پاکستان میں محدود فضائی خلاف ورزی بھارت کی مجبوری تھی،فیصل محمد

لندن (سیدمظفرحسین بخاری+سٹیٹ ویوز ) بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی درحقیت پلوامہ فالس فلیگ اٹیک کے نتیجے میں بھارت کی حکومت پر بڑھتے ہوئے دبائو کو کم کرنے کیلئے کیا گیا اس بات کا انکشاف انٹرنیشنل تنازعات میں ثالثی کے عالمی ماہر فیصل محمد نے کیا ۔

فیصل محمد کے مطابق مودی حکومت سانحہ پلوامہ سے پاکستان کیخلاف عالمی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی بلکہ اسے اُلٹا بھارتی عوام کی جانب سے بدلہ لینے پر شدید ردعمل کا سامنا تھا جسے ایک منطقی انجام تک پہچانے کیلئے بھارتی حکومت نے محدود خلاف ورزی کی تاکہ بھارتی عوام کو پلوامہ واقعہ کے حوالے سے مطمئن کیا جاسکے ۔

عالمی مصالحت کار فیصل محمد کے مطابق ایک انتہائی اہم بھارتی شخصیت نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بھارتی حکومت کی مجبوری تھی تاہم پاکستانی حکام کو اعتماد میں لئے بغیر یہ اقدام خطرناک بھی ہوسکتا تھا ۔۔۔۔

دوسری جانب پاکستان کے اندر بیٹھے سسیلین مافیا کے حوالے سے عالمی مصالحت کار فیصل محمد نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کڑے احتساب کے پیش نظر کچھ لوگ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پیرول پر ہیں اوروہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکے یا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے مکمل ہوسکیں۔

اس سلسلے میں بھارت اورامریکہ کی سازشیں جاری ہیں اورپاکستان کے اندر کی سیاستدانوں کو ہائیرکررکھا ہے ۔ اس حوالے سے اپوزیشن کے کچھ لوگوں نے پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کو پیغام بھجوایا کہ وہ پاکستان پر کاری ضرب لگاسکتا ہے کیونکہ لوہااب گرم ہوچکا ہے ۔۔

فیصل محمد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سے غداروں کی دعوت کے باوجود بھارت پاکستان پر حملہ نہ کرسکا پلوامہ فالس فلیگ الٹا پڑگیا تھا اسلئےبھارت نے اس میں حقیقی رنگ بھرنے کیلئے صرف فضائی خلاف ورزی کی اور جاتے ہوئے جنگل کو نشانہ بنایا تاکہ پلوامہ کا بدلہ ظاہر کرکے بی جے پی اور مودی کو پورے بھارت میں صف اول پر لایا جائے