state views

حکومت نےسوشل میڈیا کے ذریعے منافرت پھیلانے والوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا اعلان کردیاہے. ،وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی لا محدود نہیں ،کسی کونفرت کا پرچار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد کو کنٹرول کیا جائیگا ایک نظام بنا لیا ہے جس کے ذریعے سوشل میڈیا پرنفرت کا پرچار بھی روکا جاسکے گا۔
سوشل میڈیا پر دھمکیاں اور فتوے دینے پر بعض افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ برصغیرمیں اسلام کی ترویج صوفیاکرام کے ذریعے ہوئی،شدت پسندی ایک حالیہ لہر تھی ،ہمارے لیے مسئلہ اس وقت پیش آیا جب ہم افغان تنازع میں پھنس گئے۔

انہوں نے کہا کہ غیرمتعلقہ تنازع میں پھنسنے سے شکوک وشبہات پیداہوئے،دنیا کے مختلف معاشرے انتہا پسندی کا شکار ہیں ،بھارت میں مودی کی حکومت آنے کے بعد انتہا پسندی میں اضافہ ہوا جبکہ اسلام میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں،ہماری برداشت اور حوصلے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔فوادچوہدری نے کہا کہ کسی اورپراپنی رائے مسلط کرنے سے مسائل جنم لیتے ہیں،دنیا بھرمیں ہرآزادی کی ایک حد ہے،اظہار رائے کی آزادی لا محدود نہیں ،اس ہفتے میں سوشل میڈیا پرنفرت پھیلانے کے الزام میں اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں.

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیاآہستہ آہستہ پورے معاشرے پر حاوی ہوتا جارہا ہے ، طریقہ کار تیار کرلیا ہے جس سے سوشل میڈیاپرنفرت انگیزی کنٹرول ہوگی۔وزیراطلاعات کہا کہ دنیا کو انتہا پسندی جیسے سنگین چیلنجز کا سامناہے، بھارت میں مودی کی حکومت کے بعد انتہا پسندی میں اضافہ ہوا اور پاکستان کو بھی انتہاپسندی اور دہشت گردی کاسامنارہا. انہوں نے کہا کہ اسلام میں انتہاپسندی اورشدت پسندی کا کوئی تصور نہیں۔بحثیت قوم ہماری ہی ہمت تھی کہ شدت پسندی سے نہ ٹوٹے، ہماری برداشت کی تاریخ بہت شاندار اور پرانی ہے، یہ پاکستانی قوم ہی ہے جو غیر روایتی جنگ سے باہر آکر آگے بڑھ رہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں، جو کچھ پاکستانی قوم نے سہا کوئی اور ایسا نہیں کرسکتا تھا، ہمارے ملک کا کوئی حصہ نہیں تھا، جس سے خون نہ بہاہو، ہم نے اب اپنے ملک میں نفرت کے پرچار کو روکناہے.انہوں نے کہاکہ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی دفترخارجہ میں شام نیوزکانفرنس کریں گے ، دہشت گردی کا بیچ انتہاپسندی سے بویا جاتا ہے، اگر معاشرے میں بات چیت نہیں ہوگی تو قتل وخون ہوگا، جو مذاکرات کی بات کرتاہے، اس کے خلاف فتوے جاری ہوجاتے ہیں، افغان تنازع میں پھنسنے سے پاکستان میں شدت پسندی پھیلی.وزیراطلاعات نے کہا شدت پسندی تو یہ ہے کہ دوسرے کواس کی رائے کے اظہار موقع نہ دیاجائے۔

کسی پر اپنی رائے مسلط کرنے سے شدت پسندی پھیلتی ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں، ان کے اظہار رائے کے حق کی کوئی حد نہیں ،ایسا نہیں ہے، ہمارے ہاں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں، غیر روایتی تنازعات سے ہم نکل آئے ہیں، ہم نے ان قوانین کو نافذ کرناہے. سوشل میڈیا کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے اب نفرت انگیزتقاریراوربیانات کوروکناہے، طریقہ کارتیارکرلیاہے جس سے سوشل میڈیاپرنفرت انگیزی کنٹرول ہوگی-

ہم سوشل میڈیاکو فتوے دینے کے لئے استعمال کرنے والوں کو گرفتارکیا.انھوں نے مزید کہاسوشل میڈیاآہستہ آہستہ حاوی ہوتاجارہاہے، سوشل میڈیاپرجعلی اکا?نٹ سے نفرت انگیزی پھیلائی جا رہی ہے، میری رائے حتمی ہے اس کے خلاف بات کرنے پر پھانسی کی بات شدت پسندی ہے، ریاست کے پاس حدمتعین کرنے کا اختیار ہے اور پاکستان میں قوانین کی حاکمیت یقینی بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراطلاعات نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن لانچ کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہا میڈیاپر نفرت انگیزی پر کافی حدتک قابو پالیا ہے، سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے پرگرفتاریاں ہوئیں، غیر متعلقہ تنازعات میں پھنسنے سے شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں

جرمنی میں آئندہ کئی برسوں کے لیے سالانہ بنیادوں پرکتنے تارکین وطن کی ضرورت ہوگی ؟جانیے