وزیراعظم آزادکشمیرکا کے-ایچ خورشید کو زبردست خراج تحسین

مظفرآباد (سٹیٹ ویوز) وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ خورشید حسن خورشید کشمیری عوام کا فخر تھے ،قائد اعظم نے انہیں اپنے ساتھ چنا قائد غیرمعمولی مردم شناس تھے۔خورشید حسن خورشید نے بطورصدر آزادکشمیر کا تشخص قائم کیا اور عوام کو شعور دیا ۔خورشید ملت پاکستان بناتے وقت قائداعظم کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے اور یہ ہم سب کا اعزاز ہے ،تحریک آزادی کیلئے بھی خورشید ملت کی خدمات ہیں ۔آزادکشمیر کی ساری سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرکہ ایک دن پوری دنیا میں تارکین وطن کو اکٹھا کریں گے ۔غیرمسلم لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف باہر نکلے لیکن بدقسمتی سے مسلم امہ ایسا کوئی مظاہرہ کرنے میں ناکام ہوئی ۔ پاکستان ہمارا ہمدرد اور دنیا میں اکلوتا وکیل ہے ،دنیا کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاک بھارت کشیدگی کی بنیاد جموں کشمیر ہے ۔مسلہ کشمیر کا حل سہ فریقی مذاکرات سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے،وقت آگیا ہے کہ ہم تحریک آزادی کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کریں ،پاکستان محفوظ ہے تو ہماری تحریک بھی مضبوط ہے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے سابق صدرریاست خورشید ملت خورشید الحسن خورشید کی31ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے تحریک انصاف آزادکشمیر کے سینئر نائب صدر سابق وزیر حکومت خواجہ فاروق احمد، لبریشن لیگ کے رہنما منظور قادر ،جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمود الحسن اشرف،شیخ قیوم، بیرسٹر زبیر اعوان ، رفعت گیلانی، راجہ محمد ممتاز خان ودیگر نے بھی خطاب کیاجبکہ تقریب میں چیئرمین ایم ڈی اے ملک ایاز، سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل منصور قادر ڈار،سینئر قانون دان راجہ محمد حنیف خان ، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ خواجہ اعظم رسول،ڈائریکٹر جموں وکشمیر لبریشن سیل راجہ محمد سجاد خان سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔

وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والی شہادتوں ا ور املاک کے نقصان کو اجاگر کیا جائے اور قومی و بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر ہونے والے مظالم شائع کر کے ہندوستان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کروائیں۔ انہوں نے کہاکہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ آزاد حکومت اور حریت کانفرنس کو بین الاقوامی سطح پر کشمیر کی وکالت کی ذمہ داری دی جاے ۔موجودہ ماحول کے مطابق پالیسیاں ترتیب دیکر دشمن کی چالیں ناکام بنانی ہیں ۔موجودہ حالات میں کشمیری قیادت متحد ہوکر متفقہ لائحہ عمل طے کریگی ۔مسلہ کشمیر ڈیڑھ کروڑ عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ کشمیر کوئی باہمی مسلہ نہیں ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کا حل ہونا باقی ہے ۔پاکستان اورتحریک آزادی کشمیر کے مفاد میں ہمیں اکٹھے ہونا ہے ۔تارکین وطن کشمیر کے مسلے کو بہتر انداز میں اجاگر کررہے ہیں۔ہندوستان پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرے اس کے بعد کشمیر پر اس کے ساتھ بات کی جائے ۔ یہ وقت متحد اور ایک ہونے کا ہے تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھا ہونا ہوگا۔وزیر اعظم نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر معصوم کشمیریوں کے اوپر ہندوستانی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ جب میں ممبر اسمبلی بنا تو خورشید ملت اس وقت قائد حزب اختلاف تھے ۔ ان کے جانے کے بعد اسمبلی میں رونق نہ رہی۔ خورشید ملت مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور اپنی ذات انجمن تھے ۔ خورشید ملت کے نظریات آج بھی مشعل راہ ہیں ،قوموں میں ایسے سپوت صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔خورشید الحسن خورشید ایک مدبر سیاسی رہنما تھے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ بلدیہ ہال کو خورشید الحسن خورشید ہال کی تزہین و آرائش کے بعد اسے خورشید الحسن خورشید ہال کے نام سے منسوب کیا جائیگا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستانی جارحیت کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کمی نہیں لا سکتی ۔ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ لائن آ ف کنٹرول پر بھی بھارت مسلسل جارحیت کررہا ہے ۔ گزشتہ روزبھی میرے حلقہ انتخاب میں چکوٹھی سیکٹر میں قابض بھارتی افواج نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔