جاگتی آنکھیں/سردارکامران

این ٹی ایس بحیثیت ادارہ

بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی ایک تحریر میری نظروں سے گزری جس میں بابائے اُردو یہ فرماتے ہیں کہ دنیا کو صرف ایک زاویہ سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہیے ۔ اُن کے نزدیک درخت کو صرف سائے کی نسبت سے ہم لوگ پہچانتے ہیں، کبھی کبھار گھونسلے میں بیٹھی ہوئی چڑیا کی نظر سے بھی درخت کو دیکھ لینا چاہیے حتیٰ کہ لکڑ ہارے کی نظرسے بھی درخت کو دیکھنے سے ایک نیا زاویہ اور انداز نصیب ہو گا۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے کسی بھی ایشو پر صرف ایک زاویے سے نظر دوڑائی جاتی ہے بلکہ نظر دوڑانے کے ساتھ ساتھ چڑھائی بھی کر لی جاتی ہے ۔ اگر ہم اُسی ایشوکو مختلف زاویوں سے دیکھیں گے تو کئی پہلو اُجاگر ہوں گے اور شائد ہم الفاظ کے بہتر چنائو اور معاملات کی گہرائی کو سمجھنے میں کامیاب ہو سکیں۔ بدقسمتی سے مزاحمت کرتے ہوئے ہم اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ بہت سارے معاملات یکسو ہونے کے باوجود ہم اپنے چڑھائی کے ٹینک واپسی کی طر ف لے جانے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتے ۔ مزاحمت کسی بھی نا انصافی کے خلاف کرنا ایمان کی نشانیوں میں سے ایک ہے اور انسان کے زندہ ہونے کی بھی علامت ہے ۔ جو افراد یا قوم اپنے حق کو پہچان نہ سکیں یا اُس حق کیلئے لڑنا نہ جانتے ہوں وہ افراد اور قوم کبھی ترقی کے زینے نہیں چڑھ سکتے۔ مگر ہمیں یہ تجزیہ کرنا ہو گا کہ کسی ایک فرد یا کسی ایک با اثر شخص کے غلط کام کی مزاحمت کرتے ہوئے ہم کہیں ایسے ادارے کے خلاف کام تو نہیں کر رہے جس کے ساتھ پوری قوم کا مجموعی مفاد منسلک ہے ۔

میں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ حال ہی میں سحرش سلطان کے معاملے میں تمام عوام نے سحرش سلطان کا ساتھ دیا اور دینا بھی چاہیے تھا یقیناً سحرش سلطان نے اپنے حق کیلئے آواز بلند کی اور جدوجہد سے اپنا حق حاصل بھی کیا۔ بدقسمتی سے اُس کے احتجاج کو روکتے ہوئے کچھ معاملات میں خرابی بھی پیدا ہوئی مگر سحرش سلطان کے معاملہ میں NTS کے ادارے کو پوری طرح سے تنقید کی توپوں کے آگے رکھ دینا بھی قرینا انصاف نہیں ہے۔

بات کو ٹھنڈے ذہن سے سوچنے سے پتہ چلتاہے کہ اگر این ٹی ایس کا ادارہ نہ ہوتا تو اُمیدواران کا بشمول سحرش سلطان ٹیسٹ ہی نہ لیا جاتا ، نتیجتاً براہ راست تقریوں کا عمل سیاستدانوں کے ہاتھ میں چلا جاتا، کیا جو لوگ ٹیسٹ پاس کر کے انٹرویو تک پہنچے ،وہ لوگ بشمول سحرش سلطان تقرری کے کسی بھی عمل میں دور دور تک دکھائی دیتے؟ ہر گز نہیں بلکہ جو لوگ ٹیسٹ بھی پاس کرنے کے اہل نہیںاُن لوگوں کی تقرریاں عمل لائی جاتیںاور میرٹ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی جاتیں۔ اگر یہ جواب نہیں بنتا تو قارئین خود سے اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ ماضی میں کیا ایسا نہیں ہوتا رہا ہے؟ حال میں این ٹی ایس کی بدولت کتنے ہی قابل اور اہل لوگوں کی تقرریاں بغیر سفارش اور صرف اور صرف قابلیت کی بنا پر عمل میں لائی گئیں۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ این ٹی ایس کے اندر کچھ خامیاں موجود ہو سکتی ہیں مگر یہ ادارہ پوری قوم کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے جس کے ہوتے ہوئے ریاست کے اہل لوگ اپنی نوکریاں رشوت ، سفارش اور سیاستدان کے اثر و رسوخ کے بغیر حاصل کر سکتے ہیں ۔

آزاد کشمیر میں این ٹی ایس کے تحت ہونے والے ٹیسٹ اور انٹرویوز اپنے ارتقائی مراحل میں ہیں ، غالباً جب کوئی ادارہ بنتاہے تو وہ خوبیوں کے ساتھ ساتھ ابتدائی مراحل میں خامیاں بھی رکھتاہے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ این ٹی ایس یا کسی بھی ادارے کو مکمل طور پر ختم کر کے دوبارہ میرٹ سے پرانے سفارشی اور بے قاعدگیوں والے نظام کو اپنایا جائے۔ بعض لوگ انٹرویو کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ، ٹیسٹ کسی بھی شخص کی قابلیت کو جانچنے کا ایک طریقہ ہے تو انٹرویو بھی کسی بھی اُمیدوار کے بولنے ، اُس کی شخصیت اور قابلیت کو جانچنے کا ایک طریقہ ہے ۔ صرف ٹیسٹ کی بنا پر کسی بھی طرح سے کسی بھی نظام میں تقرری عمل میں لانا ممکن نہیں ہے ۔ انٹرویو بھی ایک ضروری جزو ہے ، ہاں ! انٹرویو کون لے ؟، کونسی اتھارٹی جو زیادہ سے زیادہ میرٹ پر قائم ہو ، کو انٹرویو لینا چاہیے ، یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہ ہو سکتاہے کہ انٹرویو کیلئے پبلک سروس کمیشن کو ہی اختیار دیا جائے کہ وہ ٹیسٹ پاس کرنے والے موضوع اُمیدوار کا انتخاب کرے یا کوئی اور طریقہ کار جس میں سیاسی اثر و رسوخ اور سفارش کا کلچر اُمیدوار کے انتخاب میں حائل نہ ہوسکے اور سحرش سلطان جیسے ایشوز جنم نہ لیں۔

انٹرویو لینے والے لوگوں کا انتخاب کرتے ہوئے بھی اُن کی Credibility جانچنا ایک اہم ضرورت ہے اور اسے مستقبل میں ملحوظِ خاطر رکھنا ہو گا۔ دوسری جانب میرٹ پر پوری طرح سے عمل کروانا بھی ضروری ہے ۔ اگر کوئی بے قاعدگی پائی جاتی ہے تو اُس پر سنجیدگی سے تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ داران کو ان بے قاعدگیوں پر سزا بھی ملنی چاہیے۔ این ٹی ایس آزاد کشمیر حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے ۔ یہ ادارہ اب آزاد کشمیر میں قائم ہو چکاہے اور فعال بھی ہے ۔ چند بے قاعدگیوں کا جواز بنا کر اِس کو ختم کرنا خطہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہو گا ، اُن کے مستقبل کو دوبارہ سے تاریک کرنے کے مترادف ہو گا۔کوئی بھی حکومت جب اقتدار میں آتی ہے تو جیتنے والی پارٹی کے کارکنا ن صرف اور صرف اپنا حق سمجھتے ہوئے خالی آسامیوں پر اپنی تقرریاں کروانے میںمصروفِ عمل ہو جاتے ہیں۔

راجہ فاروق حید ر صاحب کو بھی یہ مشکلات درپیش تھیں مگر اِس کے باوجود انہوں نے این ٹی ایس کو قائم کر کے ایک اُصولی فیصلہ کیا ۔ Right man for the right job ۔ چند بے قاعدگیوں پر کسی ادارے کے وجود کے بارے میں سوالات اُٹھانا ہر گز جائز عمل نہیں ہے ۔اُس بے قاعدگی کے اوپر تنقید بھی جائز ہے اور اُس کے اندر بہتری کی بات کرنا بھی انتہائی معقول عمل ہے۔ مگر ہمارے ہاں پورے ادارے کے وجود کو ہی ختم کر دینے کی باتیں کی جاتی ہیں جو کہ ایک اچھی روایت نہیں ہے ۔ یہ تو ایک آسان سی بات ہے کہ اگر این ٹی ایس کا ادارہ نہ ہو تو جیتنے والے سیاست دانوں کیلئے یہ آسان سی بات ہے کہ وہ بغیر کسی ٹیسٹ اور انٹرویوز کے اپنے ووٹرز کو ہی نوازیں گے۔اگر باریکی سے دیکھا جائے تو این ٹی ایس کا ادارہ آنے والے تمام ایسے سیاستدانوں کے راستے میں رکاوٹ ہے جن کو میرٹ ایک آنکھ نہیں بھاتا بلکہ جو ان کی آنکھ کو بھاتاہے اُسی کیلئے تمام مراعاتیں اور نوکریاں دی جاتی ہیں۔