new zee land women views abot new zaeland ancident

کرائسٹ چرچ کی رہائشی خاتون ’جِل‘ نے بہادری اور ہمدردی کی ایک ایسی شاندار مثال قائم کر دی

کرائسٹ چرچ (مانیٹنگ ڈسیک ) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 40 افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 افراد کو حراست میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اس حملے کے بعد کرائسٹ چرچ سمیت نیوزی لینڈ کے عوام صدمے میں ہیں اور متاثرین کیساتھ ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں لیکن ایسے میں کرائسٹ چرچ کی رہائشی خاتون ’جِل‘ نے بہادری اور ہمدردی کی ایک ایسی شاندار مثال قائم کر دی کہ پوری دنیا داد دینے پر مجبور ہوگئی ہے۔

مذکورہ خاتون نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ایک شخص نے تین زخمیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال لے گیا۔ ایک شخص کو میں نے چھپا لیا جو اپنی اہلیہ کو فون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ سڑک کی دوسری جانب میں ایک اور شخص کو دیکھ سکتی تھی جو بہت بری حالت میں تھا مگر میں اس نے پاس نہیں جا سکتی تھی کیونکہ وہی وہ جگہ تھی جہاں سے فائرنگ ہو رہی تھی۔

جس شخص کو میں نے چھپایا اور گولی لگنے کی جگہ پر دباؤ ڈال رکھا تھا، وہ اپنی اہلیہ کو فون کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور پھر میں نے کسی طریقے سے اس کا فون سن لیا اور بتایا کہ تمہارے شوہر کو مسجد کے باہر گولی لگی ہے۔ تم ’ڈینز ایونیو‘ مت آنا، تم یہاں نہیں پہنچ سکو گی مگر برائے مہربانی تم ہسپتال چلی جاؤ اور اپنے شوہر کے وہاں پہنچنے کا انتظار کرو۔
نیوزی لینڈ کے رگبی پلیئر نے مسجد پر دہش تگردوں‌کے حملے کے بعد اسلام قبول کر لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں