آزادکشمیر:اقتدارواختیارات کی جنگ کی اندرونی کہانی منظرعام پرآگئی

دبئی(سیدخالدگردیزی/سٹیٹ ویوز) مسلم لیگ نوازآزادکشمیر میں پارٹی صدارت یا وزارت عظمیٰ کےجھگڑے سمیت آزاد کشمیر میں نافذ ایکٹ 1974 میں 8 ماہ قبل ہونے والی 13 ویں ترمیم کے باعث پیدا ہونےوالا انتظامی بحران رنگ جمانے لگا۔آئینی بنیادوں پرپیدا ہونے والے انتظامی بحران سے نمٹنے کیلئےوزیراعظم آزاد کشمیر نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے اتقاق رائےسےمتوقع 14 ویں آئینی ترمیم لانےکی غرض سے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی مگر14 ویں ترمیم کیلئےمشاورت کی بجائے ایک جانب چوہدری طارق فاروق مبینہ طورپروزیراعظم کو پارٹی صدارت سےعلیحدہ کرنےکی غرض سے “کارکنوں کوعزت دو”کانعرہ لگاتے ہوئےوزیراعظم کےخلاف کھڑے ہو گئے جبکہ دوسری جانب راجہ فاروق حیدرکو وزارت عظمیٰ سےہٹانےکیلئے سردار سکندر حیات خان بھی میدان میں اترآئے۔

یادرہے کہ راجہ فاروق حیدر تقریباً سات سال سے مسلم لیگ آزادکشمیر کےصدر چلے آرہےہیں اوراڑھائی سال سےوزات عظمیٰ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔سینئروزیراورمسلم لیگ کے سینئرنائب صدرچوہدری طارق فاروق نے بظاہر”کارکنوں کو عزت دو کا نعرہ” لگاکرمبینہ طور پر راجہ فاروق حیدرکو پارٹی صدارت سے ہٹانے کیلئےمہم جوئی شروع کی تو پارلیمانی پارٹی کےاجلاس میں کثیر تعداد میں وزیر اعظم پر اعتماد کے اظہارکےباوجود چوہدری طارق فاروق اپنے موقف پرڈٹےہوئے ہیں اور اس ضمن میں انہیں بزرگ رہنما سردار سکندرحیات خان سمیت شاہ غلام قادر اوربعض مسلم لیگی ممبران اسمبلی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ بھی یادرہےکہ گذشتہ مالی سال کے آخری روزایکٹ 1974 میں ہونے والی 13 ویں ترمیم میں کشمیر کونسل کا کردارمحض علامتی کردیا گیا تھا اورکونسل سیکریٹریٹ سمیت کونسل کااکاؤنٹ پرآزاد حکومت کواختیارمل گیا تھا۔حکومت آزاد کشمیرنےکونسل سیکریٹریٹ پر عملی طور پر قابو پانےکیلئےایڈیشنل چیف سیکریٹری(جنرل)فرحت علی میرکو سیکریٹری تعینات کرنےکیلئےتیارکی گئی سمری مبینہ طورپر چیف سیکریٹری کے دفترمیں دب گئی تھی۔کونسل سے ملازمین اورمنصوبہ جات کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے بنائی گئی حکومتی کمیٹی بھی غیر موثرثابت ہوئی جسکےباعث ایک جانب ٹیکس جمع کرنے کیلئے طریقہ کار الجھن کاشکار ہو گیا اور دوسری جانب کونسل کابزنس ٹھپ ہوکررہ گیا۔

اس سلسلے ضمن میں وفاقی سطح پر اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی گئی جس نےمبینہ طورپرجانچ پڑتال کےبعد رائےدی کہ ایکٹ 1974 میں ترامیم کے لئے تیار کئے گئے مسودے کوسابق سیکریٹری وزارت امور کشمیروگلگت بلتستان پیربخش جمالی نے قومی مفادات کے مغائر قرار دیا تھااوراسکےباوجوداسی مسودے پر حکومت پاکستان کی اجازت کیلئے اختیار کیا گیاطریقہ کار بھی غیرقانونی تھا جس میں مسلم لیگی حکومت کے وفاقی کابینہ کے آخری اجلاس کے اختتام کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چند وزراء اور افسروں کے ہمراہ اجازت دی جسکےبعد اگلے ہی روز حکومت آزادکشمیر نےقانون ساز اسمبلی سے منظوری لینے کےبعد ایکٹ 1974 کو عبوری آئین میں بدل دیاتھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے آئینی پیچدگیوں کے باعث پیداہونے والا انتظامی بحران ختم کرنےکیلئے 14ویں ترمیم لانے اور کشمیر کونسل کےذریعے ٹیکس جمع کرکے آزاد حکومت کو دینا تجویزکیا ہے۔

اس دوران آزادحکومت نےکوشش کی کہ وفاقی نوعیت کاٹیکس جمع کرنے کےلئے ایف بی آرپراتفاق ہوجائےمگر اس صورت میں یہ آئینی الجھن سامنے آئی کہ اگرایف بی آرکادائرہ کارآزاد کشمیر تک بڑھایا جائے تو دوسرے وفاقی اداروں کا دائرہ کار خود بخود آزاد کشمیرتک بڑھ جائیگا اور آزاد کشمیر عملاً صوبائی شکل اختیار کر جائےگا۔اس سلسلے میں یہ الجھن بھی سامنےآئی کہ اختیارات دینےکیلئے آزادکشمیر کو عبوری صوبائی شکل دی جائے توحکومت پاکستان کے تنازعہ کشمیر پردیرینہ موقف کوٹھیس پہنچےگی اور پاکستان بھی بھارت کی صف میں جاکھڑا ہو گا۔ذرائع کا کہناہےکہ آئینی پیچدگیوں کے باعث پیدا ہونے والے انتظامی بحران کے حل کیلئے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرکو14 ویں ترمیم لانےاوروفاقی نوعیت کے معاملات براہ راست کرنے کی بجائے کونسل کودوبارہ بااختیار بنانے کیلئے تجویز دی گئی جوانہوں نےقبول کرتےہوئےچوہدری طارق فاروق کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی جس نے14 ویں آئینی ترمیم کیلئےسیاسی جماعتوں سمیت سٹیک ہولڈر سے مشاورت کرکےمسودےکو حتمی شکل دیناتھی مگرحکومتی ذرائع کے مطابق چوہدری طارق فاروق نےاس ایشو پر کام نہ کیا۔

ذرائع کاکہناہےکہ آئینی پیچدگیوں کےباعث انتظامی بحران ختم کرنے کیلئے راجہ فاروق حیدرکورکاوٹ جان کر ان ہاؤس تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہوئےاورراجہ فاروق حیدر کے متوقع ردعمل کوصفر کرنے کیلئے گیند بزرگ مسلم لیگی رہنما سردار سکندرحیات کیطرف اچھالی گئی تو انہوں نے مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر ہی عدم اعتماد کی بساط پرمہرے سیٹ کرناشروع کردیئےہیں۔اب ان ہاؤس تبدیلی سمیت پارٹی صدارت کے معاملے میں گوکہ راجپوت وزراء بظاہر راجہ فاروق کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں مگر وزیرتعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی کے بعد سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق سمیت سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر اور سردار سکندرحیات کا وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف کھل کر سامنے آناسیاسی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے جووزارت عظمیٰ یاپارٹی صدارت کیلئے خطرناک قرار دیا جارہا ہے۔ذرائع کایہ بھی کہنا ہےکہ ان ہاؤس تبدیلی کے لئےاندرون خانہ فاروڈ بلاک تشکیل پا چکاہے اورنئےوزیراعظم کےانتخاب کیلئے سردار سکندر حیات خان کی پہلی خواہش سردار فاروق سکندر ہونگےاور انکی دوسری چوائس راجہ نثار ہو سکتے ہیں۔اسی طرح بتایا جا رہا ہےکہ 14 ویں ترمیم لانےاور پارٹی صدارت تبدیل کرنے کی شرط پر تحریک عدم اعتماد موخرہوئی تواس صورت میں شاہ غلام قادرپارٹی صدارت کیلئے پہلی اور چوہدری طارق فاروق دوسری ترجیح ہونگے۔

اس صورتحال میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکےپاس اسمبلی توڑنے کاآپشن موجود ہےمگر پہلےپہل وہ پارٹی صدارت سمیت وزارت عظمیٰ بچانےکیلئے مسلم لیگی ممبران اسمبلی سمیت اپوزیشن کواپنےساتھ رکھ کر 14 ویں ترمیم کیصورت میں انتظامی بحران ختم کرنےکی کوشش کررہےہیں جس کے نتیجے میں اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین نے ابتدائی بیان میں کہا ہےکہ اپوزیشن متحد ہے اور اپوزیشن کے بغیر عدم اعتماد کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔