پیش رفت/عمر منہاس

وہ روشنی کا شہید اول…..مقبول بٹ شہید

فروری کے مہینے کو ماہ مقبول کہا جاتا ہے ۔ اس مہینے کی 18 تاریخ کو مقبول بٹ پیدا ہوئے اوراسی مہینے کی 11 تاریخ کو انہوں نے شہادت کو گلے لگا کر آزادی کی منزل کی نشاندہی اس انداز میں کر دی کہ تمام تر وسائل، فوجی طاقت اور افرادی قوت کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کی آزادی و خودمختاری کی اس منزل کو کشمیری عوام کی نظرو ں سے اوجھل نہیں کیا جا سکتا۔

مقبول بٹ شہید کی یہ شہادت35 سال قبل 11فروری 1984ء کو ہوئی۔ اپنی دھرتی ماں کو بھارتی پنجے سے آزاد کرانے کے لئے ان کی جدوجہد سیلوٹ کی مستحق ہے۔ مقبول بٹ شہید وہ واحد شخصیت ہیں جن پر انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک میں دشمن کا ایجنٹ ہونے کے کیسز چلے اور یہ مقبول بٹ ہی تھے جنہوں نے کہا کہ ’’ میں صرف اپنی قوم کا ایجنٹ ہوں‘‘۔ ساٹھ کے عشرے کے وسط میں ایک بھارتی آفیسر امرچند کے کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں قتل کے بعد جب مقبول بٹ گرفتا رہوئے تو مختصر سماعت کے بعد بھارتی عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔

جب انڈین عدالت کے جج نے انہیں دشمن کا ایجنٹ کہہ کر مخاطب کیا تو انہوں نے للکار کر جج کو جواب دیا کہ مجھے ٹھیک طرح سے دیکھ لو میں دشمن کا ایجنٹ نہیں بلکہ تمھارا ہی دشمن ہوں۔ جب جج نے اپنا فیصلہ سنایا تو مقبول بٹ نے بڑی دلیری سے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ ابھی وہ رسی نہیں بنی جس سے مقبول بٹ کو پھانسی دی جا سکے‘‘۔ انہوں نے اپنی اس بات کو اس وقت سچ کر دکھایا جب وہ دسمبر 1969کو شدید سردی میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سری نگر جیل توڑ کر مظفر آباد پہنچے اور دنیا پر یہ باور کروایا کہ آزاد ی کے پروانوں کو موت کے نام سے خائف نہیں کیا جا سکتا لیکن یہاں آمد پر ان کا استقبال سرکاری طور پر کرنے کی بجائے انہیں پابند سلاسل کر تے ہوئے انسانیت سوز تشدد کیا گیا لیکن آزادی کے پروانے اپنی جان کی بازی لگانے سے کبھی باز نہیں آتے کیونکہ ان کے جینے کا مقصد ہی جلنا ہوتا ہے اور وہ اپنی جان کی بازی لگا کر آزاد ی کی جلتی ہوئی شمع کی لو کو اور بھڑکاتے ہیں۔

کچھ عرصہ بعد رہائی ملنے کے بعد وہ دوبارہ متحرک ہو گئے کیوں کہ وہ کشمیر کے روایتی سیاستدانوں کی طرح دودھ پینے والے مجنوں نہ تھے بلکہ لیلیٰ کی آزاد ی کے لیے جاں نثار کرنے والے رہنما تھے ۔ کشمیر کی تحریک آزادی میں ان کا ایک واضح مقام ہے اور تمام کشمیری ماسوائے چند ایک سیاستدانوں یا پھر ان کے دام میں آئے ہوئے لوگوں کے سیاسی نظریات کی تخفیف کے بغیر مقبول بٹ کو کشمیر کی آزادی کی تحریک کا ہیرو مانتے ہیں۔انہوں نے تحریک آزاد ی کشمیر کی خاطر نہ صرف اپنی جوانی، بلکہ اپنے بال بچوں سمیت اپنا مستقبل بھی قربان کر دیاجب کہ ہمارے اکثر سیاسی رہنمائوں اور عسکری تنظیموں کے لیڈروں نے تحریک آزادی کشمیر کو صرف مال بنانے کا ذریعہ بنائے رکھا۔

پھر ایک ایسے وقت میں جب مسئلہ کشمیر جمود کا شکا ر ہو رہا تھا انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے فلسطینی مجاہدی لیلیٰ خالد کی پیروی کرتے ہوئے کشمیری حریت پسندوں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی کے ہمراہ بھارتی جہاز گنگاہ کو اغواہ کرکے لاہو ر لے آئے اور مطالبہ کیا کہ بھارتی جیلوں میں قید آزادی پسندوں کو رہا کیا جائے لیکن بھارت نے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ مسافروں کو رہا کرنے کے بعد یکم فروری 1971ء کو طیارے کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ پاکستانی قوم نے مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں کے اقدام کو سراہتے ہوئے کھل کر آپ کی حمایت کی۔ آپ کے اس اقدام نے مسئلہ کشمیر کو نہ صرف نئی زندگی عطا کی بلکہ دنیا کے سامنے انتہائی موثر انداز سے بھی پیش کیا۔ جہاز کے جلائے جانے کے بعد یحیٰ خان کی حکومت نے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دے کر مقدمہ چلایا۔ لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں کو محب وطن قرار دے کر باعزت بری کر دیا۔

مئی 1973ء میں رہا ہونے کے بعد منگلا قلعہ میں اس وقت کے پاکستانی وزیرا عظم ذوالفقارعلی بھٹو نے انہیں ملاقات کے لیے بلایا اور پیش کش کی آپ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے آپ کو آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ دینے کا وعدہ بھی کیا مگر جواب میں بابائے قوم مقبول بٹ شہید نے فرمایا’’ہماری منزل آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل آزادی و خود مختاری ہے‘‘۔آپ نے بھٹو کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عوام سے فیصلہ لیں گے چنانچہ محاذ رائے شماری کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا مگر فرشتے مقرر کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لیے گئے۔

آزاد کشمیر کی سیاست سے مایوس ہو کرمقبول بٹ ایک بار پھر وطن کی آزادی کے مشن کو لیے 1976ء کومقبوضہ کشمیر میں اپنے دو ساتھیوں ریاض ڈار اور حمید بٹ کے ساتھ داخل ہو گئے۔مگر چند ہی روز بعد آپ کو دوبارہ گرفتار کرنے کے بعد سابقہ مقدمے کی فائل دوبارہ کھول دی گئی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے 1978ء میں آپ کے سابقہ مقدمے میں ہائیکورٹ کی دی گئی سزاکو برقرار رکھتے ہوئے تہاڑ جیل دہلی منتقل کر دیا۔ فروری 1984ء کے پہلے ہفتے میں برطانیہ کے شہر بر منگھم میں چند کشمیریوں نے بھارتی سفارتخانے کے ایک کلرک رویندرا مہاترے کو اغواء کر کے مقبول بٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مگر تین دن بعد مہاترے کی لاش ملی۔ اس اقدام کے بعد 11 فروری 1984ء کو اس عظیم قائد حریت کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔مقبول بٹ شہید کے آخری الفاظ تھے ــ’’مجھے کل پھانسی دے دی جائے۔ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں اپنے لوگوں سے محبت کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگ اس سچائی اور حق کو جان جائیں گے جن کے لیے میں ان تمام سالوں میں لڑتا رہا اور جس کے لیے میں آج خود کو قربان کر رہا ہوں‘‘۔

آپ کے جسد خاکی کو ورثاء کے حوالے کر نے کی بجائے عوامی غیض و غضب سے بچنے کے لیے جیل میں ہی دفن کر دیا گیا یوں آج تک آ پ جیل میں قید اپنے وطن کی آزادی کے منتظر ہیں۔ان کا جسم تو تہاڑ جیل میں مدفن نظروں سے اوجھل ہے مگر ان کی روح ظالموں کے اعصاب پر آسیب کی طرح آج بھی سوار ہے۔۔انہوں نے ہمیشہ قوم کو اتحاد و اتفاق کا درس دیا مگر آج المیہ یہ ہے کہ ان کے پیرو کار مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہیں ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق قائم کیا جائے اور ان کے نظریہ و فلسفہ کے مطابق تحریک آزاد ی کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ اسی میں کامیابی ہے۔