سفارتکاری/چوہدری عبدالعزیز
سفارتکاری/چوہدری عبدالعزیز

” اورسیزز میں آباد پاکستانیوں کی ذمہ داریاں

جب میں اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر برطانیہ آیا اور اس وقت وطن سے تعلق کا واحد ذریعہ اخبار اور جرائد سے ملنے والی معلومات ہوتا تھا اس دور میں برطانیہ سے ایک رسالہ شفق کے نام سے شائع ہوتا تھا جسے میں بڑے شوق سے پڑھتا تھا جبکہ اس میں دو صفحات قارئین کے مراسلوں اور اظہار خیال کے لئے بھی مخصوص تھے میں اکثر اس میں حصہ لیتا رہتا تھا میں بڑے شوق سے اسے خود بھی پڑھتا اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرتا تھا

اس رسالے کی ایک قاری کسی پاکستانی خاتون نے ایک دن یارک شائر سے لکھا کہ وہ حال ہی میں پاکستان گئی تھی اس نے پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کی اس اس طرح منظر کشی کی کہ اس نے پاکستان میں بہت زیادہ غربت دیکھی ۔ گلی، محلوں میں بچے بھوک اور افلاس میں بری طرح مبتلا تھے پھر اس خاتون نے اس کا حل بھی بتایا اور تجویز بھی دی کہ برطانیہ اور یورپ میں آباد پاکستانی اور کشمیری اپنی جیب سے کرنسی کے سکے ہر روز الگ کر دیا کریں اور کچھ عرصے کے بعد اپنے ان گلی اور محلے کے لوگوں کو بھیجتے رہیں تو کافی حد تک یہ مسائل کم ہو سکتے ہیں

آج اس رسالے کو پڑھے ہوئے بتیس سال بیت گے ہیں کہ یہ تجویز اس خاتون کی آج بھی مجھے یاد ہے اگر وہ خاتون کہیں زندہ ہے تو اللہ اسے لمبی عمر دے میں آج بھی اس بہن کی تجویز پر عمل کر رہا ہوں اور ہزاروں سے یہ بات شیئر بھی کرتا آ رہا ہوں۔۔

یقین جانئے یہ اتنا زبردست طریقہ ہے جس سے آپ کو محسوس بھی نہیں ہوتا اور سال کے بعد یہ رقم لاکھوں میں بن جاتی ہےجس سے بہت سارے غرباء کی مدد اور فلاحی کام کئے جا سکتے ہیںاب اسی طرح میرے ذہین میںایک آئیڈیا آیا ہے کہ آزاد کشمیر کی آبادی چالیس لاکھ ہے اور تقریباً 50 فیصد لوگ بیرون ملک میں رہتے ہیں اگر بیس لاکھ لوگ دس میٹر فی کس سڑک بنوا دیں تو آزاد کشمیر میں بیس ہزار کلومیٹر سڑک کا جال بچھ جاتا ہے اور فی کس خرچ صرف تیس ہزار روپے آتا ہے جس سے آزاد کشمیر میں سیاحت کو بہت فروغ مل سکتا ہے۔

جس سے فائدہ یہ ہوگا کے بیس لاکھ کشمیری جو وہاں رہتے ہیں ان کو روزگار مل جائے گا بچے سکولوں کے لیے آسانی سے سفرکرسکیں گے بیماروں کو آسانی سے ہسپتالوں میں لایا جا سکے گا مزدوروں اور ملازمین کے لیے آسانیاں پیدا ہونگی زراعت کیلئے آسانیاں ہونگی اور صنعت اور تجارت کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔۔

بیس ہزار سڑکیں آزاد کشمیر میں پختہ ہو جائیں تو آزاد کشمیر کو ترقی کرنے سے کوئی دنیا کی طاقت روک نہیں سکتی حال ہی میں ہم تیس دوستوں نے مل کر دو کلومیٹر پختہ سڑک شروع کی جو کے مکمل ہونے کے قریب ہے اس کے بعد ہم نے ایک اور سڑک جو آدھا کلومیٹر ہے کو پختہ کرنے کا پروگرام بنایا رکھا ہےاور اسی سال انشاءاللہ ایک اور سڑک جو دو کلو میٹر ہے کو بھی پختہ کرنے کا منصوبہ ہےجو اپنی مدد آپ کریں گے اس کے ساتھ ہی چند دوستوں نے مل کر پروگرام بنایا ہے کے ایک چھوٹا سا ڈیم بنائیں گے جس سے پورے گائوں میں سبزیاں اور پھلدار درخت لگائیں گے جس سے گائوں کے لوگ تازہ سبزیاں اور پھل کھائیں گے

ڈیم میں مچھلیاں پالیں گےان مچھلیوں سے جو آمدنی ہوگی وہ مزید فلائی کاموں میں لگائیں گےاور سڑک کی مرمت بھی اسی سے ہوتی رہے گی جو منصوبے ہم دوست مل کر بنا رہے ہیں ان کو دوسروں کے ساتھ شئیر کرنے کا مقصد یہ ہے کے اگر ہم ہہ کر سکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا ہم سب بحیثیت قوم یہ کیو ں نہیں کر سکتےآؤ ہم سب مل کر اپنی ریاست کو ایک مضبوط ریاست بنائیں اور ہمارے وطن سے عظیم ٹیلنٹ باہر کے ملکوں میں منتقل ہو رہا ہے اسکو روکیں۔۔

ہمارے پڑھے لکھے نوجوان دوسرے ملکوں کے لئے کام کر رہے ہیں چونکہ ایک تو اپنے ملک میں نوکریاں نہیں ہیں اور اگر نوکریوں ہیں بھی تو سفارش، اقرباء پروری اور رشوت ستانی نے ان کا راستہ روک رکھا ہے جبکہ ہم سب ایک ہیں ہمارے درد اور دکھ سانجھے ہیں دوسروں کا احساس کریں اور یہ اعادہ کریں کہ ہم سب مل کر اپنی ریاست کو ایک عظیم تر ریاست بنائیںمیں نے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دیکھا کہ ہمارے ملک میں معیاری تعلیم کا بھی فقدان ہے

برطانیہ اور یورپ میں پاکستانی نژاد ٹیچرز کوالیفائیڈ اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان ٹیچروں کو پاکستان لے جاکر تحصیل کی سطح پر وہاں کے ٹیچروں کو ٹریننگ دلوائی جا سکتی ہے اسی طرح محکمہ صحت میں بھی اورسیزز سے ٹرینڈ ڈاکٹروں اور سرجن کو لے جاکر وہاں صحت کے شعبہ میں بہتری لائی جاسکتی ہے برطانیہ اور یورپ میں پاکستانیوں کے زیر انتظام رفاہ عامہ کی چیریٹیاں بنی ہوئی ہیں ان کی اکثریت جس مقصد کے لئے چندہ اکٹھا کرتی ہیں وہ اس مقصد کے لئے خرچ نہیں کیا جاتا ان سے بھی سوال پوچھے جائیں ان کی رہنمائی کی جائے ان پر بھی پریشر ڈالا جائے کہ وہ ہمارا چندہ کہاں خرچ کرتے ہیں