نیوزی لینڈ ، دہشتگردی میں آسٹریلوی شہری ملوث نکلا

نیوزی لینڈ (سٹیٹ ویوز) نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک صحافی نے غیر ملکی ٹی وی چینل سی این این کو بتایا کہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص آسڑیلوی شہری ہے ۔

جس کی شناخت برینٹن ٹیرینٹ سے نام سے ہوئی ہے۔ حملہ آورفوجی وردی میں ملبوس تھا۔ جس کی عمر 30 سے 40 سال ہے جبکہ ایک عورت سمیت اس کے4 ساتھی شہر کے دوسرے علاقوں سے گرفتار ہوئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اسلام مخالف مواد کے87 صفحات پوسٹ کیے جن میں لوگوں کو مسلمانوں پر حملوں کیلئے اُکسایا گیا تھا۔ اسی طرح ملزم سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تارکین وطن کے خلاف بھی قابل اعتراض مواد پوسٹ کرتا رہا ہے ۔حملہ آور نے حملے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب پر بھی لائیو نشر کی اور ساتھ لکھا کہ آؤ پارٹی شروع کرتے ہیں۔

17 منٹ کی اس ویڈیو میں 28 سالہ آسٹریلوی حملہ آور کو فوج کی وردی پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں حملہ آور کا چہرہ بھی واضح ہے۔ اس ویڈیو میں حملہ آور کو مسجد میں موجود ایک سو سے زائد نہتے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ حملہ آوروں نے اپنی کارروائیوں کو فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لائیو دکھایا تاہم مقامی پولیس کی درخواست پر فیس بُک انتظامیہ نے اس مواد کو ہٹا دیا۔

آج مساجد پر حملے کیلئے حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کے ساتھ پہنچا ۔ پولیس کمشنر مائیک بش نے کہا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں کے ساتھ آئی ای ڈی بھی لگا ہوا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں