Drama Bandish Online

کالے جادو پر مبنی ڈرامے “بندش” نے منفرد کہانی سے لوگوں کے دل جیت لیے

اسلام آباد (ویب ڈسک) ایسے ڈراموں اور فلموں میں نیٹ فلیکس کی ویب سیریز ’دی ہنٹنگ آف ہل ہاؤس‘ بھی شامل ہے جو خوف اور تجسس کے ملاپ پر مبنی بہترین ویب سیریز ہے، جس کی نہ تو کہانی میں کوئی جھول نظر آتا ہے اور نہ ہی اس کی ایڈیٹنگ اور ہدایت کاری میں کوئی کمی دکھتی ہے۔ اسی ویب سیریز کی 8 ویں قسط کے ایک منظر نے مجھے خوف زدہ کر دیا تھا اوراب میں نے خوف کا ایسا ہی تجربہ اے آر وائی کے ڈرامے ’بندش‘ میں بھی کیا۔ ہدایت کار عابس رضا اور پروڈیوسر فہد مصطفیٰ اور ڈاکٹر علی کاظمی کی کمپنی بگ بینگ انٹرٹینمنٹ کی جانب سے بنایا گیا یہ ڈرامہ ایک بہترین خوفناک ڈرامہ ہے۔

اس ڈرامے کی ابھی چند قسطیں ہی نشر ہوئی ہیں۔ ڈرامے میں ایک نوجوان خاتون علینہ (حورین) اپنے کمرے میں گہری نیند سوئی ہوئی ہیں اور پھر اچانک ان کے بستر کو پھاڑے جانے اور بستر کو دھکے دیے جانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو تیزی سے آواز دے کر بلاتی ہیں، لیکن کوئی بھی ان کی آواز نہیں سنتا، ایسا لگتا ہے کہ ان کے گھر میں کوئی بھی موجود نہیں اور ان کے گھر کے درختوں پر حشرات کو حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

پھر اچانک ان کی آنکھ کھل جاتی ہے اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ بھیانک خواب دیکھ رہی تھیں۔ علینہ کا خاندان جن میں ان کے والدین مدیحا اور جنید (مرینا خان اور ساجد حسن) اور 2 بہنیں ثانیہ (حرا مانی) اور ہانیہ (زباب رانا) شامل ہیں وہ بہت خوش زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، ان کا اہل خانہ آج تک کسی بری یا غلط چیز کا شکار نہیں ہوا ہوتا۔ دوسری جانب سمبل (فرح شاہ) کالا جادو سیکھتی نظر آتی ہیں اور وہ سیاہ راتوں میں شیطان کی عبادت کرتی دکھائی دیتی ہیں اور ان کے پاس کم عمر لڑکی کے روپ میں ایک جن بھی ہوتا ہے جو علینہ پر اختیار رکھتا ہے، اس جن کا کردار نئی اداکارہ تسبیحہ نے ادا کیا ہے جو یقینا آسکر ایوارڈ کی مستحق ہیں۔

سمبل کو جنید کے خاندان کو تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی ایسا کرنے کا سبب بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔ سمبل کی بہن سندل (زینب احمد) جنید کے دفتر میں بطور سیکریٹری خدمات سر انجام دیتی ہیں اور تیسری قسط تک یہی وہ واحد بات ہے جو ہم جانتے ہیں کہ سمبل ایک سال قبل ہی جنید سے ان کے دفتر میں ملی تھی اور تب سے اس کی نظریں اسی پر ہیں۔ سمبل کو ایک ایسے شخص کی جانب آمادہ دکھایا گیا ہے جو شادی شدہ ہوتا ہے۔

مدیحا کے پاس جنید کے غیر ازدواجی تعلقات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا اور وہ مسلسل ثانیہ کے لیے رشتے ڈھونڈنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں تب انہیں احساس تو ہوتا ہے تاہم جلد ہی ان کے اوپر کالے جادو کے سائے پڑ جاتے ہیں اور سمبل کے منتر ان پر اثر کرنے لگتے ہیں۔ جلد ہی جنید اپنی دوسری بیوی کے ساتھ شہر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ان کے گھر میں جہنم ٹوٹ پڑتی ہے اور ان کے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں ازخود کھلتی اور بند ہوتی رہتی ہیں جب کہ بتیاں خود بخود جلتی اور بجھتی ہیں۔

ثانیہ بھی گھر میں انوکھی اور عجب واقعات کو نوٹس کرتی ہیں اور بعد ازاں ان کی طبیعت بہت خراب ہوجاتی ہیں اور انہیں نیم مردہ حالت میں ہسپتال داخل کیا جاتا ہے۔ ہسپتال میں ڈاکٹر ابیان (مانی) ان کا چیک اپ کرتے ہیں اور انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے وہ ڈرامے میں بھی اپنی حقیقی بیوی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ثانیہ اب تک صرف اپنی گہری دوست فاطمہ کے والد کی جانب سے دی گئی ایک تعویز کے ذریعے زندہ رہتی ہیں اور سمبل اس تعویز کو بھی توڑنا چاہتی ہیں، تاہم وہ اس کوشش میں ناکام ہوجاتی ہیں۔

بندش ایک ایسی کہانی پر مشتمل ڈرامہ ہے جو مقامی لحاظ سے انتہائی خوفناک اور تجسس سے بھری ہوئی ہے اور پھر سید نبیل اور شاہد نظامانی نے کہانی میں شاندار تجسس کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اب تک اس ڈرامے کی 4 قسطیں نشر ہو چکی ہیں اور اب تک اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ سمبل کا مقصد کیا ہے؟ اس کا مسئلہ جنید کے ساتھ ہے یا پھر مدیحا کے ساتھ؟ ساتھ یہ بھی واضح نہیں ہو رہا کہ سندل ایک سال قبل جنید سے ملی تھیں اور تب سے اس سے پیار کر رہی تھیں یا نہیں؟

یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ اظہار انکل کو ہر چیز کا کس طرح علم ہے؟ اور وہ کیوں صرف فاطمہ اور ہانیہ کے لیے خصوصی طور پر تعویزیں بناتے ہیں؟ کیا وہ ایک عالم ہیں؟ لوگ ان سب سوالوں کے جوابات چاہتے ہیں۔ اگر بات اداکاری کی کی جائے تو ہر کوئی اپنے کردار میں فٹ ہے، کوئی بھی دوسرے کے کردار پر فوقیت لیتا ہوا نہیں دکھائی دیتا۔ حرا مانی اور زباب رانا اپنے کرداروں کو شاندار انداز میں نبھانے پر مبارکباد کی مستحق ہیں، انہوں نے ثانیہ اور ہانیہ کے کرداروں کو حقیقت کا روپ دیا ہے۔ ساتھ ہی ڈرامے کے 2 نئے اداکاروں نے بھی شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا، خصوصی طور چھوٹے جن کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے دل جیت لیے، انہوں نے امیدوں سے بڑھ کر اداکاری کی ہے۔

مرینا خان نے مدیحا کا کردار بخوبی نبھایا ہے جو ایک مجبور ماں بنی نظر آتی ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ان کی آنکھوں کے سامنےہی سب کچھ غلط کیوں ہو رہا ہے۔ عابس ظافر نے ڈرامے میں شاندار منظر کشی سے ظاہر کیا ہے کہ وہ ایک بہترین ہدایت کار ہیں، انہوں نے بستر کو اکھاڑے جانے، بتلیوں کے جلنے اور بجھنے، کھڑکیوں اور دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے سمیت سمبل کی کالے جادو کی پریکٹس کو بھی خوب انداز میں دکھایا ہے۔ ایسے ہی بہترین مناظر میں ایک سین وہ بھی ہے جس میں ثانیہ اپنے ایک مہمان کو چائے کا کپ دیتی ہیں اور کپ عین اس وقت جھومنے لگتا ہے جب سمبل جادو شروع کرتی ہیں، جیسے جیسے سمبل تیزی سے پڑھتی جاتی ہیں، چائے کا کپ ویسے ویسے تیز جھومنے لگتا ہے اور یہ سب ہونے کے بعد ثانیہ مرگی کے دورے سے بے ہوش ہوجاتی ہیں۔

اس سین کو انتہائی شاندار انداز میں شوٹ کیا گیا ہے، ساتھ ہی فرح شاہ اور حرا مانی نے حقیقی اداکاری کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈرامے کی ایڈیٹنگ بھی کمال کی کی گئی ہے، عام طور پر پاکستانی خوفناک ڈراموں کی ایڈیٹنگ اس طرح کی نہیں ہوتی۔
ڈرامے میں ایک برے شخص کو رومانوی ہیرو کے طور پر دکھانا بھی کہانی کار کی گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہانیہ اور اس کی دوست فاطمہ کے بھائی حمزہ ( فہد شیخ) کو ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ڈرامے میں حمزہ کو جذباتی، غصے والے شخص اور کسی کا خیال نہ رکھنے والے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے، تاہم اسے پھر بھی ایک پیار کرنے والے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

وہ اپنے رویے اور دباؤ سے ہانیہ کو پیار کرنے پر مجبور کرتا ہے اور انہیں ساتھ میں وقت گزارنے اور ملاقاتیں کرنے کے لیے پریشان کرتا ہے۔ یہاں تک اسے ایک منظر میں ہانیہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اور اسے دباؤ کے تحت ہانیہ کو ہوٹل میں ملاقات کے لیے مجبور کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے ۔ ہانیہ اسے کہتی ہے کہ یہ سب ان کے والدین کو پسند نہیں، لیکن پھر بھی وہ بضد ہوتا ہے کہ وہ ہوٹل میں آئے گی اور اسے کہتا ہے ’تم آؤگی‘۔

اگر لکھاری چاہتا تو قلم کی طاقت سے حمزہ کو اچھے شخص کے طور پر دکھا سکتا تھا ور یہ بھی کہ وہ ہانیہ کو ایک کمزور کے بجائے بہادری کے روپ میں دکھاتا۔ اگر لکھاری چاہتا تو حقیقت سے کام لے کر حمزہ کو دوسروں کی عزت کرنے والے شخص کے طور پر پیش کرتا ہے اور یہ سب کچھ دکھانے سے ہر چیز تبدیل ہوجاتی۔