اظہار خیال /فیصل بشیر کشمیری

یہ کل ہی کی تو بات ہے

● یہ کل ہی کی تو بات ہے جب خوشیاں تو سانجھی ہوا ہی کرتی تھیں لیکن ہم سب کے غم بھی ایک ہوتے تھے۔کسی گھر میں فوتگی ہو جائے تو محلے میں سوگ تو ہوتا ہی تھا، لیکن سات گاؤں بھی غمگین ہو جاتے تھے۔ ماتم والے گھر چار دن تک کھانا پکانا گناہ سمجھا جاتا تھا۔لیکن آج جس گھر میں موت ہو جائے اسی گھر میں کھانوں کی دیگیں نہ پک رہی ہوں تو میت کے وارث اور پورے گاؤں والوں کو بد اخلاق، بے لحاظ اور جاہل و گناہ گار سمجھا جاتا ہے۔۔

● یہ کل ہی کی تو بات ہے!۔
ہم اگر شرارت یا کوئی غلط حرکت کرتے تو پورے گاؤں، محلے یا کسی بھی اجنبی بزرگ کو دیکھ کر ایسے ڈر جاتے تھے جیسے کوئی باپ، دادا یا بڑے بھائی سے ڈرتا یا ان کا عزت و احترام کرتا ہے۔ غلط کام کرنے والے بچے کو بلا جھجھک ڈانٹ ڈپٹ اور تھپڑ رسید کرنے کا اختیار سب بزرگوں کو ہوتا تھا۔

ایک بار سکول سے واپسی پہ کسی شرارت کیوجہ سے ہمارے محلے کے ایک قابل احترام بزرگ نے راقم کو تھپڑ مار دیا تو گھر آ کر اُن کے خلاف بات کرنے اور اپنی صفائی پیش کرنے کی خوشی میں والد صاحب کی طرف سے بھی ایک عدد تھپڑ تحفے میں ملا۔ لیکن آج؟
آج نہ وہ بزرگ رہے، نہ ویسے بچے پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ حیا، احترام و شرم باقی ہے۔

● کل ہی کی تو بات ہے!۔
جب ہمارے کھیلوں کے میدان آباد ہوا کرتے تھے، ہر گلی و محلے میں بالغ و نا بالغ بچوں کی اپنی کرکٹ، والی بال، ہاکی و فٹبال ٹیم ہوا کرتی تھی، فلاں جگہ ٹورنامنٹ ہے، فلاں اچھا والی بال کھیلتا ہے، فلاں اچھا باؤلر ہے۔ حتی کہ کچّے مکانوں کی چھتوں پر یہ کھیل اس لئے کھیلے جاتے تھے کہ ایسے عمل سے مکان کی چھت مضبوط ہوتی ہے اور اس میں بارش کا پانی نہیں جاتا۔آج گراونڈ ویران، نہ وہ مکان رہے، نہ وہ چھتیں، نہ ویسے بچے اور نہ وہ مائیں اور نہ ہی وہ کھلاڑی۔چھوٹے سے بڑے تک جسے دیکھو موبائل پہ کینڈی کریش، فٹبال، ٹیبل ٹینس اور کار ریس کھیلنے یا وٹس ایپ، فیسبک اور ٹیکسٹ میسجز میں میں مصروف ہو گا۔
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری۔

● یہ کل ہی کی تو بات ہے!۔
سکول میں سرمائی چھٹیوں کے دوران اپنے رشتہ داروں کے ہاں ایسے دن گزارنے جایا کرتے تھے جیسے کوئی نئی نویلی دلہن میکے دن گزارنے جاوئے۔ننھیال سے مراد صرف نانی نانا کا گھر نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کے پڑوس میں بسنے والے ہر فرد، کنبہ اور قبیلہ والوں کے نزدیک بیٹی یا بہن کی اولاد کو اپنا سمجھ کر عزت دی جاتی تھی اور اولاد بھی ایسی جو نانی نانا کہ گھر کے بجائے ان کے پڑوسیوں کو زیادہ اہمیت دیا کرتے تھے۔آج رشتہ دار تو ہیں لیکن رشتہ داروں اور مہمان کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
“اللہ جانے تم بدلے یا مجھ میں جذبات نہیں”

● یہ کل کی ہی تو بات ہے۔!
غربت تو تھی لیکن خلوص اور پیار اتنا ہوتا تھا کہ ایک بار راقم نے اپنا بازو ٹور دیا تو چچا اور امی منجھاڑی والے چوہدری فتح محمد مرحوم ( اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے (المعروف پھتا چاچا) کے پاس لے گئے۔

ان کا سب سے چھوٹا بیٹا میر محمد (میرو) سکول سے واپس گھر پہنچا۔ ٹوٹا بازو جوڑنے کےلئے لکڑی کے ٹکڑے چاہئے تھے اور لکڑی نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے میرو بھائی کی تختی توڑ کر میرے بازو کی پٹیاں باندھیں۔ آج نہ وہ دیسی علاج معالجہ کرنے والے رہے اور نہ ہی وہ تختی۔ ہاں بچوں کے بستے کافی وزنی ہو چکے ہیں۔

●یہ کل ہی کی تو بات ہے!۔
جب کوئی پردیسی پردیس کو جاتا تھا تو پورا محلہ اسے الودع کرنے صبح سویرے اس کے گھر پہنچ جاتا تھا۔بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں سب دو دن پہلے پہنچ جاتی تھیں اور جب کوئی واپس جاتا تھا تو ملنے والے پہلے پہنچے ہوتے تھے۔مجھے اپنے پڑوس میں بسنے والی وہ ماں کبھی بھی نہیں بھول سکتی جو بھینس کی کیڑ (تازہ دودھ) چھ ماہ تک رکھے ہوئے تھی کہ میرا فیصل آئے گا اور اسے بھولی کاڑھ کر دوں گی۔
لیکن آج
“صرف اک حادثے سے گر گیا ہوں سیدھا زمیں پر
میں سب کا چشم و چراغ تھا یہ کل ہی کی بات ہے۔”

●یہ کل ہی کی تو بات ہے!۔
محلے میں شادی بیاہ ہوتا تو “فلاں کے گھر سے بڑی دیگ لے آؤ، فلاں کے پاس بڑا ترپال ہے، فلاں کے پاس لکڑی کی پیلی نوار والی کرسیاں ہیں۔ فلاں کے گھر میں سلور کی پوری دو درجن تھالیاں ہیں۔

سامان اگھٹا ہو گیا تو بلا دعوت اپنا فرض سمجھ کر شادی والے گھر لکڑیاں بنانے پہنچ جاؤ۔”
دیگیں پکانے کے لئے شاہ میر چچا، سیدا چچا اور حنیف چچا خود پہنچ جاتے اور کھانا پکائی کی قیمت لینا توہین سمجھتے تھے، البتہ دلہا دلہن کے ورثا منتیں کر کے جیب میں کچھ روپے ڈال دیا کرتے تھے۔

عام برادری کےلئے صرف گوشت چاول اور مہمانوں کےلئے باقی کھانے کے ساتھ “چکن پیس” بھی بنایا جاتا تھا۔آج نہ وہ کھانا پکانے والے رہے، نہ گھروں کو رنگ روغن کرنے والیاں اور نہ وہ لکڑیاں بنانے والےجو رواج چل رہے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے۔۔

داستانیں اتنی زیادہ ہیں کہ نئی نسل پڑھ یا سن کر صرف مسکرا سکتی ہے اور آپ دوست و احباب بھی سوچتے ہوں گے کہ دنیا ترقی کر رہی ہے اور ہم بھی ماڈرن بننے یا برابری کی دوڑ میں ان کے ساتھ بھاگ رہے ہیں اور یہ بڈھا پرانی کہانیاں لے کر بیٹھا ہوا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ سب کچھ کوئی ترقی نہیں بلکہ ہمارے اخلاق، تہذیب، کلچر اور ثقافت کا زوال یا تزلی ہے۔!۔

بقول جگر مراد آبادی۔

اس کائنات میں اے جگر کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کہ بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں