دنیا بھر میں اسلحے کی پیداوار، خریدو فروخت بارے تفصیلات سٹیٹ ویوز سامنے لے آیا

اسلام آباد: سٹیٹ ویوز
رپورٹ :سید خرم گردیزی

ہر سال دنیا بھر میں کھربوں ڈالرز مالیت کے اسلحہ تیار کر کے ایک ملک سے دوسرے ممالک میں ترسیل کی جاتی ہےاسی لیے ترقی یافتہ ممالک اس انڈسٹری پر بہت توجہ دے رہے ہیں۔ کسی بھی صورت میں اسلحہ کی منتقلی خواہ وہ فروخت کیا جائے، تحفے کے طور پر دیا جائے ، امداد کے طور پر دیا جائے یا کسی دوسرے ملک کو کوئی مخصوص قسم کا اسلحہ خود بنانے کا لائسنس دینا یہ سب اسلحہ کی منتقلی کی تعریف میں ہی آتے ہیں۔

خفیہ معاہدے
مختلف عوامل کی وجہ سے سالانہ بنیادوں پر اسلحہ کی پیداوار، خرید و فروخت یا منتقلی سے متعلق تمام معلومات کبھی بھی سامنے نہیں لائی جاتیں۔ ان میں تمام معاہدوں کا منظرِ عام پر نہ آنا اور مختلف اسلحہ ساز کمپنیوں کے مابین اسلحہ سازی سے متعلق خفیہ معاہدے شامل ہوتے ہیں۔

اسلحہ منتقلی کی رپورٹ مرتب کرنیوالے ادارے
دنیا میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مختلف طریقوں سے ہر سال اسلحہ کی منتقلی کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس پر اپنی رپورٹس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہر ادارے کا اپنا مخصوص طریقہ کار ہے جس سے وہ اسلحہ کی منتقلی سے متعلق مختلف پہلو ؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹس تیار کرتے ہیں۔سٹیٹ ویوز کو حاصل معلومات کے مطابق ان اداروں میں اقوامِ متحدہ کا انٹرنیشنل سمال آرمز کنٹرول اسٹینڈرڈ، یو این آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز (انسانوں کےقتلِ عام سے متعلق معلومات جمع کرنا)، یو این ایمپلی منٹیشن سپورٹ سسٹم، یو این انسٹیٹیوٹ آف ڈس آرمامنٹ ریسرچ اینڈ سمال آرمز سروے، یو این رجسٹر آف کنونشنل آرمز، سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (اسلحہ کی منتقلی کا ریکارڈ مرتب کرتا ہے)، نارویجئین انیٹی ایٹو آن سمال آرمز ٹرانسفر ، گن پالیسی ڈاٹ آرگ اور یو این پینل آف ایکسپرٹس رپورٹس وغیرہ شامل ہیں۔

اسلحہ کی فہرست جمع نہ کرانے والے ممالک
اس کے علاوہ اقوام ِ متحدہ بھی ہر سال اپنے تمام ممبر ممالک سے رضاکارانہ طور پر اسلحہ کی درآمد و برآمد اور بڑے ہتھیاروں کی خریدو فروخت سے متعلق تفصیلات کو اقوام ِ متحدہ کے رجسٹر براۓ روایاتی ہتھیار میں رپورٹ کرنے کی درخواست بھی کرتا ہے۔ لیکن سٹاک ہوم کے ایک تھینک ٹینک سیپری نے اپنی 2017 کی سالانہ بک میں کہا ہے کہ ”پوری دنیا سے صرف 25 فیصد ممالک نے ہی یہ رپورٹس جمع کروائی ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور افریکی ممالک کے تعاون کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے”۔

غیر رجسٹرڈ ہتھیار
ان اداروں کی شائع کردہ رپورٹس میں زیادہ تر بڑے روایتی ہتھیاروں جیسا کہ، ” میزائلز، ریڈار سسٹمز، آرٹلری، جنگی ہوائی و بحری جہاز اور بکتر بند گاڑیوں کی خرید و فروخت اور منتقلی سے متعلق مواد ہی شائع کیا جاتا ہے۔ جبکہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں، ملٹری کی گاڑیوں، ہلکہ بارود، ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن سسٹمز اور دیگر تمام سروسز ان رپورٹس کا حصہ نہیں ہوتی۔

2014 سے 2018 تک اسلحہ کی بین الاقوامی تجارت
اب ذرا 18-2014 کے دوران اسلحہ کی بین الاقوامی تجارت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔سٹیٹ ویوز کی تحقیقات کے مطابق سیپری نے 11 مارچ کو اسلحہ کی بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں 18-2014 کے دوران گذشتہ پانچ سالوں کی نسبت پوری دنیا میں اسلحہ کی خریدو فروخت میں تقریبا” سات اشارعیہ آٹھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ (سیپری یا سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ 1950 سے لے کر آج تک دنیا بھر میں کسی بھی شکل میں بڑے اسلحے کی ایک ریاست سے دوسری ریاست، تنظیموں یا غیر سرکاری مسلح گروپس کو اسلحہ کی منتقلی سے متعلق تمام معلومات کو جمع کرکہ ہر سال اپنی رپورٹ بڑے فورمز پر پیش کرتا ہے) سیپری کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں یعنی 18-2014 کے دوران اسلحے کے پانچ بڑے فروختکاروں میں بالترتیب امریکہ، روس، فرانس، جرمنی اور چین شامل ہیں۔ ان پانچوں ممالک کا مجموعی منتقلی کا حجم ان سالوں کے دوران 75 فیصد رہا۔ اس کے علاوہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران ان ممالک سے زیادہ تر اسلحہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو برآمد کیا گیا جبکہ دنیا کے باقی ممالک میں اس کا رجحان قدرے کم رہا۔

سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک
سیپری کے ہی ایک ڈائریکٹر ڈاکڑ سوڈ فلورنٹ کے مطابق، “امریکہ نے ان پانچ سالوں کے دوران دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ کے فروختکار کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی ہے”۔ جبکہ اس کے مقابلے میں روس کے تجارتی حجم میں انڈیا اور ونزویلا سے تجارتی معائدوں میں کمی آنے کے باعث بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تیسرے نمبر پر فرانس نے 43 فیصد جبکہ جرمنی نے اپنے تجارتی حجم میں 13 فیصد اضافہ کیا۔ چین نے اپنے اسلحہ کی فروخت میں گذشتہ پانچ سالوں کی نسبت 195 فیصد اضافہ کیا اور اس کی وجہ سے اب وہ دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر اسلحہ کا فروختکار بن چکا ہے۔ ان پانچوں کے بعد اسرائیل، ترکی اور جنوبی کوریا نے بھی اسلحہ کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔

جنوبی ایشیا اور اسلحے کی درآمد و برآمد
جبونی ایشیا دنیا کے خطرناک ترین خطوں میں سے ایک ہے، کیونکہ اس خطے کے دو ایٹمی ملک پاکستان اور بھارت ہمشہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے رہتے ہیں جبکہ تیسرے ایٹمی ملک چین اور بھارت کے تعلقات بھی کشیدہ رہے ہیں۔اس صورتحال میں اسلحے کی درآمد نہ صرف اس خطےمیں پہلے سے موجود مسائل کو مزید گھمبیر کر رہی ہے بلکہ خطے میں مزید کشیدگی کی راہیں بھی کھول رہی ہے اور دنیا بھر کو اس خطے میں ایٹمی جنگ سے شدید خطرہ لاحق ہے۔

پاکستان اور بھارت میں اسلحہ کی خرید و فروخت
دونوں ملکوں کے ایٹمی تجربات کے بعد عالمی فورمز کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے باوجود انڈیا اور پاکستان دونوں ہی بڑے پیمانے پر اسلحہ خرید رہے ہیں۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک اسلحہ کے سب سے بڑے فروختکار ممالک امریکہ، روس، فرانس، جرمنی اور چین سے ہی خرید رہے ہیں۔ جبکہ اپنے خاص تعلقات کے پیشِ نظر انڈیا اسرائیل سے بھی اسلحہ یا تو خرید رہا ہے یا بطورِ تحفہ وصول کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا اور پاکستان نہ صرف بھاری پیمانے پر اسلحہ برآمد کر رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک دیگر کئی ممالک کو اپنا اسلحہ فروخت بھی کر رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں انڈیا نے تقریبا” 6۔5 بلین ڈالرز کا جبکہ پاکستان نے 3۔0 بلین ڈالرز کا اسلحہ دیگر ممالک کو فروخت کیا ہے۔

بھارت دنیا بھر میں اسلحے کے خریداروں میں بھارت کا نمبر
سیپری کے ہی ایک محقق سائمن ٹی وزیمن کے مطابق، انڈیا نے 18-2014 میں بین الاقوامی اسلحہ فروختکاروں سے بڑے اسلحے کے حصول کے لیے کئی بڑے آرڈرزدے رکھے تھے۔ جن میں سے چند آرڈرز کچھ وجوہات کی بنا پرابھی تک وصول نہیں کیے جا سکے۔ اس کے برعکس چین نے جدید اسلحہ سازی کی ڈیزائیننگ اور پیداوار کی انڈسٹری بہت مضبوط کر لی ہے جس کی وجہ سے اس کا اسلحے کا درآمدی حجم بہت کم ہو چکا ہے۔ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ 18-2014 کے دوران انڈیا کی دنیا بھر سے اسلحے کی خریداری میں 5۔9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دہائی کے دوران انڈیا دنیا کے پہلے پانچ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک سیپری کی رپورٹ” ٹرینڈزان انڑنیشنل آرمز ٹرانسفرز 2018″ کے مطابق انڈیا نے اپنے کل برآمدی اسلحہ کا 58 فیصد روس سے حاصل کیا ہے جو گذشتہ پانچ سالوں یعنی 13-2009 میں 76 فیصد تھا۔ اس سے یہ بات بھی واضع ہوتی ہے کہ انڈیا کا روس کی طرف سے خریداری کا رجحان کم ہو رہا ہے۔کلنجنڈیل رپورٹ کے مطابق 18-2014 کے دوران انڈیا کا اسلحے کے خریداری کے حوالے سے زیادہ انحصار روس کی بجائے اسرائیل، فرانس اور امریکہ کی طرف رہا ہے جس کی مختلف سیاسی و اقتصادی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر ہی انڈیا نے اب روس سے اسلحہ کی خرید و فروخت میں کمی کر دی ہے۔پہلے بھی دنیا کے کل اسلحہ کی درآمد کا 12 فیصد حجم رکھنے والا انڈیا 17-2014 کے دوران دنیا کے پانچ بڑے ممالک سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں