Syed Faisal Ali
آزادآدمی/سید فیصل علی

بنت حوا ابن آدم سے آزادی چاہتی ہے

عالمی یوم۔خواتین پر گذشتہ سال کے بعد رواں برس بھی عورتوں کے حقوق کے لیے غیر معمولی ریلیاں دیکھنے کو ملیں -ان سبھی ریلیوں کی دلچسب بات وہاں بھیڑ میں موجود خواتین نما غیرانسانی ڈھانچوں کے ہاتھوں میں کچھ پوسٹرز تھے جن پر عورتوں کے اجتماعی حقوق یا مطالبات کے علاوہ ذاتی مطالبات درج تھے -اس ضمن میں گزشتہ ہفتہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر خوب بحث رہی -خواتین کے اصل حقوق کی علمدار کمیونٹی نے ان غیر اخلاقی پوسٹرز کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا- وہیں فاشسٹ یا انتہا پسند خواتین ان نعروں کو عورتوں کا بنیادی حق ماننے اور منوانے پر بضد رہیں اور خوب بحث رہی ۔

یوں تو سال بھر خواتین کے حقوق کے لیے مخلتف پلیٹ فارمز سے آواز اٹھائی جاتی ہے مگر 8 مارچ وہ دن ہے جب بین الاقوامی طور پر یہ دن خواتین کے حقوق کے تحفظ ان کے برابر شہریوں جیسے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے باضابطہ طور پر منایا جاتا ہے پاکستان میں معاملہ ذرا مختلف ہے یہاں گذ شتہ دو برسوں سے 8 مارچ کو اک نامعلوم بھیڑ جو خود کو فیمنسٹ کہلواتی ہے یہ فاشسٹ عورتوں کی بھیڑ کہیں نہ کہیں سے برآمد ہوتی ہے اورملک کے بڑے شہروں کے پریس کلبوں اور مختلف عوامی مقامات پر ذاتی نعروں سے لبریز پوسٹرز لیےwe want equql rights کے نعرے لگاتی نظر آتی ہے-

سوال یہ ہے کہ مجموعی طور پرخواتین کے حقوق کےنام پر ان کی باعزت سماجی حثییت پر ڈاکہ ڈالنے والی یہ فاشسٹ بھیڑ کون ہے؟ یہ کیا چاہتی ہیں؟ عورت مارچ کے نام پر حقوق نسواں کی آڑ میں اپنےمخصوص مطالبات پیش کرنے والی یہ بغیرپروں کے تتلیاں اپنے گھر وں کا غصہ اتارنے مختلف نعروں کا استعمال کر ر ہی ہیں- آپ خود وہ پوسٹرز پڑھ کر دیکھیے بھلا ان میں کہاں لکھا ہے کہ برابری کے حقوق دو ۔۔۔۔۔ ان میں تو مزے ڈھونڈنے ۔۔کھانا خود پکانے کا لکھا ہے اور ۔بستر گرم کرنے کی بات کی گی ہے – یعنی کہیں نا نہیں معلوم پڑتا ہے کہ عورتوں کا یہ ٹولہ مرد حضرات سے جنسی آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے-

حقوق کے معاملے پر کاروباری دنیا سے لے کر سماج کی کم ترین متحرک سطح تک خواتین پہلے ہی سبقت لے رہی ہیں- البتہ دور افتادہ علاقوں میں جہاں رابطے کا موثر نظام۔موجود نہیں وہاں عورت آج بھی ستم کا شکار ہے مگر اس کی آواز بننے والا کوئی نہیں- المیہ یہ ہے کہ یہ فاشسٹ خواتین کایہ ٹولہ صرف چند بڑے شہروں تک ہی محدود ہے اور ان۔کے لکھے نعروں سے خوب معلوم پڑتا ہے کہ انہیں خواتین کے حقوق کے بجائے کچھ ذاتی دیرینہ مطالبات ہیں جن کا یہ حل چاہتی ہیں۔۔۔ اس کی سب سے بڑی مثال حالیہ عورت مارچ کی ہے جسے سنجیدہ خواتین کے سنجیدہ حلقوں کی جانب سے خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ در اصل معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے لیے حقیقی طور پر کام کرنے والی خواتین کا دائرہ کار بھی بڑے چھوٹے شہروں اور چند قصبوں تک محدود ہے –

گاؤں کی سطح پر خواتین تا حال زبردستی اور استحصال کا شکار ہیں -گھر کے چھے افراد میں باپ کی عزت بچانے یا اس پر حرف نہ آنے کی ذمہ داری لڑکیوں پر ہی عائد کی جاتی ہے لڑکے یا مرد جو کچھ کرتے پھریں اس سے نہ تو گھر کی عزت پر حرف آتا ہے نہ ماں باپ کا مان ٹوٹتا ہے۔۔ اور نہ ہی یہ سننے کو ملتا ہے کہ اسی دن کے لیے پال پوس کر تجھے جوان۔کیا تھا ہمارا المیہ یہ ہے ہمیں اپنے گھر سے لے کر معاشرے تک عورت سے رکھا گیا غیر منصفانہ سلوک نظر نہیں آتا ہم نے سماج میں یا اپنے گھر میں معاملات مخصوص کر رکھے ہیں بلکہ ہم کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کو اس کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم کر دیتے ہیں لیکن اپنی انا کی حدود ہمیں اس کا بنیادی حق اسے دینے تو کیا اس بارے سوچنے سے بھی باز رکھتی ہے -لڑکیوں کے معاملے میں سخت رویہ ہمارا خاصہ ہے –

ان پرقد غن ہمارا پسندیدہ مشغلہ اوراپنی عزت بڑھانے کا بہترین فارمولا ہے -آپ یونہی ہی دیکھیے ہمارے ہاں عورت کی زندگی کا اہم ترین معاملہ جو مرد کا بھی ہے لیکن عورت اس معاملہ میں۔زیادہ حساس ہوتی ہے – جس میں اسے خانہ آبادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے -اس معاملے میں بیشتر من مانی کی جاتی ہے- اس سے پوچھا تک نہیں جاتا کہ وہ کیا چاہتی ہے ؟ پوچھا بھی کیسے جائے- جب ہم آپ نے ازل سے اس کے ذہن میں اک بات بٹھا دی ہے کہ ماں باپ کے آگے بولنا نہیں۔زبان نہیں چلانی- ناجائز تو الگ جائز بات پر بھی اسے بے شرمی اور اخلاقیات سے عاری کہ کراس کی زباں وہیں بند کر دی جاتی ہے-

سسرال میں عورت کے لیے الگ عذاب ساس کی صورت میں پہلے سے تیار کھڑا ہوتا ہے -جہاں برتن رکھنے کےسلیقے سے لے کر جھاڑو پوچنے تک لڑکی کے ماں باپ کی تربیت پر انگلی اٹھانے کا بہانہ ساس اماں ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں۔۔اب یہ بیگانے گھر میں اپنے شوہر سے ہی گلا کرتی ہے- شوہر اس کے حق میں بولتا ہے تو اسے زن مرید کے طعنے ۔۔لو یہ تو لڑکی کا ہو کر رہ گیا ۔۔۔؟جیسے محاورے جملے سننے کو ملتے ہیں ۔ ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ گھرمیں نئے شادی شدہ جوڑے سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں کہ بیٹا شادی کے بعد بیوی کی ایک نہیں سنے گا اور بہو ساس کی بات سے دوسری نہیں کرے گی -اب اس سب میں رشتوں کا توازن کیسے برقرار رہ سکتا ہے –

جو ایک گھر کے لیے اپنا گھر بارچھوڑ آئی- جو اس مرد کی اب ذمہ داری ہے جس کے ساتھ تین بول بول کر وہ عمر بھر کے لیے منسلک ہو گی- کیا ضروری نہیں کہ اسے اس کا بنیادی حق دیا جائے -اس کو سنا اور سمجھا جائے لیکن نہیں . اس سب پر بات کرنے کے لیے کوئی سماجی کارکن سامنے نہیں آتا -کسی طبقے میں ان حساس گھریلو معاملات پر بات نہیں کی جاتی نہ ان مسائل کے سدباب کی راہ زیر غورلائی جاتی ہے – بھلا جب آپ ایک انسان سے اس کے جینے کا بنیادی حق چھینتے ہیں تو سماج میں بگاڑ تو پیدا ہو گا ہی یہ وہ معاشرتی مسائل ہیں جن پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ۔ در اصل ہم سب خاصا دوہرا میعار رکھتے ہیں- ہم نے صنف نازک کو تقسیم کر رکھا ہے- ہم عورت اسے سمجھتے ہیں جو ہماری پہنچ سے باہر ہوا کرتی ہے البتہ لڑکیوں یا دوشیزاؤں کے لیے ہم اپنا پلہ نرم رکھتے ہیں اور ہم انہیں عورت ہر گز نہیں سمجھتے وہ ہمارے لیے فن و تفریح کا سبب ہوا کرتی ہیں-

اب بات تفریح کی ہے تو یقینی طور پر ٹی وی سے لے کر فلم۔انڈسٹری تک بڑی کمپنیز کی مارکیٹنگ مینیجرز سے لے کر پی آراوز تک تمام تر تفریح کا سبب یہی صنف نازک ہی بنتی ہے یا اسے بنایا جاتا ہے -آپ کسی انٹرویو کے لیے جائیں سوالات وجوابات کے سلسلے میں زیادہ وقت کس کو ملتا؟ آپ خود جان لیں گے- ایک بار تو یوں ہوا کہ ہم ایک جگہ چلے گئے- انٹرویو ہوا خواتین کی بھی کثیر تعداد تھی- سولاتو جوابات کے تبادلے بعد جب نکل پڑا تو کسی نے چپکے سے کہا ۔۔۔۔ بھیا سرجری کروا کے آ جاؤ نوکری پکی ہے ورنہ نا ہی سمجھو ۔ ۔ ۔ ۔کسی بھی انڈسٹری کو بہترین نتائج چاہییں ہوتے ہیں اس واسطے خواتین بہترین ایندھن کے طور استعمال ہوتی ہیں -اس کے بعد بھی ان سے جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ بھی قابل ذکر ہے۔

اک طرف متضاد جنس ہونے کے باعث عورتیں خوب توجہ حاصل کرتی ہیں تو وہیں انہیں استحصال یا ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اک بڑا قضیہ ہے در اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم نے عورت کو عورت ماننے کے اپنے اپنے زاویے تیار کررکھے ہیں جو اس ترازو میں پورا اترتی ہے -اس کے لیے خاص رویہ اپنایا جاتا ہے۔ ہم نے بنت حوا کو عمر کے حساب سے مختلف درجوں مِیں تقسیم کر رکھا ہے۔۔اور جس عورت کی عزت کرنے کا کہا جاتا ہے اسے ہم آخری درجے دیتے ہیں ( عمر کے حساب سے) باقی ہم۔سب کی تشنگی بصار ت پورا کرنے والی مورتیاں ہوتی ہیں ۔اس سارے قضیے کے بعد اتنا کہوں گا کہ عورت سماج میں مردوں کی جگہ نہیں لے سکتی اور مرد عورت کی جگہ نہیں لے سکتا-

بلا شک آپ حلیہ تبدیل کیجیے یا کچھ بھی کر لیں۔۔۔ یہ جو نامعلوم بھیڑ تحفظ نسواں کے نام پر سنجیدہ عورتوں کے لیے باعث ندامت بنتی ہے- یہ دو جنسوں کا ٹکراؤ چاہتی ہیں یہ فطرتی اور سائنسی تقاضوں کے متضاد نظامچاہتی ہیں- یہ زندگی کی گاڑی کو حادثہ کی نظر کرنا چاہتی ہیں – ان خواتین کے خلاف ہراسمنٹ کے کیسسز ہونے چاہیے- سماج میں بگاڑ اور ہنگامہ آرائی چاہنے والی یہ بھیڑ اپنے ذاتی مطالبات کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرے- البتہ پوسٹرز کی صورت میں باقی عورتوں کے لیے شرمندگی کا سبب نہ بنیں -کیونکہ ان فاشسٹ یا انتہاپسند عورتوں کی ریلیوں اور نعروں سے عام اور کم علم آدمی یہی سمجھ بیٹھا ہے کہ بنت حوا ابن آدم سے آزادی چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں