Public of New Zealand With Muslims

نیوزی لینڈ کے شہری حملے کے بعد مسلم کمیونٹی کیساتھ کھڑے ہو گئے

نیوزی لینڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران سفید فام انہتا پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 49 ہو گئی جبکہ شہدا کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حملہ آور نے کارروائی سے قبل ٹویٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا کہ یہ کارروائی مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے کی گئی ہے۔نیوزی لینڈ میں مساجد پر ہونے والے اس حملے پر دنیا بھر کے ممالک اور رہنمائوں نے اظہار مذمت کیا ہے۔

جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ پر اظہار مذمت کرتے ہوئے صارفین نے امن کا پیغام دیا۔ حملہ آور نے کارروائی کی ویڈیو فیس بُک پر لائیو نشر بھی کی جسے فیس بُک نے ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔سوشل میڈیا پر حملہ آور کی یہ ویڈیو اب بھی کئی جگہ شئیر کی جا رہی ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کو مزید وائرل نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے نیوزی لینڈ میں ہونے والی اس دہشتگردی کی کارروائی پر اظہار مذمت کیا اور کہا کہ جو بھی نیوزی لینڈ میں ہوا وہ تشدد کی بد ترین مثال ہے جس کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگ تارکین وطن کی کمیونٹی کا حصہ ہیں۔

نیوزی لیںڈ ان کا اپنا وطن ہے۔ وہ بھی ہماری طرح کے ہی لوگ ہیں۔اس حملے کے بعد مسلمان کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا جس کو دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر TheyAreUs# کا ہیش ٹیگ متعارف کروایا گیا جو کچھ ہی دیر میں کافی مقبول ہونے لگا۔سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے مسلمانوں پر ہونے والے اس حملے کے بعد ان سے اظہار یکجہتی کیا اور اس ہش ٹیگ کے استعمال سے انہیں اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا۔ ایک خاتون صارف نے امن کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کی مدد کرنی چاہئیے اور ان کو حوصلہ دینا چاہئیے –

کیونکہ انہیں اس وقت اس کی بہت ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔یہ صرف ہمارا نہیں بلکہ ہم دونوں کا ملک ہے۔ایک خاتون صارف نے کہا کہ یہاں آپ کی ضرورت ہے، آپ سب نیوزی لینڈ کا حصہ ہیں۔ یہ آپ کا گھر ہے۔ جو ہوا میں اُس کے لیے معافی چاہتی ہوں۔ایک اور خاتون صارف نے کہا کہ چاہے آپ کا کوئی بھی عقیدہ ہو، چاہے آپ کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہوں، ہم آپ کو نیوزی لینڈ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔چند لوگوں کے رویے کی وجہ سے خود کو کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں۔
کرائسٹ چرچ کی رہائشی خاتون ’جِل‘ نے بہادری اور ہمدردی کی ایک ایسی شاندار مثال قائم کر دی

اپنا تبصرہ بھیجیں