asma

ارباب عالمگیر اور عاصمہ عالمگیر ایک بارپھرمشکل میں پھنس گئے

پشاور(نیوزڈیسک) احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر پر دوبارہ فرد جرم عائد کردی۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت کی عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ارباب عالمگیر اور عاصمہ عالمگیر پیش ہوئے۔

دوران سماعت بیرسٹر مسرور شاہ نے کہا کہ فرد جرم میں غیر ملکی اثاثہ جات ریفرنس میں شامل ہے لیکن اس کا نیب کے پاس کوئی ثبوت نہیں جبکہ نیب نے بھی غیر ملکی اثاثہ جات ریفرنس سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

اس پر عدالت نے ریفرنس میں شامل بیرون ملک اثاثہ جات کے نکات ریفرنس سے خارج کرنے کے احکامات کرتے ہوئے دوبارہ فرد جرم عائد کردی۔ساتھ ہی عدالت نے 4 گواہان کو 5 مارچ کو طلب کرتے ہوئے مذکورہ کیس کی سماعت 5 مارچ تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

علاوہ ازیں عاصمہ عالمگیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے پیپلزپارٹی رہنماؤں پر دوبارہ فرد جرم عائد کردی ہے، نئے فرد جرم میں بیرون ملک اثاثوں سے متعلق نکات کو نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے ریفرنس میں دونوں رہنماؤں پر بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے نکات بھی شامل کیے تھے جبکہ دونوں رہنماؤں نے عدالتی احکامات کے مطابق ریفرنس فائل کرنے کی درخواست دی تھی۔

وکیل نے بتایا کہ کیس میں 3 گواہ جراح کے لیے طلب کیے گئے ہیں، جس پر شیر دل، کلیم شہزاد اور ڈاکٹر ریحان بطور گواہ پیش ہوں گے۔

دوسری جانب ارباب عالمگیر کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر کا کہنا تھا کہ ہم احتساب کے بالکل خلاف نہیں بلکہ ہم نے خود ریفرنس دائر کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، تاہم شکوک وشبہاب کی بنیاد پر ہمارے خلاف ریفرنس دائرکیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک اثاثوں کا کوئی ثبوت نیب کے پاس نہیں ہے، ملک میں موجود ظاہر شدہ اثاثوں پر ہمارے خلاف ریفرنس دائرکیا گیا جبکہ ملکی اثاثوں پرہم ہرسال باقاعدہ ٹیکس اداکررہے ہیں، یہ جائیداد الیکشن کمیشن میں دوبار ظاہر کی گئی ہیں۔

عاصمہ عالمگیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ میری وراثتی جائیداد ہے، اس پر ریفرنس بننا سمجھ سے بالاتر ہے، لہٰذا اب ہمارے خلاف بدعنوانی کے ثبوت عدالت میں پیش کیے جائیں۔