اظہارخیال/ فیصل بشیر کشمیری

اللہ کے نام پہ دھوکہ، چندہ شریف اور انٹرنیشنل بھکاری

مولانا صاحب کا تعلق وطن پاک کے ایک صوبہ کے دور افتادہ اور گمنام گاؤں سے تھا۔ چٹا سفید نورانی چہرہ مبارک، سر پہ ٹوپی شریف اور نیک اتنے ہیں کہ اللہ کا گھر تعمیر کروانے تین ماہ کا وزٹ ویزہ لے کر چندہ کرنے دبئی آئے ہوئے ہیں۔چند دن قبل میں اور میرا ایک دوست یہاں ایک مشہور کافی شاپ میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے، مولانا صاحب پہ نظر پڑی تو اپنی نظریں ان پر گھاڑتے ہوئے انہیں باقاعدہ تاڑنا شروع کر دیا۔آپ ہر آنے جانے والے کے سامنے اپنا دست مبارک پھیلانے کے بجائے ہاتھ میں پکڑی چندہ بُک صرف اُسے دکھاتے جو قیمتی لباس پہنے بڑی گاڑی سے اترتا ہو۔ایک بات اور بھی نوٹ کی کہ آپ شلوار قمیض والے کو دیکھ کر سائیڈ پہ ہو جاتے تھے۔

میرا دوست میری نیت بھانپ گیا اور چپ چاپ چائے پینے کی ہدائیت کی لیکن اس کی بات ان سُنی کرتے ہوئے جیب سے سو درہم کا نوٹ نکال کر سیدھا اعلی حضرت کے پاس جا پہنچا اور سلام دعا کے بعد چندے کی کاپی دیکھی اور انہیں سو درہم کی رسید کاٹنے کہا تو بولے کہ لکھنے کو قلم نہیں، آپ فی سبیل للہ دے رہے ہیں تو بس دے دیں، بعد میں رسید کاٹ لوں گا۔ایسے جواب کی امید نہ تھی، ان کا ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ساتھ کرسی پہ بٹھا دیا۔ ان کےلئے بھی چائے مہنگائی اور پہلا سوال داغا کہ حضور آپ شکل سے ہی ماشا اللہ کافی اللہ والے لگتے ہیں لیکن اگر برا نہ منائیں تو بس یہ بتا دیں کہ “وزٹ ویزہ برائے چندہ خوری” کہاں سے لیا، ٹکٹ کے پیسے کہاں سے ملے، رہائش پذیر کہاں ہیں اور اگر ہو سکے تو اپنی ویزہ کاپی کا دیدار کروا دیں ورنہ اگر ہم ناراض ہو گیے تو اسی وقت یہاں کی پولیس کو کال کر دیں گے۔

آپ نے ادھر اُدھر جھانکا تو ان کے بھاگنے کی کوشش بھانپتے ہوئے اوپر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں محبت سے سمجھایا کہ اس کیمرے کا مین کنٹرول یہاں کی پولیس کے پاس ہے اور ہم بقلم خود بھی بہت مشہور فیسبکی دانشور ہیں اسلئے آپ کا بچنا محال ہے آپ صرف سچ بتائیں اور جان بچائیں ورنہ آیا غوری۔آپ نے پہلے ہمیں خواجہ محمد اسلام کی شہرا آفاق کتاب “موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہو گا “ کے حوالے دے کر ڈرانے کی کوشش کی تو جوابا ہم نے انہیں لیڈی ڈیانا کی محبت اور موت کی داستاں سناتے ہوئے عرض کیا کہ جب اللہ کا گھر تعمیر کروانے کا ٹھیکہ لئے پاکستان سے اتنا خرچہ کر کے یہاں فراڈ کرنے آئے تب خوف خدا کیوں نہ آیا۔ وہ گھگھیانے لگے اور اللہ رسول کے واسطے و سوال کر ڈالے۔

المختصر کافی کچھ سنانے کے بعد کمینگی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کے لئے منگوائی گئی چائے بھی خود پی اور انہیں غائب ہونے کا عندیہ دیا۔
رب جانے میرے ایسے عمل سے ان کی کچھ حوصلہ شکنی ہوئی ہو گی یا وہ دوسری گلی میں اپنا کام جاری رکھیں گے لیکن سوچنے کی بات یہ ہیکہ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کی فائنل بغل میں دبائے گھومنے والوں سے لیکر جھوٹ فراڈ کر کے حقداروں کی زکوات ہتھیانے والوں تک ہم سب کہیں بھکاری تو نہیں بن گئے ہیں؟- کیا کوئی ایسا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے جس سے عمرہ و حج کا ویزہ لے کر صرف بھیک مانگنے جانے والے پیشہ ور بھکاریوں کو روکا جا سکے۔؟

ان سب سے ہٹ کر جب سے آسان رسائی کےلئے سوشل میڈیا جیسی سہولت میسر ہوئی ہے تقریبا ہر روز کبھی سڑک بنوائی، کبھی سکول کا حمام، کبھی سوشل ورک، کبھی تنظیم سازی، کبھی محلے کی ایمبولینس تو کبھی کسی ادارے کی فنڈنگ کے نام پہ چندہ مانگنے والے ملتے ہیں اور ایسا تقریباً ہر ایک کیساتھ ہوتا ہے۔ کچھ بیچارے لحاظ رکھتے ہوئے چپ چاپ دے کر منہ بند کر دیتے ہیں اور کچھ میرے جیسے سیدھا جواب دے دیتے ہیں۔ میں حقداروں کو ان کا حق دینے سے نہ کسی کو منع کرتا ہوں اور نہ روکنا چاہتا ہوں بلکہ حسب توفیق دوسروں کی مدد کرنے کی تاکید بھی کرتا ہوں لیکنسوچنے کی بات یہ ہیکہ اوپر سے نیچے تک کہیں ہم سب پکے ہڈ حرام تو نہیں ہو گئے ہیں؟اگر ہمارا سب کچھ چندے یا فنڈنگ پہ چلتا ہے تو ہمارے ادارے کس لئے بنے ہیں؟ہمارا معاشی پلان کیا ہے؟ہماری درآمدات و برآمدات کی مد میں آئی ہوئی رقم اور ہم جو ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ سب کہاں جاتا ہے؟؟

اگر یہاں دیار غیر میں ایک اللہ کے نام پہ فراڈ کرنے والے کو راقم نے پکڑا ہے تو آپ نے بھی کئی ایسے پیشہ ور انٹرنیشنل بھکاری اور فراڈیے ضرور دیکھے ہوں گے۔ کیا پاکستان کی حکومت اپنے ملک کا نام بدنام کرنے والے ایسے پیشہ ور بھکاریوں کی روک تھام کےلئے کوئی راست اقدامات کر پائے گی یا بھیک مانگنے کی اپنی اور عوام کی رفتار مزید بڑھائے گی۔ سوچیئے گا ضرور