Turk President Views about New Zealand Incident

ترک صدر کا نیوزی لینڈ حملے پرشدید ردعمل سامنے آ گیا

استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک ) آج نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں 55 نمازی شہید ہو گئے۔پاکستان سمیت کئی ممالک نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ترک صدر طیب اردگان نے بھی نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔صدر طیب اردگان نے افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میں اپنے ملک کی طرف سے پوری مسلم امہ اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے سے متاثرہ لوگوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔

ترک صدر نے اسے اسلام فوبیا کا نتیجہ قرار دے دیا۔ خیال رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 55افرادجاں بحق اور60سے زائد زخمی ہوگئے ، ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ۔تین منٹ تک مسجد میںفائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا،جہاں اس نے گاڑیوں پر بھیفائرنگ شروع کر دی۔حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا،جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا۔

فائرنگ کی اطلاع ملتے ہیپولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔ جبکہ نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں

نیوزی لینڈ کے شہری حملے کے بعد مسلم کمیونٹی کیساتھ کھڑے ہو گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں