حکومت اور اداروں کے اندر موثر احتسابی نظام ، مانیٹرنگ نا گزیر،پیر سید علی رضا بخاری

حویلی (سٹیٹ ویوز)ممبر قانون ساز اسمبلی پیر سید علی رضا بخاری نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر پارلیمانی پارٹی کا کم از کم دوروزہ اجلاس طلب کریں تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال ،بھارتی جارحانہ مذموم عزائم و دیگر ضروری امور پر سیر حاصل گفتگو اور مشاورت ہو سکے ،بے لوث خدمت مشن ہے ، دھوکہ دہی کی سیاست پر لعنت بھیجتا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے حویلی کے دو ہفتوں کے اندر دوسرے تین روزہ دورہ کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور مسلم لیگی کارکنان سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔

اس موقع پر صدر علما مشائخ مسلم لیگ ن پیر سید شبیر احمد بخاری و دیگر راہنما و کارکنان بھی پیر علی رضا بخاری کے ہمراہ تھے۔پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ محدود وسائل میں مثالی کا رکردگی پر ضمیر مطمئن ہے حویلی کے ہر گاوں میں ہماری خدمت کا نشان موجود ہے ، کارکنان کو محنت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ، ایم ایل اے حویلی اگر معاہدہ کی پاسداری کرتے تو مزید بہتر انداز میں عوامی مسائل کو حل کر پاتے، عہد شکنی کی روایت درست نہیں ہمارا دین معاہدوں کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے۔’

پیرسید علی رضا بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو بنے تین سال ہونے کو ہیں اس دوران وزیراعظم کی قیادت میں تاریخی کام ہوئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا دوگنا ہونا،تیرہویں ترمیم اور اسمبلی سے تحفظ ناموس رسالت کا بل منظور ہونا تاریخی حکومتی کارنامے ہیں تاہم حکومت اور اداروں کے اندر موثر احتسابی نظام اور مانیٹرنگ نا گزیر ہے۔ تاحال کرپشن کے خاتمے اور کارکنوں کی توقعات پوری کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے


اس لئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی میں جملہ حل طلب ایشوز پر تفصیلی مشاورت کرکے جامع لائحہ عمل وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے سبب ایل او سی پر پیدا شدہ صورتحال انتہائی توجہ طلب اور ایکشن کی متقاضی ہے ہماری بہادر افواج دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور ہماری عوام کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے کہا ایل او سی پر بھارتی جارحیت کوئی نئی نہیں لیکن متاثرین کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کی طرف جتنی توجہ چاہئے ہے وہ نہیں دی جارہی۔

انہوں نے کہا جنگ بندی لائن پر بسنے والوں کے کو بلا تخصیص بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام شامل کیا جائے۔ ان علاقوں میں تعلیم ،صحت اور سڑکوں کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔ گیارہ حلقوں کے لئے تیرا کروڑ کے فنڈز بہت کم ہیں کم از کم دو ارب مختص کئے جائیں تاکہ ایمرجنسی سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں