وفاق کی طرف سے واٹریوزرچارجز میں اضافے سے آزادکشمیرکو متوقع فوائد کی تفصیلات سٹیٹ ویوزسامنےلےآیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، کاشف میر) حکومت پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں آزادکشمیر میں پن بجلی کے منصوبوں بارے اہم سفارشات کو حتمی شکل دیتے ہوئے انہیں کیبنٹ سے منظوری کیلئے بھیج دیا۔ منگلا ڈیم اور نیلم جہلم سمیت مختلف پن بجلی منصوبوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے واٹر یوز چارجز کی رقم 16 پیسے فی کلو واٹ سے بڑھا کر 1 روپے 10 پیسے فی کلو واٹ بڑھانے کی سفارش کی ہے جبکہ آزادکشمیر کے محکمہ برقیات کو اب حکومت آزادکشمیر کے ماتحت سیمی گورنمنٹ کمرشل ادارے (ڈسکو) کے طور پر کام لیا جائے گا۔


اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بدھ کو ہونے والے اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کی جبکہ آزادکشمیر کی نمائندگی ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈیویلپمنٹ ڈاکٹر سید آصف شاہ نے کی۔ڈاکٹر آصف شاہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر حکومت کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ بجلی کے تمام تر معاملات میں ہمیں صوبوں کی طرح ڈیل کیا جائے تا کہ واٹر یوزر چارجز، بجلی کی پیداوار و ترسیل اور لوڈشیڈنگ کے دیرینہ حل طلب معاملات سے نمٹا جا سکے۔اب سیکرٹری آبی وسائل اور واپڈا کے ساتھ ملکر جو تجاویز مرتب کی گئی ہیں ان پر عمل سے آزادکشمیر حکومت اور ریاست کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔


صحافی دانش ارشاد کے مطابق اس اجلاس میں سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو آزاد کشمیر کیلئے بجلی کے ٹیرف اور پانی کے استعمال کے چارجز پر بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران سیکرٹری آبی وسائل نے بتایا کہ بجلی کے ٹیرف اور واٹر یوز چارجز کے حوالے سے آزاد حکومت کی مشاورت سے تمام معاملات طے کر لیے گئے ہیں اور نئے انتظامات کے ذریعے آزاد کشمیر کو دیگرصوبوں کی طرح بہتر سہولیات دی جائیں گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے انتظامات کے تحت آزاد کشمیر کی اپنی بجلی کی تقسیم کار کمپنی قائم کی جائے گی اور واٹر یوزر چارجز ایک روپے دس پیسے فی کلو واٹ دیے جائیں گے۔کمیٹی نے آزاد کشمیر کے آبی وسائل کے حوالے سے سیکرٹری آبی وسائل کی سفارشات کی منظوری دی اور اب یہ سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کی جائیں گی جہاں منظوری کے بعد ان پر عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔

ڈاکٹر آصف شاہ

آزادکشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈیویلپمنٹ ڈاکٹر سید آصف شاہ نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت آزادکشمیر پچھلے اڑھائی سال سے کوشاں تھی کہ بجلی کے حل طلب معاملات میں وفاق ان کے مطالبات کو تسلیم کرے اور اب وفاق نے باوقار طریقے سے آزادکشمیر کے جائز مطالبات پورے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ منگلا ڈیم سے سالانہ تقریبا 45 کروڑ روپے واٹر یوزر چارجز کی مد میں آزاد حکومت کو ملتے تھے وہ اب تقریبا 7 ارب روپے ملیں گے اور نیلم جہلم منصوبے سے بھی واٹر یوزر چارجز کی مد میں آزادکشمیر کو تقریبا 4 ارب روپے ملیں گے اور اسی طرح وفاقی حکومت جو بھی پن بجلی منصوبہ آزادکشمیر میں لگائے گی تو اس سے واٹر یوزر چارجز 1 روپے 10 پیسے کے حساب سے آزادکشمیر کو حصہ دیا جائے گا۔سید آصف شاہ نے بتایا کہ وفاقی کیبنٹ کی منظوری کے بعد آزادکشمیر کی آمدن میں جہاں 11 ارب روپے اضافہ ہو گا وہاں اب واپڈا آزادکشمیر کو صوبوں کے برابر بجلی فروخت بھی کرے گا، اس سے قبل آزادکشمیر کو فی یونٹ بجلی تقریبا ڈھائی روپے میں دی جارہی تھی اور صوبوں کو تقریبا 8 روپے میں دی جاتی تھی، اب آزادکشمیر کو بھی بجلی صوبوں کے ریٹ پر دی جائے گی لیکن اس کا نقصان نہ حکومت کو گا اور نہ ہی عوام کو۔ ڈاکٹر آصف شاہ کے مطابق محکمہ برقیات کی جگہ ایک سیمی گورنمنٹ کمرشل ادارہ تشکیل پائے گا تو بجلی چوری اور لائن لاسز پر بھی قابو پانا ممکن ہو سکے گا اور لوگوں کو بھی بجلی کی بہتر سہولت میسر آئیں گی جبکہ بہتر بجلی کی ترسیل ، بلات کی وصولی اور بروقت ادائیگیوں کے باعث آزادکشمیر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی واضح کمی ہو گی۔


سٹیٹ ویوز کے تحقیقات کے مطابق واپڈا نےآزادکشمیر میں 969میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈل منصوبہ لگ بھگ انتیس برس قبل 1989ء میں شروع کیا تھا، چین کی تکنیکی اور مالیاتی اعانت سے دریا کا رخ موڑ کر اسے 68 کلومیڑ طویل سرنگ میں ڈال دیا گیا۔اب گزشتہ سال سے اسکی پیداوار شروع ہو چکی ہے لیکن حکومت آزادکشمیر اور واپڈا کے مابین ابھی تک نیلم جہلم منصوبے پر کوئی باقاعدہ معاہد ہ طے نہیں ہو سکا جبکہ اس پن بجلی منصوبے کی وجہ سے مظفرآباد شہر تک پانی کا بہاو ایک نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس پر سول سوسائیٹی مسلسل احتجاج کر رہی ہے ، دوسری جانب واپڈا نے 1124میگاواٹ کے کوہالہ منصوبے پر غیر اعلانیہ کام بھی شروع کر رکھا ہے لیکن اس کا معاہدہ بھی حکومت آزادکشمیر سے نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی عوامی و حکومتی مطالبات کے باوجود اس منصوبے کو ٹنل کے ذریعے بنانے کی بجائے رن آف دی ریور بنانے پر واپڈا رضامند ہوتا نظر آرہا ہے۔


آزادکشمیر سے نیلم جہلم ا ورکوہالہ کے علاوہ جاگراں ٹو 48میگا واٹ، نگدر دیواریاں 48 میگاواٹ، پٹرینڈ 148 اور7 سو میگاواٹ کا آزادپتن منصوبہ پر بھی کام ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں دودھنیال اور مال ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر بھی ابتدائی کام جاری ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے بعد نیشنل گریڈ میں پانچ سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا جہاں یہ مطالبہ رہا ہے کہ واٹر یوزر چارجز کی رقم دوسرے صوبوں کی طرح 1 روپے 10 پیسے کی جائے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارہ دیا جائے وہاں ان کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ پن بجلی منصوبوں بارے آزادکشمیر حکومت سے مشاورت اور معاہدے بھی کیے جائیں اور ان اقدامات کیلئے ان کا مطالبہ رہا ہے کہ آزادکشمیر کو انڈس ریورسسٹم (ارسا )میں بھی نمایندگی دی جائے تاکہ وہ واپڈا کے ساتھ اپنے مسائل اعلیٰ سطحی فورم پر طے کراسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں