وزیراعظم آزادکشمیرکی مقبوضہ کشمیرمیں جماعت اسلامی اورلبریشن فرنٹ پرپابندی کی شدیدمذمت

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز) وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کی طرف سے جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ پر پابندی قابل مذمت ہے حریت راہنماوں اورکشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جارہا ہے بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہوگا.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وزیر حکومت احمد رضا قادری ،حریت راہنما فیض نقشبندی بھی موجود تھے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ہرسطح پر متاثرین سیز فائر لائن کی مدد کررہی ہے ہم متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں سیز فائر لائن پر ہمارے لوگ جس جراتمندی سے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں سیز فائر لائن کے کچھ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور باقی علاقوں کے دورے کے بعد متاثرین کے مسائل حل کریں گے سیز فائر لائن کے علاقوں میں ایمبولنس سروس دی گی ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومتوں نے ہردور میں کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے کسی نے کم کسی نے زیادہ ہم پاکستانی قوم کے شکرگزار ہیں کہ اس نے ہر موقع پر کشمیریوں کا ساتھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے وزیر خارجہ سے ملاقات مفید رہی ہے ہم تمام سیاسی قیادت سے موجودہ صورتحال پر مشاورت کررہے ہیں مشاورت سے متفقہ لاہحہ عمل تیار کررہے ہیں راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ سیز فائر لائن کے متاثرین بڑے غیور ہیں وہ بھارت کے دامنے آہنی دیوار بنے کھڑے ہیں.

حریت راہنما فیض نقشبندی نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کیاقدامات پر شکر گزار ہیں بھارت کے ناپاک عزاہم کامیاب نہیں ہوں گے جماعت اسلامی اور جے کے ایل ایف پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں بھارت تحریک آزادی کو دبانے کے لیے مذموم حربے آزما رہا ہے جوکامیاب نہیں ہوں گے آزادی کی تحریک منزل کے حصول تک جاری رہے گی وزیراعظم نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور خاص کر حریت قیادت کے گھروں پر انڈین National Investigation Agenyکی جانب سے اٹھائے گئے ماورائے قانون اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔26فرور ی 2019کو بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے حریت راہنما میر واعظ عمر فاروق کے گھر کی غیر قانونی تلاشی لی۔موصوف کی فیملی کو حراساں کیا گیا اور ان کے گھر کے ذاتی استعمال کی اشیاء ضبط کر لی گئیں۔اس سے بڑھ کر یہ ذیادتی کی گئی کہ جن اشیا ء کو ضبط کیا گیا ان کی کوئی رسید جاری نہیں کی گئی۔مابعد NIAنے اپنی پریس ریلیز میں یہ بھی کیا کہ بعضSuspicious articlesضبط کیے گئے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی حریت راہنماؤں کو منگھڑت اور جھوٹے معاملات میں الجھا کر ان کی آواز کو بند کرنا چاہتی ہے ۔

وزیر اعظم آزادکشمیر نے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے یسین ملک کی سیاسی جماعت جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ پر گرشتہ روز پابندی عائد کیے جانے کی شدید مزمت کی ہے اس سے قبل بھارت کی جانب سے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اس بات کی غماز ہیکہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی عوام اور ان کی قیادت سے کس حد تک خوف ذدہ ہے پر امن سیاسی جدوجہد اقوام عالم کی جملہ جمہوری معاشروں میں Recognizedہے۔ماسوائے بھارت جو اپنے آپ کو دنیا کی بڑ ی جمہوریت کہلاتا ہے بھارتی اقدام کی شدید مزمت کرتے ہوئے اس غیر جمہوری سوچ پر آواز بلند کرتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے مزید کہا ہیکہ حریت قیاد ت کے ساتھ ناروا اور غیر انسانی سلوک کے سلسلہ میں آج ہی سیکرٹری جنرل OIC،حقوق انسانی کمشنر اورEU-HRCکو خطوط لکھ کر ان کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی جانب مبذول کروائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں