ادراک/جسٹس(ر)منظورحسین گیلانی

تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت قواعد کار اور قانون کا نفاذ اور معاہدہ کراچی کی تجدیدی ترمیم

آزاد کشمیر کے 1974 کے عبوری آئین میں لگ بھگ چوالیس سال کے بعد با مقصد ترامیم کی گئی ہیں گوکہ ان میں چند ابہام دور کرکے بھر پور مقاصد حاصل کرنے کے لئے ایک اور ترمیم کی ضرورت ہے لیکن جو ہوئی ہیں ان کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تاہنوز قواعد کا ر اور چند ذیلی قوانین نہیں بنائے گئے ہیں جس کی و جہ سے وہ مقاصد پورے نہیں ہورہے جن کی خاطر تمام تر مخالفت کے باوجود یہ ترامیم عمل میں لائی گئی ہیں

آئین کی دفعہ 58 کے تحت لازمی ہے کہ “ ایکٹ کے مقاصد پورے کرنے کے لئے صدر قواعد بنائیں گے” ان کو عام فہم زبان مین رولز آف بزنس کہتے ہیں جو 1985 میںبنائے گئے تھے جن مین وقتآ فوقتآ ترمیم ہوتی رہی ہے لیکن تیرہویں ترمیم کے بعد آزاد کشمیر حکومت کا دائرہ کار وسیع اور آزاد کشمیر کونسل کا محدود بلکہ ختم ہی ہو گیا ہے، نئے ادارے بھی بن گئے ہیں اور پرانوں کی ہیئت بھی تبدیل ہوگئی ہے ، ترمیمی دفعہ 19 اور 31 کے تحت حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نئی اور دور رس نوعیت قائم ہو گئی ہے –

اس کے علاوہ ٹیکس کے نظام ، ریاستی باشندہ قانون کے سرٹیفکیٹ کے اجراء، صدر کے انتخاب اور آئین میں ترمیم کا طریقہ کار، قائم مقام وزیر اعظم کے عہدے کی تخفیف، وزرا کی تعداد اور مشیروں اور خصوصی معاونوں کی تقرری کا تعین، حکومت آزاد کشمیر کے دائرہ کار کی وسعت اور کونسل کے دائرہ اختیار کا کما حقۂ اختتام،اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ، اسمبلی کی قانون سازی کے اختیار مین وسعت، اسلامی نظریاتی کونسل کا دائرہ کار، کنسالیڈیٹڈ فنڈ میں تبدیلی،اعلی عدلیہ کے ججوں اور الیکشن کمیشن میں تقرریان ، کونسل کے اثاثوںکا کنٹرول اور استعمال ، قومی اثاثوں کی تحویل ، انتظام وانصرام وغیرہ – ان ترامیم کو بار آور بنانے کے لئے کچھ معاملات میں قانون سازی کی ضروت ہوگی جن میں سر فہرست الیکشن کمیشن کا ادارہ ہے جو عملی طور عضو ے معطل تھا کیونکہ سار ا کام انتظامیہ سے لیا جاتا تھا اب یہ عملہ کے علاوہ تین مقتدر ممبران پر مشتمل بنایا گیا ہے جن کو اب عملی طور ایک ادارے کے طور کرنا پڑے گا جیسے الیکشن کمیشن پاکستان کرتا ہے یہ لوگ کام کررہے ہین لیکن ان کی شرائط ملازمت کا قانون ابھی تک نہیں بنایا گیا اور میری شنید کے مطابق ان کو تنخواہ اور دیگرُ مراعات بھی نہیں مل رہی جو بہت بڑا مذاق ہے –

آئین کے دیباچہ یا تمہید ( preamble) کے پانچویں حصے ، دفعہ 19’ اور 31 میں ترامیم کے بعد کراچی معاہدہ کی تجدید نو بھی ناگزیر ہوگئی ہے جو آزاد کشمیر کے قیام کے 24 اکتوبر 1947 کے اعلانیہ کے بعد ، آزاد کشمیر حکومت اور حکومت پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت اور اختیارات کی تقسیم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور اس وقت تک حکومت پاکستان اس معاہدے کے حوالے سے مختلف اقدامات اٹھاتی ہے جن مین لینٹ آفیسر کی تقرری بھی شامل ہے –

چونکہ اب تعلقات کی آئینی نوعیت ، سیاسی ماحول ، مرکزی جماعتوں کا عمل دخل اور پاکستان کے ہندوستان اور دنیا کے ساتھ نئے معاہدے اور مقبوضہ کشمیر میں تحریک کی نوعیت اور جہت ہی بدل گئی ہے اس لئے اس کی تجدید ناگزیر ہوگئی ہے تاکہ اس میں بدلی ہوئی صورت حال کو سمویا جائے – اس کے لئے میری تجویز ہے کہ نیا سیاسی عمرانی معاہدہ عوامی رائے ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اسمبلیوں اور حکومت پاکستان کے اتفاق کے بعد ہی ممکن ہوگا، جس پر بحث کی ضروت ہے –

میری رائے میں معاہدہ کراچی کے تسلسل میں ہی تجدیدی معاہدہ موجودہ زمینی حقائق کی روشنی میں اس طرز پر مناسب ہوگا؛آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک ہی طرز کا ، لیکن الگ الگ انتظامی یو نٹس کے تحت نظام حکومت، اختیارات اور ذمہ داریوں کا آئینی ڈھانچہ حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد ان دونوں اسمبلیوں کی منظوری سے نافذ کیا جائے اور اس میں سوائے ان دفعات کے جو حکومت پاکستان سے متعلق مختص ہونےکی ترمیم کا اختیار بھی ان ہی اسمبلیوں کو حاصل ہو، دیگر دفعات کی منظوری حکومت پاکستان کی منظوری سے مشروط ہو۔

مسئلہ کشمیر کا سلامتی کونسل کے چارٹر کے تحت اور قرار دادون کی روشنی میں حل ہونے تک ، ریاست کے ان دونوں حصوں کو پاکستان کے ان تمام پالیسی ساز، فیصلہ ساز اور قانون ساز اداروں میں نمائندگی کا حق، ان کو صوبہ بنائے بغیر ، اسی طرح حاصل ہو جیسے پاکستان کے انتظامی یونٹس کو بطور صوبہ حاصل ہے اور جب کشمیر کا مسئلہ لوگوں کی رائے کے مطابق حل ہوگیا اور ان علاقوں نے آزادانہ طور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرلیا تو یہ انتظام خود بخود ختم ہوجائیگا اور دونوں یونٹس اپنی مرضی سے نیاعمرانی سیاسی معاہدہ کرنے کا حق استعمال کرینگے، اس مقصد کے لئے پاکستان کے آئین میںان ہی خطوط پر خصوصی ترمیم کی جائیگی۔

معاہدہ کراچی کے تحت جو اختیارات مسلم کانفرنس کو دئیے گئے تھے، وہ سب کے سب ان دو حکو متوں کو منتقل ہو جانے چاہئیں کیونکہ اب ملک کی ساری جماعتیں یہاں کار فرما ہیں ؛مقبوضہ ریاست جموںکشمیر میں تحریک آزادی مین یو این چارٹر کے تابع جائز قانونی، سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سرگرمیوں اور پوری ریاست میں سلامتی کونسل کے تحت رائے شماری کی تحریک، تشہیر اور اس کے انعقاد کے لئے دنیا بھر میں ریاستی باشندوں کو شریک کرنے اور اس کے لئے دنیا بھر میں شعور بیدار کرنے ، مقبوضہ ریاست میں ریاستی ظلم و جبر کے خلاف دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے ریاست کے ان دونوں حصوں پر مشتمل باشعور لوگوں کو عالمی طاقتوں سے رابطہ کے لئے حکومت پاکستان سفارتی سہولیات مہیا کریگی –

یہ چند نکات محض (Food for Thought ) یعنی فکر کو انگیخت کرنے کے لئے ہیں ، جو میری نظر میں فی زمانہ ریاست کے ان دو علاقوں کو با وقار اور با اختیار بنانے کے علاوہ تحریک آزادی مین ان کو ایک مقام عطا کرینگے تاکہ کشمیر کی آزاد ی کی تحریک ریاست کے آزاد حصے کے لوگ ملک اور بیرون ملک خود چلائیں اور حکومت پاکستان صرف وہ امور انجام دے جو ان علاقوں کے آئینی ڈھانچے مین اس کو حاصل ہین یا بین الاقوامی زمہ داریون کے تحت ناگزیر ہوں -یہ صاحب ادراک اور ارباب اختیار کے لئے عصر حاضر کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ایک نقطہ نظر ہے جس پر بحث کی ضرورت ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں