New Zealand Christ church Important News

نیوزی لینڈ مسجد پر حملہ کرنے والوں‌کے بارے میں اہم انکشافات

کرائسٹ چرچ (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران سفید فام انہتا پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہو گئی ہے۔ حملے سے متعلق نیوزی لینڈ پولیس کے کمشنر مائیک بش نے کہا ہے کہ 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر سفید فام انتہا پسندوں نے حملہ کیا۔

حملہ آور نے حملے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب پر بھی لائیو نشر کی اور ساتھ لکھا کہ آؤ پارٹی شروع کرتے ہیں ۔ 17 منٹ کی اس ویڈیو میں 28 سالہ آسٹریلوی حملہ آور کو فوج کی وردی پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں حملہ آور کا چہرہ بھی واضح ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک حملہ آور کے ہیلمٹ پر کیمرہ نصب تھا جس کے ذریعے وہ قتل و غارت گری کی ویڈیو براہ راست سوشل میڈیا پر نشر کررہا تھا۔
حملہ آور کی ویڈیو دیکھیں

اس ویڈیو میں حملہ آور کو مسجد میں موجود ایک سو سے زائد نہتے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس حملے سے متعلق بات کرتے ہوئے عینی شاہدین نے کہا کہ ہمیں ایسا تاثر ملا کہ شاید بجلی کا کوئی بڑا دھماکہ ہو رہا ہے لیکن کچھ ہی لمحوں میں صورتحال واضح ہوئی تو علم ہوا کہ مشین گن کے ساتھ ایک شخص مسجد کے اندر داخل ہو گیا ہے اور اندھا دھند فائرنگ کر رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر شہریوں کو مسجد سے دور رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ نیوزی لینڈ کی دیگر مساجد کو بھی خالی کروالیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں

بھارت کا وہ گاؤں جہاں کے مکین جوتے پہننا گناہ سمجھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں