سردارعتیق نےمسئلہ کشمیرکےحوالےسےوزیراعظم عمران خان کی سمت کودرست قراردیدیا

لندن (سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی سمت درست ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور موثر کشمیر پالیسی تشکیل دی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ برمنگھم میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس برطانیہ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،کنونشن میں مختلف شہروں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسلم کانفرنس پاکستان سے یکجہتی کی علامت اور تحریک آزادی کی ضامن ہے،قائد اعظم نے تمام شاہی ریاستوں میں مسلم لیگ کی شاخیں قائم کیں مگر کشمیر کے بارے میں انہوں نے کہا تھا جکہ یہاں کشمیر میں مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ ہے۔

سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ برطانیہ میں تارکین وطن اپنی سیاسی اور دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی معاملات پر بھی توجہ مرکوز کریں۔آج برطانیہ کی مجموعی آبادی میں مسلمان ڈھائی تین فیصد ہیں مگر کرائم ریٹ میں ان کا حصہ اٹھارہ سے بیس فیصد ہے۔اس صورت حال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آج ساری دنیا کشمیر کی طرف متوجہ ہے۔ماضی کے چند سالوں میں جو سرد مہری کشمیر کے حوالہ سے ہے اسے ختم کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے سخت محنت کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی روشنی ڈالنی چاہئے،فرقوں،برادریوں اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونا چاہئے۔انہوں مسلم کانفرنسی کارکنوں کو تلقین کی کہ اپنی توانانیاں برطانیہ کے استحکام کیلئے وقف کریں۔اس ملک نے انہیں بے پناہ روز گار دیا ہے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ بھر پور سیاسی سرگرمیاں کر کے کنونشن کو کامیاب بنانے کیلئے برطانیہ میں مقیم مسلم کانفرنسی کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں۔تقریب میں مسلم کانفرنس کارکنوں کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجر گارڈسف ممبر آف پارلیمنٹ راجہ اسحاق صابر صدر مسلم کانفرنس برطانیہ چوہدری بشیر رٹوی، سرپرست سردار امجد عباسی، مرکزی کوآرڈینیٹر راجہ ذولقرنین خان، شبیر ملک چوہدری، زیارت حیسن چوہدری ، جمیل تبسم ، عبدالخالق قادری، راجہ الیاس خان، راجہ اسحاق خان، راجہ ظفراللہ خان، چوہدری فاضل، سیدعاشق حیسن کاظمی، بیرسٹر اظہر چوہدری، محمد عظیم، نوید آفتاب، عدنان دانش ، سمیرہ فرخ خواتین ونگ کی جنرل سیکڑی انیلا ، چوہدری مطلوب، چوہدری نعیم شربت، پروفیسر امتیاز ، راجہ ضیارب خان سمیت دیگر نے خطاب کیا.

اس موقع پر صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے مسلم کانفرنس برطانیہ کی نو منتخب باڈی سے حلف لیا۔اس سے قبل صدر مسلم کانفرنس جب کنونشن میں پہنچے تو اُن کا شاندار استقبال کیا گیا،جئے مرشد،جئے عتیق،کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ سابق وزیراعظم آزادکشمیر و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں تبدیلی کی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بہتر حکمت عملی کی طرف پیش رفت کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں بھارت نواز دوستی اتنی گہری تھی کہ حکومت نے وزیر خارجہ نہیں بنایا جس سے مسلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اندرونی چیلنجز کے ساتھ ساتھ مسلہ کشمیر کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے پاکستانی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار کوئی وزیر خارجہ پانچ روز تک برطانیہ کے ایوانوں میں کشمیر پر بات چیت کرتا رہا انہوں نے کہا کہ چار اور پانچ فروری کے بھارتی اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں کہ بھارت پاکستان کے اس اقدام پر کتنا چیختا رہا ہے۔ سردار عتیق احمد نے مزید کہا کہ یہ جو تبدیلیاں ہیں انکا گہرا اثر پڑے گا اور مسلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت ہوگی انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی اب اس مسلہ کے حل کی خواں ہے کیونکہ عالمی برادری قابل میں امن کے ساتھ ساتھ نیٹو فورسز کی واپسی چاہتی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہوں سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اب امریکہ بھارت پر دباؤ ڈالے اور اسے مذاکرات کی میز پر لیکر آئے اور سہہ فریقی مذاکرات ہی مسلہ کشمیر کا حل ہے.

سردار عتیق احمد خان نے آزادکشمیر کی سیاسی صورتحال پر کئے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ مجھے آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کا وجود مستقبل کی سیاست میں استقامت کے ساتھ کھڑا دکھائی نہیں دیتا پارٹی کا سینئر نائب صدر اور سیکریٹری جنرل کے بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ آزادکشمیر میں تبدیلی کی حوا چلے گی اور راجہ فاروق حیدر نے ماضی میں جو کچھ اپنی جماعت کے ساتھ کیا تھا اسکا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی میں مسلم کانفرنس کا مرکزی رول ہوگا جسے نبھانے کے لئے اپنا دورہ مختصر کر کے واپس جا رہا ہوں۔