فکر و نظر: راجہ رشید خان راٹھور (ر) اے ای او
فکر و نظر: راجہ رشید خان راٹھور (ر) اے ای او

حویلی کا سماج اور راج

میں بحیثیت ایک سیدھا سادا حق اور سچ کا متلاشی ہونے کے ناطے ضلع حویلی کی شاندار تاریخ اور انمول زرخیز مٹی، ذہین ترین شخصیات کو جنم دینے والی یہ سرزمین جس بات اور ضرورت کا تقاضہ کرتی ہے اس حقیقت کو قلم کی نوک پر لاکر صاحبان علم و دانش اور سیاسی وسماجی شخصیات کے ضمیر اور انداز فکر ونظر سے نظروفکر کو ایک مثبت سمت کی جانب لے کر جانا چاہتا ہوں۔اور دعوت فکر بھی دیتا ہوں۔ اللہ تعالی کی کائنات میں غوروفکر عبادت ہے۔

خطہ آزادکشمیر کے اندر موجودہ ضلع حویلی پاکستان بننے سے قبل بلکہ بہت قدیم دور سے اپنے اندر بڑا خوبصورت تاریخی ورثہ انسانی اقدار اور معاشرتی رکھ رکھا ئورکھتا ہے۔ لیکن اسی حسین و جمیل وادی کو نہ جانے کیوں نظر بد ہو چکی ہے۔ یہاں کے باسی مذہبی سماجی سیاسی اور معاشرتی انداز اور معیار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔خوشی غمی اور دکھ سکھ کے معاملات میں ایک دوسرے کی بھی بھرپور معاونت اور دلجوئی اس علاقہ کا طرہ امتیاز تھا یہی حویلی جو سب کی سہیلی تھی آج اس حویلی کی فضا نفرتوں سے آلودہ ہو چکی ہے بڑے بڑے خاندانوں اور گھروں کے اندر اخلاقی گراوٹ اور منافقت نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ جو آپ کے علم میں بھی ہیں مسلمان کے لئے جو راہ ہدایت اور رہنمائی کی کتاب قرآن پاک ہے جس میں واضح حکم موجود ہے کے اے نسلِ آدم تمہارے شعبے اور قبائل بنائے گئے تاکہ تمہاری پہچان ہوسکے اور اللہ کے نزدیک عزت و احترام والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔

فرمان خداوندی ہے سیدھی سیدھی بات کرو لیکن ہم ہیں کہ اس حکم کے مغائر سیدھی سیدھی نہیں بلکہ ٹیڑھی ٹیڑھی اور بد اخلاقی کی بات کر کے اخلاق اور اقدار کا جنازہ نکال رہے ہیں ہمارے معاشرے کے اندر جدھر دیکھے قصبہ ہوگائوں ہو یا بازار ہو انسانوں کے گروہ توکیا گروپ اور برادری ازم کے بت پرورش پا رہے ہیں تعصب ، اقربا پروری ،میری تیری، تو تو ،میں میں کے راگ الاپے جا رہے ہیں اور انسانی اقدار کو یکدم پامال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امن پسند بے لوث اور خاموش حضرات نے مزید چپ بھی سادھ لی ہے اور اس خاردار ماحول سے اپنا دامن بچانے کے لیے گوشہ نشینی پر مجبور ہیں اس لئے کہ معاشرہ اور ماحول وقار کی علامت نہیں رہا صاحبان علم و دانش کی قدر بزرگوں کی عزت بڑوں کا احترام بھائی چارہ اخوت اور مروت کے بجائے مادیت ،خودغرضی، لالچ اور منافقت رچ بس چکی ہے۔اور کوئی باضمیر شخص ایسی سوسائٹی میں آنے جانے اور رہنے کو پسند نہیں کرتا نہ ہی باہر جانا پسند کرتا ہے اور نہ ۔ ہی بیٹھ سکتا ہے ۔

گھر بیٹھیں تو ویرانی دل کھانے کو آوے باہرنکلیں تو ہر گام پہ ہے غوغاںسگا ں

قارئین کرام گستاخی کی معذرت چاہتے ہوئے زیر نظر کالم میں ضلع حویلی کی سماجی کیفیت اور راج کرنے حکومتی انداز فکر و سوچ کا تجزیہ پیش کرنے جا رہا تھا کے مجموعی طور پر یہاں کے معاشرہ میں موجود خامیوں کی نشاندہی بھی میرے مضمون کا ابتدائی حصہ بن گیا ان سماجی و معاشرتی خرابیوں اور برائیوں کو کم کرنے یا روکنے کے لئے بھی کسی تحریک کی ضرورت ہے یہ تحریک چند بے لوث دیندار ایماندار اور حق گو شخصیات خواہ بہت کم ہی سہی لیکن حق اورسچ کو اپنا معیار بناتے ہیں اور اپناتے ہیں۔تب ہی یہ معاشرہ چل رہا ہے اس لئے اب بھی اور کسی وقت بھی بہتری کی جانب اور اصلاح معاشرہ کی جانب قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ اس گئے گزرے دور میں جو شخص حق بات کہے گا وہ بہت بڑا جہاد کرے گا۔ جابر ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کرنا بھی جہاد ہے۔ میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ معاشرے کے اندر جن افراد کی حکمرانی یا کھڑ پینچی ہوتی ہے وہی معاشرے کو اچھا یا برا رکھنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اور ان کے اقدامات سے اچھائیاں اور برائیاں جنم لیتی ہیں۔

مضمون زیر نظر میں پہلی بار حکمران طبقہ خواہ وہ موجودہ دور حکومت کا ہو یا سابقہ سب کے لئے کہوں گا اپنا جادو اور اثر رسوخ صرف حکمرانی ہوس اقتدار اور ذاتی مفاد شہرت کے لئے مت استعمال کریں اللہ کی زمین پر خالق کائنات کی نعمتوں کو اس کا کرم عزت اور حکمرانی کو اس کا خصوصی فضل اورعنایت سمجھ کر مخلوق کی خدمت کریں تکبر اناَ پرستی اور میںمیں کی ضد سے باہر نکلتے ہوئے یہ عقیدہ رکھیں کہ اس کے فضل و کرم سے ہیں یہ سب بہاریں حاصل ہیں
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

وہ ذات کبریائی دے کر بھی آزماتی ہے اور لے کر بھی آزماتی ہے اس خطہ حویلی میں جو ماحول سیاست نے اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے ڈویلپ کیے ہے یہ انتہائی نامناسب ناہموار اور نفرتوں کے بیج بونے والا ماحول ہے جسکی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اس کے جراثیم آنے والی نسلوں میں منتقل ہو رہے ہیں حویلی کی بچاری عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں خاکسار قبل ا زیں حویلی کے سیاسی و سماجی ماحول پر ایک تفصیلی مضمون اخبارات میں قارئین کی خدمت میں پیش کرچکا ہے اور آج پھر سے یاددہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں

ساقی میرے خلوص کی شدت کو دیکھنا میں پھر آگیا ہوں گردشِ دوراں ٹال کر۔

میرے دوستوں میں جب بھی کچھ لکھنے یا کہنے یا بولے کہ ارادہ کرتا ہوں تو میرے سامنے ضلع حویلی کی ان کی نفرتوں بھری فضا گردش کرتی ہے ۔اور اہلیان حویلی کو چھوٹا منہ لے کر بڑی بڑی باتیں سنانے اور سمجھانے کی جسارت کرتا ہوں ہمارا معاشرہ قدیم عربوں کی تاریخ کا نقشہ پیش کر رہا ہے ۔جو عربوں کا کلچر اسلام سے پہلے تھا اسی طرح کے کلچر کو پروان چڑھتے دیکھ رہا ہوں جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے عرب قبائل میں قبل از اسلام کا کلچر کیا تھا ۔ بات بات پر جھگڑا ، تو تو ،میں میں، ہر گروہ کا ایک سردار، ہر پانی کے گھاٹ پر جھگڑا فساد برپا رہتا ۔

کبھی پینے پلانے پہ جھگڑا۔ کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا۔۔
یوں ہی ہوتی رہتی تھی تکرار ان میں۔ یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں۔

ہر فتنہ فساد کیوں تھا اسلام کی تعلیمات نہ ہونا کفر و شرک کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے معاشرے کا یہی طرہ امتیاز ہوتا ہے یہی عرب کا تباہ حال اور شرک زدہ اور ظلم کا معاشرہ محسن انسانیت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدسے یکدم سدھر گیا اور تعلیمات اسلام کی روشنی نے دنیا کو عزت و احترام کا نشانہ بنا گیا۔

عرب پہ جو قرنوں سے تھا جہل چھائیا پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

ْقارئین عربوں کی کایا محسن انسانیت نے دین اسلام کا درس دے کر پلٹ دی اور دنیا میں تمام انسانوں کو مساوات بھائی چارہ اور اخوت کا درس دیا خطبہ حجۃ الوداع کی دفعات کو اگر غور سے پڑھا جائے تو یہ عالمی امن منشور کا ایک بڑا قانون ہے جس میں نہ کسی عربی کو عجمی پر فوقیت ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر فوقیت ہے اور نہ کسی کو کسی کی عزت اچھالنے کی اجازت ہے جب ہم سارے لوگ بحیثیت ایک مسلمان قوم کے معاشرے میں خیر خواہی امن پسندی بھائی چارے اور مساوات کو لے کر چلیں گے تو ہمارا معاشرہ جنت کا نمونہ پیش کرنے لگے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھائی بھائی نہ بن جائیں حویلی والو آئو محبت باتیں بانٹیں اور نفرتیں دفن کریں دین اسلام کے اصولوں کو اپنائیں اپنے اپنے مقدر بھی آزمائیں اللہ تعالی نے تو اس دنیا کو بھی ہمارے لئے نعمتوں کا انبار لگاکر بہشت بنا دیا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم ناشکرے اور ناقدرے ہیں نابلد ہیں دین سے دوری ہے۔
دنیا بھی ایک بہشت ہے اللہ رہے کرم کن نعمتوں کو حکم دیا ہے جواز کا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں