کوئی سراغ نظر نہیں آتا ۔جموں کشمیر نیپ کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام جس راستے پر چل رہے ہیں وہ راستہ منزل کی جانب جاتا ہی نہیں ۔ریاستی بیانیہ دراصل سفر کے لئیے راستے کا وہ نقشہ ہوتا ہے جو منزل کی واضح نشاندہی کر کے سفر کی سمت کا تعین کرتا ہے ۔ اگر ریاستی بیانیہ درست نہیں ہو گا تو کبھی بھی منزل نہیں ملے گی ۔
جموں کشمیر نیپ امید کرتی ہے کہ عوام 1947 میں کی جانے والی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اب درست سمت اور راستے کا تعین کریں گے ۔
چنانچہ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے اندر 1947 سے جاری تحریک کے بنیادی خدوخال اور رہنما پالیسی اصولوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ اگر اس تحریک میں درکار بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں تو ریاست جموں کشمیر کے عوام کو کبھی بھی قومی آزادی، ریاستی یکجہتی، سماجی انصاف اور معاشی ترقی کی منزل نہیں مل سکتی ۔
لہذا جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی نے مادرِوطن میں 1947 سے جاری قومی آزادی اور ریاستی یکجہتی کی تحریک میں موجود خامیوں کو ختم کرنے کی غرض سے نیا قومی ریاستی بیانیہ تشکیل دیا ہے ۔ پارٹی اس بیانئیے کی تشکیل میں کالم نگار، محقق اور پارٹی رہنما ثمینہ راجہ کے عملی تعاون اور شراکت کار کی مشکور ہے

ہمارا یہ بیانیہ پارٹی کی نظریاتی اساس ہے اور نیشنل عوامی پارٹی کے نئے قومی بیانیے سے یہ 11 نقاط لیے گئے ہیں جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہیں۔

 

ریاست کا قیام، تشکیل و حدود اربعہ
ہمارا ملک 16 مارچ 1846 کو معائدہ امرتسر کے ذریعے قائم ہوا تھا ۔ جن علاقوں پر ہمارا ملک مشتمل ہے وہ علاقے یوں تو جب سے زمین و آسمان بنے ہیں موجود رہے ہیں، اور ان علاقوں میں لوگ بھی ہزاروں سالوں سے بستے آئے ہیں مگر یہ علاقے ایک سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے اندر 16 مارچ 1846 کے دن کو لائے گئے تھے ۔ اس لئیے پارٹی ریاست کی قومی تاریخ کی ابتداء 1846 سے کرتی ہے اور اس سے قبل کے تمام واقعات کو ملکی تاریخ سے متعلق قرار نہیں دیتی ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ 16 مارچ ہمارے ملک کا یومِ تشکیل ہے اس لئیے پارٹی معائدہ امرتسر کے خالق مہاراجہ گلاب سنگھ جی کو ملک کے بانی کے طور پر تسلیم کرتی ہے ۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اس سے قبل بھی ہمارا ملک موجود تھا، یا یہ کہ اب کوئی ملک تشکیل دینا ہے تو یہ ایک تاریخی مغالطہ ہے اور ایسے بیانئیے کی وجہ سے ہی آج تک ہماری جدوجہد بار آور نہیں ہو سکی ۔

دراصل 16 مارچ 1846 کو ریاست جموں کشمیر کا یومِ تشکیل تسلیم نہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ریاست کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ 85806 مربع میل پر محیط سرحدوں کو متنازعہ بنا دیا جائے اور ان سرحدوں میں ردوبدل اور ریاست کی تقسیم کی راہیں ہموار کی جا سکیں ۔ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے موجودہ تنازعے کے پرامن سیاسی حل اور ریاستی عوام کی اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کا انحصار ریاستی عوام کے باہمی اتحاد و انضمام اور ریاست کے جغرافیائی وجود کی یکجہتی و بحالی میں مُضمر ہے ۔ اس لئیے پارٹی ریاست جموں کشمیر کی تقسیم و تحلیل کی سازش کا قلع قمع کرنے کے لئیے 16 مارچ 1846 کو وطنِ عزیز کے قیام کا قومی دن قرار دیتی ہے اور اسے قومی شان و شوکت سے منانے کا اعلان کرتی ہے؛ یوں ہم دنیا بھر میں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کا مسئلہ بھارت، چین یا پاکستان کا اندرونی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک ملک اور قوم کی قومی آزادی اور یکجہتی کا سوال ہے، ایک ایسا ملک جو 101 سال تک دنیا کے نقشے پر ایک آزاد سیاسی، سماجی، انتظامی، جغرافیائی اور قومی وحدت کے طور پر موجود رہا اور جسے 1947 سے تقسیم کر کے تحلیل کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں ۔

ہم پاکستان، بھارت اور چین کے عوام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی وحدت کی بحالی سے ان ممالک کی آئینی سرحدوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہوتا بلکہ ریاست جموں کشمیر کی یکجہتی ان ممالک کے درمیان جاری تنازعے اور جھگڑے کو ختم کر کے خِطے میں امن، دوستی، تعاون اور بھائی چارے کی نئی فضاء قائم کرے گی جس سے خِطہ جنگ کے مُہیب اور تاریک سایوں سے باہر نکل کر تعمیر و ترقی اور تعاون و دوستی کا گہوارہ بن جائے گا ۔ اس لئیے پارٹی توقع کرتی ہے کہ چین، بھارت اور پاکستان کی امن پسند اور جمہوری سوچ رکھنے والے عوام جموں کشمیر کی جغرافیائی یکجہتی کی بحالی کی جدوجہد میں جموں کشمیر نیپ کا بھرپور ساتھ دیں گے ۔

ملک کا نام اور قومی جھنڈا
ہمارے ملک کا نام ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا ہے، اس نام کے اندر ہماری سیاسی اور قومی تاریخ چھپی ہوئی ہے، اس ملک کا ایک جھنڈا ہے اور اس کی طے شدہ اور تسلیم شدہ جغرافیائی سرحدیں ہیں ۔ ملک کے اس تاریخی نام یا جھنڈے کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ ہماری جغرافیائی سرحدوں، سیاسی وحدت اور قومی یکجہتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے ۔ اس لئیے ملک کی جغرافیائی اور قومی سلامتی کے لئیے ضروری ہے کہ ملک کے نام، جھنڈے اور سرحدوں کو متنازعہ نہ بنایا جائے کیونکہ اگر یہ سلسلہ ایک دفعہ چل پڑا تو پھر کبھی ختم نہیں ہو گا ۔ ہمارے ملک کی تقسیم کی سازش کے تحت ملک کو مختلف جھنڈوں اور ناموں کے چکر میں ڈال دیا گیا ہے ۔ ہمارے ملک کا جو جھنڈا، جغرافیائی سرحدیں اور نام 15 اگست 1947 سے لے کر 22 اکتوبر 1947 تک موجود تھے وہی مسلمہ اور غیر متنازعہ ہیں اور ان میں اس وقت کسی قسم کا ردوبدل ہماری قومی یکجہتی، سیاسی وجود اور جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کر دے گا ۔ اس لئیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے نام اور جھنڈے کو 15 اگست 1947 کی پوزیشن پر رہنے دیا جائے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی ملک کی جغرافیائی وحدت کی بحالی کے بعد آزادانہ اور شفاف منتخب ہونے والی مشترکہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دی جائے ۔ اس وقت ریاستی عوام کو اپنی شناخت باشندہ ریاست، 15 اگست 1947 والے جھنڈے اور ریاستی نام کے ساتھ کروانا ہو گی اور پارٹی اسی شناخت کو پروان چڑھائے گی ۔

جغرافیائی وحدت کی بحالی
پارٹی قرار دیتی ہے کہ 16 مارچ 1846 میں معائدہ امرتسر کے ذریعے جو ملک قائم ہو اس کا نام ریاست جموں و کشمیر تھا ۔ بعد میں اس ملک میں شمال کی جانب کچھ اور علاقے بھی شامل کئیے گئے اور حتمی طور پر اس ملک کی سرحدوں کا تعین انیسویں صدی کے اواخر میں ہوا ۔ یہ سرحدیں 85806 مربع میل پر مشتمل ہیں اور برطانیہ، چین اور روس سمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں ۔ ان سرحدوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ صرف ہمارے ملک کے وجود اور جغرفیائی وحدت کو ختم کرتی ہے بلکہ ہماری سیاسی اور آئینی وحدت کو مٹا کر ہماری قومی تقسیم کی راہیں ہموار کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اس لئیے پارٹی 15 اگست 1947 کو موجود اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر حال میں دفاع کرنے کا وعدہ کرتی ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تین مختلف ممالک کی اس خطے میں موجودگی سے ہمارے ملک کی آزادی، خودمختاری یا خوشحالی کی تحریک اس وقت تک شروع نہیں کی جا سکتی جب تک یہ ملک جغرافیائی طور پر دوبارہ متحد نہیں ہو جاتا ۔ چنانچہ پارٹی اس مرحلے پر ملکی یکجہتی کے حصول کو ریاستی عوام کا بنیادی نصب العین قرار دیتی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی وحدت کی بحالی کے حصول کے بغیر کسی قسم کی آزادی یا خودمختاری کی کوئی بھی تحریک ریاست کو تقسیم تو کر سکتی ہے مگر ریاستی عوام کی قومی آزادی، خوشحالی اور ایک منصفانہ سماج کی تشکیل کو یقینی نہیں بنا سکتی ۔ دراصل ریاستی عوام کو یہ نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کے مختلف حصوں کے عوم کے نزدیک آزادی کا موجودہ تصور متنازعہ اور مبہم ہے ۔ آزادی کے اس موجودہ تصور پر جموں، لداخ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام کا اتفاق نہیں ہے اور ہر خطے کے لوگوں کے نزدیک آزادی سے مراد مختلف صورتحال ہے ۔ جموں کے لوگ جس چیز کو آزادی قرار دیتے ہیں وہ کشمیر کے عوام کے تصور سے مختلف ہے، آزادکشمیر کے لوگ جس کو آزادی قرار دیتے ہیں اس پر لداخ کے عوام کو اختلاف ہے اور اسی طرح گلگت بلتستان کے عوام کے نزدیک آزادی کا مفہوم بالکل الگ ہے ۔ حتی’ کہ کسی ایک خِطے کے عوام بھی آزادی کے مفہوم، معانی اور تصور پر باہمی طور پر شدید اختلافات کا شکار ہیں ۔

ان حالات میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آزادی کے اس انتہائی اختلافی، متنازعہ اور مبہم نعرے کی بنیاد پر ریاست اور عوام کو تقسیم تو کیا جا سکتا ہے مگر متحد نہیں رکھا جا سکتا ۔چنانچہ ریاستی یکجہتی کی دوبارہ بحالی تک ہم کسی قسم کی آزادی و خودمختاری کی تحریک کو قبل از وقت قرار دیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ریاست کی جغرافیائی وحدت کی بحالی اور اس کی یکجہتی کی تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر کسی قسم کی آزادی کی تحریک ملکی تقسیم اور بیرونی ممالک کے غلبے کے علاوہ کوئی اور نتائج حاصل نہیں کر سکتی ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی یکجہتی کے تصور کے بغیر صرف آزادی اور خودمختاری کی تحریک محض وقت کا ضیاع اور ریاستی عوام کو تقسیم کرنے کے ایک کھیل کے سوا کچھ بھی نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں 1947 سے ریاستی عوام کی خواہشات کے مطابق کسی بھی آزادی اور خودمختاری کی تحریک کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا سکیں اور مسلسل ناکام ہیں ۔ چنانچہ جموں کشمیر نیپ اپنی پرامن سیاسی جدوجہد کے پہلے مرحلے میں صرف ریاست کی جغرافیائی وحدت کی بحالی کو اپنا نصبُ العین قرار دیتی ہے ۔ اور جب ریاست دوبارہ متحد و یکجا ہو کر بحال ہو جاتی ہے تو اس وقت ریاست کے عوام پرامن، شفاف، منصفانہ، غیر جانبدرانہ اور جمہوری عمل کے ذریعے اپنی اپنی آزادیوں اور مستقبل کے تعین کا مسئلہ اپنی خواہشات اور ترجیحات کے مطابق حل کر سکتے ہیں اور اُس مرحلے پر جموں کشمیر نیپ ریاست کی تمام جغرافیائی، مذہبی اور لسانی اکائیوں کے عوام کو ان کی اپنی خواہشات کے مطابق اپنے اپنے مستقبل کے تعین کا لامحدود حق دیتی ہے اور ایک پرامن انتخابی عمل کے ذریعے عوامی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا عہد کرتی ہے ۔

مکمل سیکولر سیاسی، سماجی، قانونی و آئینی ریاستی ڈھانچہ
16مارچ 1846 کو بننے والے ملک کی بنیاد معائدہ امرتسر کو تسلیم نہ کرنا اور اس معائدے کو انسانی خرید و فروخت کا کاروبار قرار دینا دراصل ہماری قومی، سیاسی اور ملکی بنیادوں سے انحراف ہے ۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ معائدہ امرتسر کے وجود سے انکار مسلم بنیاد پرستی اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ معائدہ امرتسر کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ہی 1947 سے ملک اور قوم کی آزادی اور خودمختاری کی باتیں کرنے کے باوجود ہم آج تک اپنے ملک اور قوم کو اکھٹا کرنے کے بجائے اسے مزید منتشر اور منقسم کرتے چلے آئے ہیں ۔ جو ملک 16 مارچ 1846 کو بنا تھا وہ مذہبی اعتبار سے اتنا متنوع ہے کہ اس ملک کو صرف اور صرف غیرمشروط اور کامل سیکولر سماجی ڈھانچے اور انتظامی مشینری کے ذریعے ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔ جو لوگ مختلف مذاہب کے لوگوں کی مشترکہ سماجی، سیاسی، تمدنی اور انتظامی زندگی پر یقین نہیں رکھتے اور معاشرے میں کسی مخصوص مذہب کی اجارہ داری یا برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ مختلف حیلوں بہانوں سے ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ حتی’ کہ کچھ لوگ ریاست جموں کشمیر کے مسئلے کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا بھی قرار دیتے ہیں۔ 1947 میں بھی ایسے ہی نظریات کی بنیاد پر ہمارے وطن کو تقسیم کیا گیا تھا ۔ مگر ہماری قومی تاریخ شاھد ہے کہ 1947 کی تقسیم کا ریاست کے کسی بھی حصے کے عوام کو کوئی سیاسی یا معاشی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لئیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم اپنے موجودہ سیاسی رویوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے ہم دوبارہ ایک ملک اور ایک قوم نہیں بن سکتے ۔ چنانچہ ہم 85806 مربع میل پر محیط مملکتِ جموں کشمیر و اقصائے تبتہا میں مکمل سیکولر سیاسی، آئینی، قانونی اور انتظامی نظام کے قیام کا عہد کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ ہمارے ملک کا سیاسی نظام “مذہب اپنا اپنا اور ریاست سب کی” کے اصول پر استوار کیا جائے گا ۔ مذہبی معاملات میں ریاست مکمل طور پر غیرجانبدار ہو گی اور تمام ریاستی شہری اپنے اپنے مذہبی عقائد و عبادات کی بجاآوری میں مکمل طور پر آزاد ہوں گے ۔ دوسرے شہریوں کے مذہبی عقائد و معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کو ریاستی سالمیت اور یکجہتی کے خلاف سازش کا جرم قرار دیا جائے گا اور ایسے جرم کی سخت ترین سزا مقرر کی جائے گی ۔

قانون باشندہ ریاست
چوتھے ڈوگرہ بادشاہ مہاراجہ ہری سنگھ جی نے 20 اپریل 1927 کے دن ہمارے ملک میں قوانین باشندہ ریاست کا نفاذ کیا ۔ ان قوانین نے ہمارے ملک کو ایک سیاسی اور انتظامی وحدت سے اوپر اٹھا کر ایک قومی ریاست کا درجہ دیا اور رفتہ رفتہ ہمارا ملک محض جغرافیائی اور انتظامی اشتراک سے آگے بڑھ کر ایک قومی وحدت میں ڈھلنا شروع ہو گیا ۔ اس امر میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہماری قومی شناخت اور ہمارے معاشی و سماجی مفادات کا انحصار باشندہ ریاست قوانین پر ہی ہے ۔ اس لئیے ہم اپنے ملک کے تمام علاقوں میں باشندہ ریاست قوانین کا ہر حال میں دفاع کرنے کا عہد کرتی ہے ۔ باشندہ ریاست قوانین کے خاتمے کا مطلب ہمارے قومی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی وجود کا خاتمہ ہے، لہذا ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف ہم بھرپور مذاحمت کا عہد کرتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ریاست کے کسی بھی حصے میں قوانین باشندہ ریاست میں کسی قسم کی تبدیلی یا معطلی کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔

آزادی و خودمختاری
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ 1947 میں تقسیمِ برصغیر کے تناظر میں مہاراجہ ہری سنگھ جی کی قیادت میں ہمارے ملک کی جائز اور آئینی حکومت نے ملک کو پاکستان یا بھارت میں ضم کرنے کے بجائے ایک آزاد و خودمختار ملک بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یوں جدید ملکی تاریخ میں اس ملک کی آزادی و خودمختاری کے نظریے کے خالق مہاراجہ ہری سنگھ جی ہیں ۔ اگر ہم مہاراجہ ہری سنگھ جی کے اس تصور اور مہاراجہ ہری سنگھ جی کے آئینی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے تو ہمارا قومی وجود باقی نہیں بچتا اور ہمارے ملک کا شیرازہ بکھر جاتا ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہمیں ایک ملک اور ایک قوم کے طور پر زندہ رہنا ہے تو ہمیں مہاراجہ ہری سنگھ جی کے آئینی اقدامات کو بنیاد بنا کر پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کرنا ہو گی ۔ 1947 میں ہمارا وطن ایک سازش کے تحت تقسیم کر دیا گیا اور اس کی آزادی اور خودمختاری کے تصور کو دفنا کر اسے پاکستان اور بھارت کا باہمی تنازعہ اور مذہب کی بنیاد پر اس کی جغرافیائی تقسیم کا شوشہ چھوڑا گیا ۔ یہ سلسلہ جہاں ایک طرف بیرونی طور پر اقوامِ متحدہ، پاکستان، بھارت اور برطانیہ کی سطح پر پروان چڑھایا گیا وہیں اندرونی طور پر حکومتی، سیاسی اور مذہبی ہر محاذ پر ریاست کی تقسیم و تحلیل کا عمل شروع کر دیا گیا ۔ ان حالات میں مقبول بٹ وہ پہلے سیاسی رہنما تھے جنہوں نے ریاست کے مسئلے کو پاکستان اور بھارت کا باہمی سرحدی تنازعہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ریاست کی جغرافیائی وحدت کی بحالی اور قومی آزادی کے حصول کے لئیے عملی جدوجہد کی ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے بعد عوامی سطح پر سب سے پہلے ریاست کی تقسیم و تحلیل کے خلاف مقبول بٹ نے ہی منظم جدوجہد کا آغاز کیا اور اس کی پاداش میں سیز فائر لائن کی دونوں جانب ریاستی جبر و تشدد کا دلیرانہ وار مقابلہ کیا بلکہ اسی جدوجہد میں اپنی جان بھی ریاست کی جغرافیائی وحدت کی بحالی اور قومی آزادی کی خاطر قربان کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور یوں ریاست جموں و کشمیر و اقصائے تبتہا کی قومی آزادی کی تحریک میں ایک نئی روح پھونکی ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کے عوام ڈوگرہ دور کے تمام آئینی اقدامات کو بنیاد بنا کر ریاست کی جغرافیائی وحدت کی بحالی کی خاطر پرامن جدوجہد نہیں کرتے تو وہ کبھی بھی اپنی قومی آزادی کے مِشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

ریاست کی آئینی و سیاسی حیثیت
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں نے اپنے مفادات کے تحت 1947 میں برِصغیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس تقسیم کی خاطر ایک سازش کے تحت خِطے کے عوام کے مابین مذہبی منافرت اور دشمنی کو پیدا کیا گیا تھا ۔ اگر 1947 میں برِصغیر کی تقسیم کے باوجود ہمارا ملک ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا متحد رہتا اور اس میں تمام ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ اور مسلمان اکھٹے امن و اخوت کے ساتھ رہتے تو جہاں ایک طرف انگریزوں کا مذہبی منافرت و دشمنی کا فلسفہ جھوٹ ثابت ہوتا وہیں نومولود بھارت اور پاکستان کے مابین دشمنی بھی پیدا نہ ہوتی ۔ چنانچہ برطانوی استعمار نے پاکستان اور بھارت کو استعمال کر کے 1947 میں ہمارے ملک کو تقسیم کیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کو مختلف قوتوں نے طاقت کے زور پر یرغمال بنایا اور اقوام متحدہ نے قرار دیا کہ جموں کشمیر کے اندررائے شماری کرائی جائے گی لیکن آج تک رائے شماری نہیں کرائی گئی اور نا اس کیلئے ماحول سازگار بنایا گیا۔ ہم ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کی کسی بھی قسم کی تقسیم کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ہم 26 اکتوبر 1947 کے بعد کسی بھی ملک کی جانب سے کسی قسم کی یکطرفہ آئینی و سیاسی تبدیلیوں کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل کے آئینی و سیاسی ڈھانچے کی تشکیل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقاتِ کار کے تعین کا اختیار صرف اور صرف ریاست کے تمام منقسم حصوں کے عوام کی مشترکہ طور پر منتخب پارلیمنٹ کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ۔

یکطرفہ آئینی ترامیم کی تنسیخ
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ 26 اکتوبر 1947 کو ہمارے ملک کا جو عارضی الحاق بھارت کے ساتھ کیا گیا تھا اس کے تحت صرف دفاع، خارجہ امور اور کمیونیکیشن کے شعبے بھارت کے سپرد کئیے گئے تھے ۔ دیگر تمام امور میں ہمارا ملک اندرونی طور پر مکمل آزاد و خودمختار تھا ۔ عارضی الحاق کے باوجود ہمارے ملک کا اپنا صدر، وزیراعظم، قانون ساز پارلیمنٹ، قومی جھنڈا، آئین اور آزاد عدالتی نظام موجود تھا ۔ ہم ریاست کے کسی بھی حصے میں 1947 کے بعد دفاع، خارجہ امور اور کمیونیکیشن کے علاوہ دیگر شعبوں کو اپنی دسترس میں لینے کے قابض ممالک کے تمام اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہیں اور ان اقدامات کو ہر سطح پر چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہیں ۔ ہم صرف انہی اقدامات کو آئینی اور قابلِ قبول قرار دیتے ہیں جنہیں ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کی ڈوگرہ حکومت نے دیگر ممالک کے ساتھ طے کیا تھا یا جنہیں آئیندہ متحدہ ریاست کی مشترکہ منتخب پارلیمنٹ طے کرے گی ۔ اس کے علاوہ کیے گئے تمام آئینی و انتظامی اقدامات کو ہم یکطرفہ قرار دے کر رد کرتے ہیں۔

نیا عمرانی معائدہ
ہمارا ملک ایک کثیر مذہبی، کثیر لسانی، کثیر ثقافتی اور کثیر قومیتی ملک ہے ۔ ہمارے ملک کی بقاء اور استحکام کا دارومدار اس ملک کے عوام کے مذاہب، ان کی زبانوں، ان کی ثقافت، رسوم و رواج اور ان کی جداگانہ قومیتی شناخت کی بقاء، حفاظت اور ترویج کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کے حصول کے لئیے ریاست کے اندر تمام مذہبی، لسانی، ثقافتی اور جغرافیائی اکائیوں کے مابین کامل برابری اور بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق ایک نئے عمرانی معائدے کی ضرورت ہے ۔ ہم یہ عہد کرتے ہیںکہ ایسا نیا عمرانی معائدہ ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کی تمام مذہبی، لسانی، ثقافتی اور جغرافیائی اکائیوں کو دفاع، خارجہ امور، کرنسی اور ٹیلی مواصلات کے علاوہ دیگر تمام شعبوں میں کامل خودمختاری، آئینی آزادی اور جداگانہ قانون سازی کے بنیادی قانونی و آئینی حقوق کی فراہمی کے اصولوں پر تشکیل دیا جائے گا ۔ ہم ایک متحدہ ریاست کی شکل میں ریاست بھر کی تمام مذہبی، ثقافتی، لسانی اور جغرافیائی اکائیوں کو درج بالا چار مشترکہ امور کے علاوہ مکمل آزادی اور خودمختاری دینے کا اعلان بھی کرتی ہے اور ساتھ ہی ریاست کی مذہبی، لسانی اور جغرافیائی اکائیوں کے حقِ علیحدگی کو بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہم ریاست کے اندر عوام کے پرامن، جمہوری اور سیاسی فیصلوں کے ہمیشہ احترام اور ان فیصلوں کے نفاذ کا عہد کرتے ہیں ۔

وسائل کی تقسیم
ہمارے ملک میں بیش بہا قدرتی اور انسانی وسائل پائے جاتے ہیں ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان وسائل پر ہمارے ملک کا اپنا قبضہ ہو تو ہمارا ملک خِطے کا امیر ترین اور خوشحال ترین ملک بن جائے گا ۔ اس لئیے ضروری ہے کہ ہر سیاسی تحریک کی بنیاد ملکی وسائل کو اپنی ملکیت میں لینے کے مطالبے پر استوار کی جائے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اندرونی طور پر ریاست کی تمام جغرافیائی اکائیوں کو ان خِطوں کے تمام قدرتی وسائل پر بلا شرکتِ غیرے حقِ ملکیت دیے بغیر ریاست کے اندر پائیدار اور دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا اس لئیے ہم ملک کی تمام جغرافیائی اکائیوں کو ان کے تمام قدرتی وسائل پر مکمل کنٹرول دینے کا عہد کرتے ہیں اور ریاست کی ہر جغرافیائی اکائی کو اپنے قدرتی وسائل سے متعلق ہر قسم کے فیصلوں کا لامحدود حق دینے کا اعلان کرتے ہیں ۔

پرامن سیاسی جِدوجُہد
ہمارا ملک اب بھارت، چین اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے اور متنازعہ ہے ۔ یہ تینوں ایٹمی طاقتیں ہیں ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان ممالک کے خلاف لڑ کر یا مذہبی جنون کے ذریعے ملک کو دوبارہ متحد کرنا یا آزاد کروانا ممکن نہیں ہے اس لئیے ہم ایسی کسی بھی کاوش کو خودکشی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پرامن سیاسی، جمہوری اور انتخابی مذاحمت کا اعلان کرتے ہیں ۔ ہمارا ماننا ہےکہ ہمارے ملک کو صرف پرامن سیاسی، جمہوری، انتخابی اور سفارتی جدوجہد کے ذریعے ہی دوبارہ متحد کیا جا سکتا ہے اور اسی عمل کے ذریعے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ اس لئیے ہم ملک کے اندر ہر قسم کی مسلح اور مذہبی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کے خلاف ایک سازش قرار دے کر مسترد کرتے ہیں اور صرف اور صرف پرامن سیاسی، جمہوری، انتخابی اور سفارتی جدوجہد کی بنیاد پر ریاست میں تبدیلی لانے کا عہد کرتے ہیں ۔
ہم درج بالا گیارہ نقاط پر مشتمل اس سیاسی و نظریاتی پروگرام کے تحت ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کی یکجہتی، جغرافیائی وحدت کی بحالی، عوام کی معاشی خوشحالی اور ثقافتی تحفظ و ترویج کے حصول کو اپنا بنیادی سیاسی مشن قرار دیتے ہوئے پرامن سیاسی، جمہوری اور انتخابی جدوجہد کا عہد کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئیے ریاست کے عوام کی بھرپور رہنمائی کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔
سچے جذبوں کی قسم آخری فتح ریاستی عوام کی ہو گی اور ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا دوبارہ متحد ہو گی اور اس کی تقدیر کے مالک اس کے عوام ہوں گے ۔

نوٹ: تمام مضامین نیک نیتی سے شائع کیے جاتے ہیں لکھاریوں کے نقطہ نظر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں. ادارہ