سندھ مالی بحران کاشکار،تنخواہوں اورپنشن کے سوا تمام ادائیگیاں بند

کراچی (سٹیٹ ویوز) وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے سالانہ شیئرمیں 104 ارب روپے کٹوتی پرسندھ حکومت شدید مالی بحران سے دوچارہوگئی۔محکمہ خزانہ سندھ نے سرکاری اکاؤنٹنٹ کو تنخواہوں اورپنشن کے سوا تمام ادائیگیاں بند کرنیکا حکم دیدیا،ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈزکا اجرا،نئی گاڑیوں کی خریداری،الاؤنسز،مرمت،سابقہ ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں سمیت ہرقسم کے بلوں کی ادائیگی روک دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے سالانہ شیئرمیں 104 ارب روپے کی کٹوتی اورسٹیٹ بینک کی جانب سے اوورڈرافٹ کی مقررہ حد 20 ارب روپے سے زائد دینے سے انکارپرسندھ حکومت 11 سالہ دورکے بدترین معاشی بحران کا سامنا کررہی ہے جسکی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے سالانہ شیئرمیں 104 ارب روپے کی کٹوتی اوروفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈزکی ادائیگی کی معطلی ہے ۔

محکمہ خزانہ سندھ کے مطابق وفاقی حکومت نے آگاہ کیا کہ ایف بی آرکی جانب سے ٹیکس وصولی کا سالانہ ہدف پورا نہ ہونے پرصوبائی حکومتوں کے شیئرمیں کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا اورسندھ حکومت کو رواں مالی سال 104 ارب روپے کٹوتی کا سامنا کرنا ہوگا۔۔

محکمہ خزانہ سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے اس اقدام کے بعد سٹیٹ بینک نے بھی اوورڈرافٹ کی سہولت 20 ارب روپے تک محدود کردی ،مالی مشکلات کے پیش نظرسندھ حکومت نے اپنے اخراجات پرنظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے تنخواہوں اورپنشن کے سوا تمام ادائیگیاں بند کرنیکا حکم دیدیا ہے..

ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز،نئی گاڑیوں کی خریداری،پٹرول الاؤنسز،مرمت سابقہ ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں سمیت تمام سرکاری بلوں کی ادائیگی روک دی گئی جبکہ بعض محکموں کے اکاؤنٹس بھی منجمد کردیئے گئے ہیں۔۔

علاوہ ازیں وفاق نے سندھ حکومت کو صوبے میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈزکا اجراء بند کردیا ہے ،محکمہ خزانہ سندھ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال 90 ارب کی کٹوتی کی تھی جبکہ رواں مالی سال 2018-19 میں 104 ارب روپے کم کر دیئے گئے جو سندھ حکومت کیلئے معاشی دھچکے سے کم نہیں..

وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مالی بحران پروزیراعلیٰٗ سید مراد علی شاہ نے قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرکے سامنے صوبائی حکومت کے شیئرمیں کٹوتی اورٹیکسوں کی ادائیگی سندھ حکومت کے حوالے کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا مگروفاقی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔