انقلاب/ڈاکٹر امجد ایوب مرزا
انقلاب/ڈاکٹر امجد ایوب مرزا

مفتوح عوام نے 5 فروری رد کردیا، آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے عوام ڈائیلاگ کا آغازکریں،ڈاکٹر امجد ایوب مرزا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) تحریک اتفاق رائے کے رہنما اورمعروف انقلابی سیاستدان ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹروتھ اینڈ ری کسیلیشن کمیشن کے قیام کےلئے جموں وکشمیرکی آزادی تک انتظار نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے عوام آپس میں فوری طور پر یونٹی ڈائیلاگ کا آغاز کریں، قوم کے نام پانچ فروری کو پارٹی ہیڈکوارٹر سے جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر امجد نے کہا کہ آزادی تقریروں ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اوراحتجاجی بیانات سے نہیں بلکہ دشمن کو ہرمحاذ پر شکست دے کر ہی حاصل ہوسکتی ہے ۔

ڈاکٹر امجد ایوب مرزا نے مزید کہا کہ آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے عوام آزادی کی جنگ لڑنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمالیہ کی مفتوح عوام نے پانچ فروری کو یوم کشمیر کا پروگرام رد کردیا ۔

ڈاکٹر امجد ایوب مرزا کا کہنا ہے کہ1947میں برصغیر کی تقسیم پر منتج ہونیوالا انقلاب شعوری پسماندگی کے باعث محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کی نظر ہوکر مذہبی ریاست کے قیام کا باعث بنا ، اسی طرح روس ، چینی ، کیوبا اورمتعدد ممالک میں انقلابات میں عوام کےشعور کی بالیدگی کی وجہ سے وہاں محنت کشوں کاپورا طبقہ برسراقتدار آگیا ۔

تاہم 70سالوں میں ان ممالک میں عوامی شعور میں ترمیم پسندی اور سرمایہ دارانہ نواز فکری رحجانات کے توانا ہونے اورانقلابی فلسفہ اورجذبہ کے کمزور ہونے کے باعث یہ انقلابات زوال پذیر ہوگئے ، آج سرمایہ دارانہ استحصالی نظام لوٹ آیاہے ۔۔ اس طرح وہ محنت کش طبقہ جو روس ، چین ، کیوبا اوردیگر میں برسراقتدار آیا تھا وہ آج بچھڑ گیا اوروہاں کی کمیونسٹ پارٹیاں سرمایہ دارانہ نواز ٹولے کے ہاتھوں ایک مرتبہ پھر شکست کھا چکی ہیں

دنیا بھر کے ماضی کے انقلابات کی فتح اورشکست کی تاریخ مفتوح اورمنقسم ہمالیاتی ریاستوں کی قومی آزادی کی تحریک کی کامیابی کےلئے اپنے اندر اسباق کا ایک انسائیکلوپیڈیا رکھتا ہے
کمیونسٹ مینی فیسٹو میںمارکس اوراینگلز نے ایک جگہ لکھا ، کمیونسٹ ، مزدور طبقے کی دوسری پارٹیوں کےخلاف کوئی ایک الگ پارٹی نہیں بنات۔

بحیثیت مجموعی محنت کش طبقے کے مفاد کے سوا اور اس سے ان کا کوئی مفاد نہیں۔ وہ اپنے جداگانہ فرقہ پر وراصول قائم نہیںکرتے، جس مزدور تحریک کو کوئی خاص شکل دی جائے اورکسی خاص سانچے میں ڈھالا جائے ۔ یعنی انقلابی عوامی کمیٹیوں سے علیحدہ رہ کر کام نہیں کرتے بلکہ عوامی کمیٹیوں میںشامل ہوکراول ان کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اوردوم ان میں موجود مختلف طبقات کے سماجی اورسیاسی کردار کو بے نقاب کرکے عوام کو ریاست سے آزادی حاصل کرنے کےلئے طبقاتی جدوجہد کا اجرا کرتے ہیں۔

اس طرح عوامی کمیٹیوں کی اصلاح پسند مزاحمتی کیفیت کو انقلابی کیفیت میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ عوامی کمیٹیوں میں شامل افراد کی عددی تعداد جس قدر تیزی کےساتھ طبقاتی جدوجہد کے اصول اپنائے گی اسی تیزی رفتاری سے عوامی کمیٹیاں انقلاب کے مراکز میں تبدیل ہوجائیں گی۔

ایسا تبھی ممکن ہے جب جموں وکشمیر، گلگت بلتستان میں اُٹھنے والی ہر عوامی تحریک کے دوران مذکوہ بالا خطوں کی پاکستان کےساتھ غلامی کی حیثیت کو چیلنج کیا جائے اورایسا کرتے وقت بار باری سرمایہ دارانہ سماجی تعلقات کی بنیاد یعنی ذرائع پیداوار کی ملکیت کے سوال کو عوامی کمیٹیوں میں اُٹھایا جائے۔ریاستی ،قوم پرست اورغیر ریاستی الحاقی پارٹیوںکے عہدیدار ، چھوٹے درجے کے رہنما اورکارکنان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک مختصر تعدادبائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی لوگوں کی بھی ان کمیٹیوں میں شامل ہیں اورکہیں کہیں لیڈر شپ کا کردار بھی ادا کررہے ہیں تاہم ان کمیٹیوں میں شامل کثیر تعداد ایسے افراد کی ہے جو جمون وکشمیر اورگلگت بلتستان سے متعلق پاکستان کے ریاستی بیانیہ اورکڑے مذہبی رحجانات سے متاثر ہیں ۔