وزیراعظم آزادجموں کشمیرراجہ محمدفاروق حیدرخان کی یورپین پارلیمنٹ میں کامیاب سفارتکاری، بھارت کوشکست فاش

اظہارخیال/راجہ عبدالباسط خان

مفکر پاکستان ،حکیم الامت،پاکستانی قوم کے رول ماڈل حضرت علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پر دم ہے اگر تو نہیں خطرہ افتاد
برسلز میں جب یورپین پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہوا تو کانفرنس کا ماحول اتنا گرم جوش تھا جسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل محسوس ہورہا ہے۔ آزادجموں وکشمیر کے وزیر اعظم ، کشمیری عوام کی ہر دلعزیز شخصیت اور مسئلہ کشمیر کو اپنی حکومت کی ترجیح اول قرار دینے والے جناب راجہ محمد فارق حیدرخان کے چہرے پر جو تمکنت تھی اسے الفاظ میں سمونا میرے لیے مشکل ہورہا ہے۔ وزیر اعظم آزادجموں کشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان مسئلہ کشمیر پر جو جذباتی موقف رکھتے ہیں اور جس والہانہ ، مدبرانہ اورجو شیلے انداز میں کشمیرپر بحث کرتے ہیں اپنے مخاطب کو بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر ڈھانے جانے والے مظالم بتاتے ہیں اسے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانیت سوز داستانیں سناتے ہیں تو سننے والے خود بخود ان کی طرف مائل بہہ مائل ہونے لگتے ہیں۔یہ اندر کا سچا جذبہ ہے جو جب الفاظ کی شکل ڈھال کر باہر آتا ہے تو سننے والے کے دل میں جیسے پیوست سا ہو کر رہ جاتا ہے۔

وزیر اعظم آزادجموں کشمیر کی مسلسل کوششوں ، پے درپے یورپ کے دوروں ، سجاد خان ، علی رضا سید،سجاد کریم حیدر ،افضل خان جیسے مخلص اور انسانیت کا درد رکھنے والے یورپی ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم آزادجموں کشمیر کی ان کاوشوں کو پزیرائی دی اور اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے رپورٹ کے بعد کشمیریوں کو دوسری بڑی کامیابی ملی جب یورپین پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز بلند کی۔

وزیر اعظم آزادجموں کشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان انسانی حقوق کمیٹی کے ممبران سے مسلسل لابنگ میں رہے اور اس کا آغاز2016میں چیئرمین کمیٹی سے ملاقات میں ہوا جس کے بعد وطن واپسی پر وزیر اعظم نے دسمبر2016میں کمیٹی کو خط لکھا اس کے بعد ہر سال وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ہندوستانی مظالم کے دستاویزی ثبوت وہاں جا کر پیش کرتے رہے اور اس سلسلہ میں کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید اور کشمیر کونسل یورپ کی پوری ٹیم جس میں انتھونی پارکر سابق سفیر یورپین یونین اور کی پوری ٹیم نے ایک تحریک کی طرح کام کیا۔

راجہ محمد فاروق حیدر خان کی کوششوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر یورپی پارلیمینٹ بول اٹھی ہے۔ یورپین پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بحث میں بھارتی فوج کے نہتے کشمیری بچوں،خواتین ،نوجوانوں پرانسانیت سوز مظالم پر یورپین ارکان پارلیمنٹ نے اپنی حکومتوں کو بھارت کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا،بحث کے دوران یورپین اراکین پارلیمنٹ انسانی حقوق کے کارکنان کے علاوہ وزیراعظم آزادکشمیر بھی موجود رہے۔ اس دوران وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے یورپی ارکان پارلیمینٹ سے اہم ملاقاتیں بھی کیں ،لنچ کے دوران بھی وزیراعظم ارکان پارلیمینٹ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے رہے جنہیں ارکان پارلیمینٹ نے بڑی توجہ سے سنا۔وزیراعظم نے یورپین اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات میں واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کا کوئی تقابل ہی نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں آزادکشمیر سے متعلق جن امور پر روشنی ڈالی گئی تھی وہ تیرہویں ترمیم کے ذریعے حل ہو چکے۔

یورپین پارلیمینٹ میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مندرجات پڑھے جبکہ ممبر انسانی حقوق کمیٹی واجد خان نے بحث کا آغاز کیا۔ارکان پارلیمینٹ نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم،کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارتی فوج جس طرح بچوں اور خواتین پر ظلم کرتی ہے وہ قابل برداشت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کا وہ واحد خطہ بن چکا ہے جہاں ہاف ویڈو(آدھی بیوہ) جیسی انسانیت سوز ٹرمینالوجی استعمال کی جا رہی ہے کیونکہ جن خواتین کے خاوندوں کو اغوا کیا گیا ان کو سال ہا سال گزرنے کے باوجود علم ہی نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ۔

یاد رہے کہ ہندوستانی لابی کی تمام تر سازشیں ناکام ،بحث کو ملتوی کروانے کے لیے پورا زور لگایا دو دفعہ وقت اور تاریخ تبدیل کی گئی مگر آخر کار اس پر بحث کی گئی۔وزیراعظم آزادکشمیر اور یورپ میں مقیم کشمیریوں کی بڑی تعداد یورپین پارلیمنٹ میں موجود رہی۔تجزیہ نگار اس کوکشمیرکے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں کیونکہ گیارہ سال کے بعد انسانی حقوق کمیٹی میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق معاملہ کو اٹھایا گیا ہے۔ارکان یورپی پارلیمینٹ واجد خان ،مس جولی وارڈ،بیرونس نوشینہ مبارک،امجد بشیر ،ڈیوڈ مارٹن،مسٹر جورڈی سول،مسٹر سائن سمن،مس جین لیمبرٹ،مسٹر رچرڈ کاربیٹ،مس تھیریسا گرفن اور مسٹر جو لینن نے بحث میں حصہ لیا۔

وزیر اعظم آزادجموں کشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان سے ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان نے ملاقات کی۔اس موقع پر واجد خان نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر کی تسلسل سے یورپین پارلیمنٹ آمد اور ممبران کے ساتھ رابطوں کے باعث جو کامیابی حاصل ہو رہی ہے ایسا پچھلے 15 سال میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزادکشمیر کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے انتہائی سنجیدگی اورکمٹمنٹ کا مظاہرہ کیا گیا جس کے بہت بڑے اثرات سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو یورپین پارلیمنٹ کے سامنے رکھنا اور انہیں متوجہ کرنا انتہائی غیرمعمولی کامیابی ہے جس کا کریڈٹ راجہ محمد فاروق حیدر خان اور کشمیر کونسل یورپ کو جاتا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ یورپین یونین نے ہماری آواز سنی جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔ ہندوستان میں مودی انتہا پسندانہ رحجانات کو فروغ دے رہا ہے۔ کشمیری اس مسئلے کے بنیادی فریق ہیں جن پر بھارت نے جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے۔

وزیر اعظم نے اراکین یورپین پارلیمنٹ سے بات چیت کے دوران کہاکہ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے یہ رپورٹ ہندوستانی جنگی جرائم کی عکاسی کرتی ہے۔راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خون سے وادی کو سرخ کر دیا ہے اس لئے ہم دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیں ظالم بھارتی فوج سے محفوظ بنائے جس نے ہماری تہذیب و تمدن تک کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی کی زبان کسی وزیراعظم کی زبان نہیں مودی کی جانب سے فوج جو چاہے جہاں چاہے کرے کا بیان کشمیریوں کی نسل کشی کی طرف اشارہ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں پلوامہ واقعے کے بعد جو کچھ ہوا اس سے نام نہاد سیکولرازم کے دعوے سے پردہ ہٹ گیا۔وزیراعظم نے کیا جو بھارتی فوج 18 ماہ کی بچی کو نشانہ بنائے اسے دہشت گرد فوج نہ کہوں تو کیا کہوں۔

انہوں نے کہا کہ جموں میں بھارتی درندوں نے سات سالہ بچی کا ریپ کیا اسے مارا گیا یہ وہاں کا معمول ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کسی قسم کی بالادستی کو ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔برسلز میں وزیر اعظم نے پاکستانی و کشمیری سے کمیونٹی سے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم جب خطاب کیلئے پہنچے تو ان کا والہانہ خیرمقدم کیا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ آپ لوگ یہاں ہمارے سفیر ہیں ،آپ یورپ میں کشمیر پر بھرپور بات کیا کریں اس حوالے سے کوئی دباو خاطر میں نہ لائیں بلکہ یہاں کی کمیونٹی کو بھارتی فوج کے جابرانہ قبضے اور ظلم و ستم کے بارے میں بتائیں۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان پاکستان پر حملے کا سوچے بھی ورنہ بھارت کا نام و نشان مٹ جائے گا۔کشمیریوں کے دل میں ہندوستان سے نفرت کے علاوہ کوئی جذبہ نہیں ہے۔کشمیریوں کے خلاف بھارتی وزیراعظم مودی اور خفیہ ایجنسی را کی ایما پر پرتشدد کارروائیاں ،کشمیری طلباء 4 پر تشدد جموں میں مسلمان کشمیریوں کے خلاف منظم حملے انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔ہندوستان نے چھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا،ہزاروں اپاہج بنا دئیے،ہزاروں غائب ہیں اور اتنے ہی جیلوں میں قید ہیں۔وزیراعظم پاکستان کا خطاب درست اور بروقت تھا ضروری ہے کہ پوری قوم بھارت کے خلاف ایک ہو جائے۔کشمیر تاریخی،ثقافتی ،جغرافیائی طور پر پاکستان ہے،بھارت کے خلاف بہادر کشمیری اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ فرنٹ لائن میں لڑیں گے۔بھارت کو شکست فاش دینے کیلیے بہادر کشمیری پوری طرح تیار ہیں۔بھارتی فوج گیدڑ بھبکیاں نہ دے جنگ کوئی کھیل نہیں ہوتی۔وزیراعظم پاکستان نے ٹھیک کہا اگر بھارت نے کوئی غلطی کی تو پاکستان سوچے گا نہیں بھرپور جواب دیگا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے لاکھوں کشمیری شہید کر دئیے اب کشمیری بھارتی فوج کو پھول تو پیش نہیں کر سکتے۔

مشن کشمیر میں یورپین پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تاریخی بحث میں شرکت سے قبل آزادجموں کشمیر کے وزیر اعظم سپین میں ’’ ندائے کشمیر‘‘ کے زیر اہتمام’’ یوم یکجہتی کشمیرکانفرنس‘‘ میں شرکت کیلئے سپین کے دارلحکومت بارسلونا گئے۔ کانفرنس میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصویری نمائش لگائی گئی تھی۔ کانفرنس کی صدارت بارسلونا میں پاکستان کے قونصل جنرل عمران علی چوہدری نے کی جبکہ اس تقریب سے ندائے کشمیر کے چیئرمین راجہ مختار خان سونی ، محمد اقبال چوہدری، سوشلسٹ پارٹی اسپین کے خوسے ماریا سالا، راجہ افتخار احمدو دیگر نے خطاب کیااور کشمیریوں کی آواز بلند کرنے کا عزم کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ پلوامہ واقعے سے پاکستان کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے کشمیریوں پر ہندوستانی بربریت اور جارحیت آخر یہ دن لے آئی ہے۔

بھارت کو سوچنا پڑے گا کہ کب تک وہ ظلم کی چکی چلائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن تعداد اور وسائل میں ہم سے زیادہ ہے لیکن ہمارا عزم صمیم،ہماری استقامت، ہمارا حوصلہ،ہمارے مقصد کی سچائی، اللہ اور اس کے رسول پر مکمل ایمان اور اتحاد اور جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کر کے ہم ا?س کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پرامن جدو جہد پر یقین رکھتے ہیں بھارتی مظالم سے تنگ آ کر کشمیریوں نے اپنے حق کی خاطر آواز اٹھائی جس کے لئے وہ اس وقت تک لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں، کشمیریوں کے خلاف ہندوستان نے آل آؤٹ کے نام پر آپریشن میں روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ راجہ مختار سونی، محمد اقبال چوہدری، چوہدری نعیم آف فرانس، راجہ افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپین میں جنرل الیکشن ہورہے ہیں پاکستانی کمیونٹی جس سیاسی جماعت کو چاہیں ووٹ دیں لیکن ان سے یہ وعدہ لیں کہ وہ جیت کر مسئلہ کشمیر کو اپنی پارلیمنٹ میں اجاگر کریں گے، سوشلسٹ پارٹی اسپین کے نمائندہ خوسے ماریا سالا نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دیا جانا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تائید کرنا ہے۔

دورہ سپین کے دوران آزادجموں وکشمیر کے وزیر اعظم نے پاکستانی و کشمیری کمونٹی سے بھی خطاب کیا اور اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کہ مدد کریں اور بھارتی فوج کے انسانیت سوز جرائم روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔مشن کشمیر کے دوران وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان انتہائی سرگرم رہے۔ وزیر اعظم کی بھرپور محنت اور دیار غیر میں مقیم کشمیریوں کی کوششوں سے یورپین پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حقوق کیلئے بحث کا انعقاد ممکن ہوا جو کہ یقیناًایک بہت بڑی کامیابی ہے جس نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے۔اس سے قبل کسی کشمیری رہنما کی جانب سے اس قدر جرات اور بے باکی سے اپنا موقف دنیا کے سامنے نہیں پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم آزادکشمیر یقیناًاس پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ عالمی ضمیر جھنجھوڑنے میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑااور صحیح معنوں میں بیس کیمپ کے وزیر اعظم ہونے کا ثبوت دیا ہے