سماجی رہنما انیلہ عباسی مقبول بٹ کی برسی پر دل کی بات زبان پرلے آئیں

مظفرآباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)متحرک سماجی رہنماانیلہ عباسی کا کہنا ہے کہ کاش مقبول بٹ زندہ ہوتے تو انکے حضور تعظیم بجا لاتی کہ وہ کشمیر کی سر زمین پر پیدا ہونے والے گوہر نایاب تھے ۔چمن کےدیدہ ور تھے ۔ انہیں کہتی کہ دیکھو کس طرح ختم کر دیئے گئے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم سے پہچان چھین لی گئی۔
انکا کہنا ہے کہ جوں جوں وقت آگے کی طرف جائے گا توکشمیر کی گذشتہ چند دہائیوں کی تاریخ اپنی چھلنی میں با غیرت و باہمت افراد کو چھانے گی تو اسکی چھلنی میں صرف ایک ہی موتی پڑا ہوا ملے گا تو اسکی روشنی سے خیرہ ہوتی ہوئی آنکھیں دل گزیدہ اور دل گرفتہ بس یہی کہیں گی کہ یہ موتی کیسے اور کیونکر اوجھل رہا ۔آخر کیوں اسکی روشنی ہم نے گرد آلود منافقت کی نذر کی۔کیوں مفادات کی کالی سوچوں نے ہم سے چھپا لی۔

مقبول بٹ کی غیرت و قومیت کی روشنی میں ہمیں اپنا چہرا دیکھنا تھا مگر میری قوم کے عقل پر پڑے پردے نے ہم سے اپنی پہچان ہی چھین لی۔ ہم آج خود کو پہچان ہی نہیں پا رہے۔

انکا کہنا ہے کہ آج اس بے نور ہوتی دھرتی کی یہ مایوس بیٹی تجھ سے روشنی مانگتی ہے۔ فقط اتنی کہ جس میں اپنے خدوخال دیکھ سکوں۔اتنی روشنی کہ میری قوم اپنی صورت کھلی روشنی میں دیکھ کر چونک جائے ۔ اپنا موجودہ خوفناک لرزیدہ۔ کٹا پھٹا چہرہ دیکھ کرخوفزدہ ہو جائے اسکو ادراک ہو جائے کہ یہ اس کا چہرا نہیں ہے۔کم سے کم اس حقیقت کو ماں لے اور جان لے کہ اگر کچھ ہو نہیں سکتا مگر پھر بھی اتنا تو ہو کہ جب یہ قوم آخری ہچکیاں لے رہی ہو تو اس قوم کو اتنا تو پتہ ہو کہ وہ کیونکر فنا ہوئی ۔بے خبری کی موت درد ناک موت ہوتی ہے ۔کم سے کم اتنا تو پتہ ہو کہ ہمارا تشخص ہے اورہماری منزل کیا ہے۔